• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بے زمین ہاری کا خواب سچا ہونے کی توقع ,,,,معیشت کی جھلکیاں…محمد احمدسبزواری

غالباً 1974ء کا ذکر ہے‘ ملک میں پی پی پی کی پہلی حکومت تھی‘ کراچی کے کارکنوں کے لئے ایجوکیشنل کیڈر کا اعلان ہوا‘ کمال اظفر کراچی کے چیئرمین تھے‘ میں گورنمنٹ سے ریٹائرہوکر کراچی یونیورسٹی کے ایک تحقیقی پروجیکٹ سے منسلک تھا‘ میں نے بھی کیڈر کی فیکلٹی میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی‘ مجھے انچارج صاحب سے ملنے کی ہدایت کی اور یوں میرا تعلق کیڈر سے ہوگیا‘ ہفتے میں ایک دن سہ پہر کو اس کے جلسے مزار قائد کے قریب پارٹی کے صدر دفتر میں ہوتے تھے۔ 30‘35 کی کلاس ہوجاتی تھی‘ پارٹی کے چند سینئر اصحاب برابر تشریف لاتے تھے‘ مرحوم ڈاکٹر ذکی حسن کے سوا اور کوئی میرا واقف کار نہ تھا‘ دو چار ہفتے کسی نے گھاس نہ ڈالی۔ جب 1972ء کی زرعی اصلاحات پر لیکچر دینے کا موقع آیا تو یہ ذمہ داری میرے سپرد ہوئی‘ اس پروگرام میں زمین کی تجدید کی گئی تھی 150 ایکڑ سیراب ہونے والی اور 300 ایکڑ بارانی زمین سے زائد ساری زمین بلامعاوضہ بحق سرکار ضبط کرلی گئی‘ گو اس میں بڑے زمینداروں نے اپنے بیٹوں‘ عزیزوں کے نام پر زمین بچالیں پھر بھی 32 لاکھ ایکڑ زمین حاصل ہوئی جس میں سے اس وقت تک 14 لاکھ ایکڑ ‘ ایک لاکھ سے زائد ہاریوں میں تقسیم کی جاچکی تھی‘ میں نے ایم مسعود (کھدرپوش) کی ہاری رپورٹ مسلم لیگ کی رپورٹ اور 1972ء کی اصلاحات پر بڑا تفصیلی مضمون پڑھا‘ جس کو سینئر اصحاب نے بہت پسند کیا اتفاق سے اسی وقت اظفر صاحب آگئے ان سے لوگوں نے تعریف کی وہ مجھے اپنے گھر لے گئے‘ کچھ تفصیلات اور جزئیات معلوم کیں اور مجھے پارٹی کاممبر بنالیا‘ بعد میں کیڈر کا برا حشر ہوا اور اس کو بھٹو صاحب کے خلاف سازش قرار دیا‘ کلاس کے دن دفتر بند کردیا جاتا تھا‘ ڈاکٹر مبشر حسن بھی تشریف لائے مگر مصالحت نہ ہوسکی‘ ایک صاحب نے میرا لیکچر اپنے نام سے چھپوادیا‘ اتفاق سے یہ واقعہ بھی رمضان میں پیش آیااور شام کو خداداد کالونی میں افطار پارٹی تھی‘ کچھ لوگوں نے اس سے بڑا فائدہ اٹھایا۔
یہ ساری باتیں مجھے 35 سال بعد سندھ گورنمنٹ کے اس عملی اقدام پر یاد آئیں جو اس نے مختلف اضلاع کی سرکاری اراضی کو بے زمین غریب ہاریوں ترجیحاًخواتین میں مفت تقسیم کرنے کا تاریخی اور انقلابی پروگرام ترتیب دیا ہے اور مختلف اضلاع کی زمینوں کا رقبہ برائے تفویض مع سروے اور یواے نمبر مع بلاک و دیہہ وار شائع کیا جارہا ہے ابھی کل رقبے کا پتہ نہیں لیکن خیرپور ضلع میں 34 ہزار ایکڑ کی موجودگی سے کل رقبہ تین سوا تین لاکھ ایکڑ تک ہوسکتا ہے‘ جس کے تحت 8 ایکڑ تک کی اراضی ایک بے زمین ہاری کو مل سکے گی۔
اس وقت ملک معاشی دلدل میں پھنس چکا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 9/ارب ڈالر سے کم ہوگئے ہیں بلکہ اسٹیٹ بینک کے پاس تو چار ارب ڈالر کے ذخائر ہیں‘ ڈالر78 روپے کے قریب پہنچ گیا ہے‘ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کو کافی نقصان پہنچ رہا ہے‘ دوسری طرف بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ کیا جارہا ہے‘ مہنگائی دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل سے گرکر 88 ڈالر ہوگئی ہے‘ ہمارے یہاں پیٹرول پر 5 روپے فی لیٹر کمی اور ڈیزل پر 3 روپے اور غریبوں کی روشنی کے واحد ذریعہ مٹی کے تیل پر ساڑھے تین روپے اضافہ کردیا گیا۔ اسٹیٹ بینک مزید قرض دینے سے پرہیز کررہا ہے۔ حکومت بڑھتے ہوئی اخراجات پر ایک طرف پابندی لگارہی ہے تو دوسری طرف قومی اثاثے فروخت کرنے کاارادہ کررہی ہے‘ جو کوئی اچھی تجویز نہیں۔ ان حالات میں اگر کہیں سے امید کی کوئی کرن آنے کی امید کی جاسکتی ہے تو وہ زراعت کا فراموش کردہ شعبہ ہے‘ زرعی شعبے کو محض چند غلات کپاس‘ کماد‘ پھلوں اور سبزیوں کی کاشت تک محدود سمجھا جاتا ہے حالانکہ فوڈ کاشت کے ذیلی شعبے میں بڑی وسعت ہے پھر مویشی پروری ‘ مرغ بانی‘ ماہی گیری‘ بن پروری اور آبپاشی اس کے اہم ذیلی شعبے ہیں۔ ٹیکسٹائل کی صنعت کا انحصار کپاس پر ‘ شکر کا کماد پر‘ خوردنی تیل کا روغنی بیجوں پر ‘ مویشی کا غذا کا چارے پر ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں ایسے خطہ ارض سے نوازا جو انمول نعمتوں سے مالا مال ہے‘ صدیوں سے یہ زمین سونا اگل رہی ہے‘ ہم سونے کے انڈے حاصل کرنے کے لئے انڈے دینے والے پرندوں ہی کو نشانہ بنا کر اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی ماررہے ہیں۔ اپنی غلطیوں کی سزا غذا کی قلت کی شکل میں بھگت رہے ہیں۔ چند دہائی پہلے ایک دیہاتی شاعر نے کہا تھا۔ ایک ناڑی پہ گزر کس طرح ہوئے صاحب‘ ایک میں‘ ایک ہے زن‘ ایک پسر 2/3 ‘ ناڑی کی جگہ ٹریکٹر نے لے لی‘ ایک پسر کے بجائے نصف درجن کی فوج موجود پھر بھلا گزر بسر کیسے ہو۔ اب تو وہ زمانہ ہے کہ جب گیہوں اورچاول کے ایک ایک دانے اور انگور اور کھجور کے ایک ایک پھل کو سونے چاندی کی ڈلیاں سمجھا جائے۔
حکومت سندھ کے مجوزہ اقدام سے (بشرط یہ کہ اس پر دیانت سے عمل ہو) کئی لاکھ ایکڑ اراضی زیر کاشت آجائے گی اگر اس کو ملک میں پھیلا دیا جائے تو دس بارہ لاکھ ایکڑ اراضی بآسانی حاصل ہوجائے گی‘ بے زمین ہاری اس پر دل و جان سے محنت کرے گا پیداوار بڑھے گی‘ بے روز گاری کم ہوگی‘ وڈیروں کا اثر گھٹے گا‘ ہاری کے بچے اسکول جانے لگیں گے دیہات سے شہروں کی طرف آبادی کا بہاؤ سست ہوجائے گا اور ملک میں سچ مچ انقلاب آجائے گا۔
ہمارے سندھ کے موجودہ وزیر اعلیٰ پہلے بھی وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں‘ ایک طویل عرصہ بغیر وزارت کے گزارا‘ حزب اختلاف میں بھی رہے‘ گرم و سرد سب دور دیکھے ہیں ویسے بھی وہ اندرون سندھ کے رہنے والے ہیں‘ دیہی زندگی‘ اس کی معاشرت اس کے رسم ورواج اور روایات ‘ ہاریوں سے صدیوں سے ہونے والے سلوک کا ان سے بہتر اندازہ اور کون کرسکتا ہے‘ میری ان سے لاہور میں ایک سرسری ملاقات ہوئی‘ اندازہ ہے کہ مخلص انسان ہیں‘ کام کرنے کی لو ہے‘ پھر بھی بطور یاد دہانی چند باتیں ان کی خدمت میں پیش ہیں:۔
-1 موجودہ پیشکش کا اعلان اردو اور سندھی کے اخباروں ہوا‘ جن بے زمین ہاریوں خصوصاً خواتین کے لئے یہ اسکیم بنائی گئی ہے ان میں شاید ہی کوئی نوشت و خواند سے واقف ہو یا اخباروں تک اس کی رسائی ہو‘ مناسب ہوگا قدیم زمانے کی ڈونڈ‘ ڈھنڈورا‘ منادی کا طریقہ اختیار کیا جائے۔
-2 ڈسٹرکٹ آفس سے فارم حاصل کرنا جوئے شیر سے کم نہیں ایک معمولی ہاری کے تو سرکاری دفتر کا نام سنتے ہی پسینے آجاتے ہیں‘ اگر ہمت کرکے پہنچ گیا تو قاصد یا نائب قاصد اس کو متعلقہ اہل کار سے بغیر مٹھی گرم کرائے ملنے دیگا اور کیا اہل کار صاحب خدا ترسی سے کام لیتے ہوئے فارم ہاری یا ہارن کو عطا کردینگے۔
