• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’منصف ہو تو پھر حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے‘‘

سب سے پہلے عنوان والا شعر ہی پورا کیوں نہ کرلیں تاکہ سند رہے اور وقت ِضرورت یعنی پانچ سات سو سال بعد کام آئے اور کئی نسلوں کے بعد کی کسی خوش نصیب نسل کو اندازہ ہو کہ اس شعر کی عملی صورت کیسی ہوتی ہے۔ مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گےمنصف ہو تو پھر حشر اٹھا کیوں نہیں دیتےلیکن میرا خیال ہے فضول قسم کی شعر وشاعری کو چھوڑ سیدھی سادی نثر کی طرف چلتے ہیں بلکہ نثر کو بھی گولی ماریں اور اس خبر کی طرف چلیں جس پر مجھے کیا کسی کو بھی یقین نہیں آرہا۔ لوگوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، منہ کھلے کے کھلے رہ گئے اور کان قوت ِ سماعت سے محروم لیکن اس ’’ام الخبر‘‘ یعنی خبروں کی ماں کو سلام کرنے سے پہلے مختصر سی تمہید ہو جائے تو خبر دوآتشہ بلکہ سہ آتشہ ہوجائے گی۔ مہذب اور معقول معاشروں میں انصاف نام کی ایک شے بھی پائی جاتی ہے۔ فرمایا ’’کفر پر قائم معاشرہ تو زندہ رہ سکتا ہے، ظلم پر قائم معاشرے زندہ نہیں رہ سکتے‘‘ اور ظلم انصاف کی ضد ہوتا ہے یعنی انصاف نہ ہونے کا مطلب ہی یہ ہوا کہ ظلم اپنے عروج پر ہے۔ دوسری طرف انصاف اور قانون کے درمیان آگ اور تپش جیسا رشتہ ہوتا ہے۔ انصاف نہ ملے تو قوانین کا ہمالیہ بھی پرکاہ جتنی حیثیت نہیں رکھتا اور قانون کیا ہوتاہے؟ Cicero نےکہا تھا..... "The welfare of the people is the highest law."William Pitt کی فہم و فراست کا نچوڑ صرف اتنا ہے۔"Where law ends, tyranny begins."ڈکشنری اٹھائیں "Tyranny" کے معنی دیکھیں اور پھر ایک نظر اپنے معاشرے پر ڈالیں..... ہاں یہی وہ معاشرہ ہے جس کے بار ےمیں کہا گیا تھا۔"The arm of the law needs a little more muscle."اور وہ کیسے معاشرے ہوتے ہیں جہاں قوانین پاس کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ طاقتور لوگ انہیں آسانی سے ’’بائی پاس‘‘ کرسکیں۔ یہ وہ معاشرے ہیں جو پلی بارگین سے شروع ہو کر پاناما تک پہنچتے ہیں اور ان کا زادِراہ ہوتا ہے کشکول، قرضے، بھیک، بھوک، ننگ، جہالت، لوٹ مار، بدامنی، تعصب، انتہاپسندی، دکھاوا، خوشامد، خودغرضی، شخصیت پرستی اور سب سے بڑھ کر ظلم اور نا انصافی لیکن ڈھٹائی ڈھول بجاتی ہے ’’یہ جمہوریت ہے‘‘ واقعی جو ہاتھ ہڈیاں، چھیچھڑے ڈالتے ہوں، انہیں کاٹنا نہیں باجماعت چومنا ضروری ہوتا ہے۔میں تو روز ِ اول سے ہی بیلٹ بوکس کے بھونڈے پن اور پولنگ بوتھ بکواس کو جمہوریت کی پیروڈی کہتا اور لکھتا آیا ہوں۔ بائیس برس پہلے کے کالم بھی کتابی شکل میں موجود ہیں جنہیں بوقت ِ ضرورت پیش کردیا جائے گا تاکہ جمہوری بزرگوں اور بچوں کو افاقہ ہو لیکن نہیں اس جمہور دشمن جمہوریت کو اس کے چھوٹے بڑے طفیلئے مخصوص عینکوں سے دیکھنے پر مجبور ہوں گے لیکن انصاف کی انتہا یعنی ہماری سپریم کورٹ میں اس بارے جو کہا گیا، من و عن پیش خدمت ہے اور یہی ہماری ’’جمہوریت‘‘ کا اصلی اور مکروہ چہرہ ہے جو سپریم کورٹ پر یلغار کے پروردہ گروہ کو دکھائی نہیں دے گا کہ یہ بھی اس ’’جمہوریت‘‘ کا حسن ہے جس کے متعلق کہا گیا۔ ’’ملک میں جمہوریت کے نام پر بادشاہت قائم ہے۔‘‘ ’’عوام نے اگر ایسے ہی لوگوں کو ووٹ دیئے تو پھر ایسا ہی ہوگا۔‘‘’’ملک میں گڈ گورننس کے نام پر بیڈ گورننس جاری ہے۔‘‘’’عوام کو اپنا نمائندہ منتخب کرنے کے لئے ووٹ دیتے ہوئے احتیاط کرنی چاہئے۔‘‘’’جمہوریت کے نام پر مذاق ہو رہا ہے۔‘‘ایک انگریز جج نے کہا تھا ’’جو لوگ ایسے لوگوں کو منتخب کرتے ہیں، انہیں پھر بھگتنا بھی چاہئے۔‘‘’’لاہور کو غنڈوں پر نہیں چھوڑ سکتے۔ ٹریک اِدھر اُدھر ہو جائے تو آسمان نہیں گرے گا۔‘‘’’اورنج ٹرین منصوبہ فرد ِ واحد کا نہیں۔‘‘’’عوام کو سلو پوائزن نہ دیا جائے۔‘‘دو انگریزی اخباروں کی سرخیاں بھی چکھ لیں۔"SC sees "Monarchy" running in Pakistan in garb or democracy.""Monarchy in name of democracy in Pakistan: CJP"قارئین!کیا میں نے اس آدم خورعوام دشمن جمہوریت کے بارے میں اس سے زیادہ کبھی کچھ لکھا؟ لیکن حرام انعام جب چربی کی صورت میں آنکھوں پر چڑھتا ہے تو دکھائی دینا بندہو جاتا ہے۔ منہ میں جاتی عمرے کی بھینسوں کے گھی کی چُوری ہو تو قصیدے ہی نکلتے ہیں لیکن کچھ باتوں سے مجھے اصولی طور پر اختلاف ہے مثلاً جمہوریت کے نام پر جو ’’جن جپھا‘‘ جاری ہے، وہ بادشاہت نہیں بادشاہت کی بھی غلیظ ترین قسم ہے کیونکہ بادشاہتوں میں عموماً سر دھڑ کی بازی کے بعد بہترین شہزادہ ہی تخت نشین ہوتا تھا جبکہ اس فراڈ میں کوئی چاہے تو فاتر العقل ترین کو دھن، دھونس، دھاندلی سے ’’منتخب‘‘ کروالے اور جہاں تک تعلق ہے اس بات کا کہ عوام کو سوچ سمجھ کر ووٹ دینا چاہئے تو حضور ! میرا تو دیرینہ ماتم ہی یہ ہے کہ انہوںنے 70 سال سے عوام کی مت مار رکھی ہے، عوام کو ’’سائیں‘‘ بنا رکھا ہےاور سوچنے کے قابل ہی نہیں چھوڑا جیسے بازو تو ہیں لیکن مفلوج، ٹانگیں تو ہیں لیکن پولیو زدہ۔ اسی طرح دماغ تو ہیں لیکن سُن اور سوئے ہوئے کیونکہ صرف تعلیم ہی دماغوں کو سوچنے کے قابل بناتی ہے۔ اسی لئے ایٹم بم سے اورنج ٹرین تک ٹھیک..... شرح خواندگی پر توجہ نہیں دینی تاکہ ’’شر‘‘کا کاروبار پھلتا پھولتا رہے۔کالم شروع بھی شعر سے ختم بھی شعر پر؎نوچتے رہتے ہیں اپنے ہی بدن کی بوٹیاںحاسدوں کو خود ہی اپنا میزباں بننا پڑا۔


.
تازہ ترین