-3 فارم کون بھرے گا‘ کہیں بھرنے والے صاحب ہی ڈنڈی مار کر اپنے کسی عزیز یا رشتہ دار کا نام نہ لکھ دیں اس ملک میں جہاں زکوٰة کی رقم اور ہزار روپے والے امدادی پیکج میں دھاندلی اور فوڈ سپورٹ پروگرام کے تحت جمع ہونے والی 3 لاکھ درخواستیں چھان بین کے بعد جعلی پائی جائیں وہاں کیا کچھ نہیں ہوسکتا۔
-4 مفوضہ اراضی پر کسی زبردست وڈیرے کا قبضہ ہوسکتا ہے لہٰذا ہاری /ہارن کو اراضی کا قبضہ دلانے کا اہتمام کیا جائے۔
-5 غریب ہاری کے پاس اس قدر سرمایہ کہاں کہ وہ ملنے والی زمین پر بلا کسی رقمی امداد کے کاشت کرسکے۔ حکومت کو ایک فنڈ قائم کرنا چاہئے یا کسی بینک سے ایسا انتظام کرنا چاہئے کہ جہاں سے اسے آسانی سے آسان شرائط پر قرض مل سکے‘ پہلے سال نہ تو سود لیا جائے اور نہ قسط ورنہ پھر وہ پرانے وڈیرہ وغیرہ سے مدد لے گا اور اپنی پیداوار اونے پونے اس کو فروخت کرنا پڑے گی۔
-6 پہلے سال مال گزاری‘ آبیانہ اور دوسرے محصولات معاف کردیئے جائیں۔ اس میں حکومت کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا کیوں کہ ابھی تو یہ آمدنی کا جزو قرار نہیں پائے۔
-7 دیہات اور خصوصاً چھوٹے کاشت کاروں کو یہ شکایت عام ہے کہ اچھے بیج کے بجائے دو نمبر بیج ملتا ہے اسی طرح جعلی کھاد‘ زرعی ادویات‘ مویشی کے ٹیکے عموماً جعلی ملتے یا پھر زیادہ قمیت دے کر بلیک سے حاصل ہوتے ہیں جیسے آج کل یوریا کی ایک بوری کی قیمت 630 روپے ہے بلیک میں یہ 800 سے ہزار تک ملتی ہے‘ ڈی اے پی کی قیمت تو آسمان سے باتیں کررہی ہے اگر حکومت ہر تعلقہ میں ایسے اسٹور کھول دے جہاں ان کو زرعی ”درحصل“ (Inputs) معقول قیمت پر مل جائیں اور ان کی نوعیت اور کیفیت میں کوئی لاک لپٹ نہ ہو تو ہر قسم کی پیداوار میں اضافہ یقینی ہوگا۔
-8 نو تفویض شدہ ہاریوں کو ترغیب دی جاسکتی ہے کہ وہ زمین پر ایک دو پھل دار درخت جیسے امرود یا شریفہ لگالیں۔ کم از کم ان کے بچوں کو چند سال بعد کھانے کو پھل تو مل جائیں گے۔
-9 وہ ہاری خوش قسمت ہوں گے جن کو 8 ایکڑ کا قطعہ مل جائے ایک دو سال بعد ان کو آمدنی بڑھانے کے لئے ایک آدھ گائے یا دو ایک بھیڑیں (بکریاں نہیں کہ وہ پودوں کو جڑ سے اکھاڑ لیتی ہیں) یا چند مرغیاں پال لیں۔ آج کل شہروں میں دیسی مرغی کے انڈے 96 یا سو روپے درجن فروخت ہورہے ہیں۔
-10 حکومت کو زرعی اجناس یا پیاز وغیرہ کی قیمت کاشت کے موسم سے قبل مقرر کرنا چاہئے تاکہ کاشت کاروں کو اس خاص فصل کی کاشت کی ترغیب ہو۔
-11 ڈائیریکٹوریٹ جنرل انجینئرنگ اینڈ واٹر مینجمنٹ سندھ کی جانب سے یہ خوش خبری سنائی گئی ہے کہ ان کو مشینی کاشت کے جدید آلات نصف قیمت پر مل سکیں گے۔ ظاہر ہے کہ مجوزہ اسکیم سے مستفیض ہونے والوں میں تو اتنی سکت نہیں کہ وہ اس پیشکش سے فائدہ اٹھاسکیں۔
-12 سب سے اہم ایسا نظام جو ان کو درمیانی ایجنٹوں ‘ دلالوں اور بڑی کمپنیوں کے کارندوں سے نجات دلاسکے‘ پچھلے دنوں ملک میں چاول کی مختلف اقسام 80 روپے سے 140 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہوئیں مگر کاشت کار کو اس کا نصف بھی نہ ملا۔ مندرجہ بالا تجاویز پر عمل کرنے سے چھوٹی کاشت کاروں کی زندگی میں انقلاب آجائے گا اور یہی عوامی حکومت کا مقصد ہے۔
تازہ ترین