وہ قومیں کبھی تباہی کا شکار نہیں ہوسکتیں جن میں موجود علماء حکمرانوں کے دربار میں اپنی قیمت نہیں لگواتے ورنہ جہاں”بھاؤ“ اور ”کھاؤ“ کے نعرے لگ رہے ہوں وہاں عہدے اور سودے کس کو پیارے نہیں لگتے…تاریخ کے اوراق آج بھی امام اعظم حضرت نعمان بن ثابت(ابو حنیفہ) کی ثابت قدمی، امامِ مدینہ حضرت مالک بن انس کی مدینے والے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث مبارکہ سے عقیدت و محبت، سفیرِ حرم امام محمد بن ادریس شافعی کی حصولِ علم کے لیے لگن اور سفیرِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امام احمد بن حنبل کی کیفیتِ عشق کے گواہ ہیں…اپنے اپنے وقتوں کے ابن ہبیرہ ، منصور، جعفر، خلیفہ مہدی، ہادی ، ابو العباس سفاح، ہارون رشید، مامون رشید، معتصم باللہ اور واثق جیسے”سابق حکمراں“بھی اپنے ارادوں میں سنگ و آہنگ جیسے مضبوط اِن آئمہ کرام کی گردنیں مسندِ اقتدار کے آگے نہیں جھکوا سکے کیونکہ سیم و زر کے انبارکبھی عالم کا پیار نہیں خرید سکتے، اِس راہ میں تو خود سپردگی کی قیمت پر سچے نفوس خریدے جاتے ہیں جن کے پیراہن کو معتصم باللہ کے مشیر خاص جیسے ”شاہ فیروز“ کی تمام تر خباثتیں مل کر بھی درباری غلاظت سے آلودہ نہیں کر سکتیں…میں جانتا ہوں کہ یہ دور بڑا کٹھن ہے ، پہلے جھوٹ کو سچ دکھانے کے لیے” لفظی مناظروں“ کے جال بچھائے جاتے تھے اب توناظر خود ہی منظر تخلیق کرتا ہے… مکر و فریب اور مفادات کے اِن سیاہ اورگھنے جنگلات میں خواہشات کا شکار کرنے والے کھلاڑی نہ جانے کس جھاڑی کے پیچھے گھات لگائے بیٹھے ہیں، بس عمر کے آخری کنارے تک سانس روک کر اور ایمان بچا کر چلنا ہی شرط ہے ، ہوسکتا ہے کہ بھٹک جاؤ، جیسے کہ کبھی میں بھٹک اور بہک گیا تھامگر روشنی کا تعین ضرور رکھنااور دل کے آنگن میں عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیا کبھی نہ بجھنے دینا، یہی تمہیں پلٹا دے گا اور ہر بھٹکے ہوئے کو منزل تک پہنچا دے گا…ندامت کی کھاڑیوں میں آنسوؤں کے قطرے تمہیں ہمیشہ سلامت رکھیں گے ا ور تم اپنے سامنے دنیاوی جاہ و حشم اور عنایات شاہیِ کو بربادورسوا ہوتے ہوئے ضروردیکھو گے …
نفسانفسی کی اِس گھڑی میں جہاں سب ہی کو اپنی پڑی ہے ، تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے64علمائے کرام نے آئمہ اربعہ اور امام جعفر صادق کی فکرِ حق گوئی کو اندھیاروں کے سامنے ایک چراغ کی طرح اِس طرح توانا رکھا کہ اپنی زبان سے علم و حکمت کا ایک بشار جاری کرتے ہوئے اراکین پارلیمینٹ سے درد مندانہ اپیل کی…64کا مفرد عددایک بنتا ہے یعنی یہ بھی کہا جاسکتاہے کہ سب”ایک“ ہو کر ”ایک آواز“ میں ”ایک“ ہی بات کہہ رہے ہیں کہ ”اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واسطے اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے پاکستان کو نازک صورت حال سے نکالو! اے قانون سازو!یہ ہماری جنگ نہیں!یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں، یہ تو دہشت گردی کے بدترین فروغ کی ایک خطرناک لہر ہے…طاقت کے نشے میں مست امریکی آقاؤں کے طیارے جب جی چاہتے ہیں قبائلی علاقوں پر بمباری کر کے بے گناہ جوانوں، بوڑھوں اور بچوں کے لہو سے اپنی پیاس بجھا لیتے ہیں اور ہم سوائے مذمت کے کوئی ہمت کر بھی نہیں سکتے…پہلے جامعہ حفصہ کے درودیوار لہولہان کیے جائیں، پھر ڈاکٹر عافیہ اور اُن جیسے سیکڑوں بے گناہ افراد کو ڈالروں کے عوض پکڑ پکڑ کر گوانتا نامو بے پہنچایا جائے، اُس عافیہ کے جسم سے جس کے سر سے آنچلِ عفت کبھی نہ اُترا ہو تلاشی اور سیکیوریٹی کے نام پر کپڑے اُتروائے جائیں،اُس کو ذہنی اور جسمانی طور پر ناکارہ بنایا جائے اور پھر بھی ہم اُن سے وفا کی امید رکھیں جو یہ جانتے ہی نہیں کہ وفا کیا ہے ؟!…ا ور پھر اِن مظالم کے ردعمل میں جب پاکستان میں ایک اور حرام فعل یعنی ”خود کش حملوں“ کا ارتکاب کیا جاتا ہے ، یا ہتھیار اٹھا کر اپنے ہی فوج کے سپاہیوں کے سینے چھلنی کیے جاتے ہیں توآنکھوں اور سماعتوں سے زبان یہی التجا کرتی ہے کاش یہ خونی منظر ہمیں دکھائی نہ دیتا، کاش اِس بار ایک نیا دھماکا سنائی نہ دیتا“…کوئی ذی ہوش، اسلام پسند اور دین سے ذرا سی بھی واقفیت رکھنے والا خود کش حملوں کو جائز نہیں قرار دے سکتا اور ایسا ہی اِن علما نے بھی کہا ہے مگراِن خود کش حملوں کا شباب اُن اسباب سے جڑا ہے جنہیں بہرحال ختم کرنا ہوگا،یہ وقت بے مصرف، کھوکھلی دلیلوں اور چوپاٹی میں خوشامدیوں کے جھرمٹ میں بیٹھ کر اپنی عقل کی سبیلوں سے خدشات کا پانی بہانے کا نہیں بلکہ جو پانی سر کے اوپر سے گذر چکا ہے اُس میں سے سر ابھار کے طوفان دیکھنے کا ہے…دیکھیے! اور آنکھیں کھو ل کر ہی دیکھیے کہ ملنے والی نعشیں اور پکڑے جانے والے دہشت گرد”غیر مختون“ ہیں، امریکی اور نیٹو فوج نے بھارتی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر اپنے گماشتے پاکستا ن میں چھوڑدیے ہیں، آخر ہم کیوں اپنے اِس ازلی و ابدی دشمن کو بھول جاتے ہیں؟ کیوں بھول جاتے ہیں کہ امریکا کے جوتے چاٹنے کے باوجودہمارے بدترین دشمن سے اُس کی بے مثال راہ و رسم، معاہدے اورملاقاتیں کوئی اور ہی داستان لکھنے جارہے ہیں، کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ اِس بدبخت نے نکاح کسی اور سے کیا ہے اور رخصتی کسی اور کے ساتھ کرنے کا خواہش مند ہے…اور پھر کیسے فراموش کردیں اِس کڑوی حقیقت کو کہ آسام، تامل ناڈو یا بھارتی پنجاب میں خود کش حملے کرنے والے کسی ”جنت“ کے لیے نہیں بلکہ مقاصد کے حصول کے لیے دہشت کے اِس خوفناک انداز کا سہارا لیتے ہیں، کیا خبر کہ اِس آسامی پربھی کچھ ”آسامیوں“ اور ”تامل ٹائیگرز“ کوخرید کر پاکستان کے مخصوص حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ خود کش حملے کیے جارہے ہوں کہ ایک طرف تو پاکستان آگ و خون میں جلے اوردوسری طرف اسلام کا نام بھی بدنام ہو…یہ لمحات ایک دوسرے پر الزمات لگا کر سینہ چوڑا کرنے کے نہیں بلکہ سلگتے انگاروں کو فہم و ادراک سے بجھانے اور ایک دوسرے کو سمجھانے بجھانے کے ہیں…میرا ماتھا تو اُسی وقت ٹھنک گیا تھا جب بھارت کے دارالحکومت دہلی میں تین متواتر دھماکوں کے ٹھیک11منٹ کے بعداُن کے ”آزاد میڈیا“ کی جانب سے اِس کا الزام پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی اور مسلمانوں پر عائد کیا گیا اور پھر48گھنٹے گذرتے ہی پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع میریٹ ہوٹل کو نعشوں سے پاٹ دیا گیا…یہی نہیں بلکہ دو دن کے بعد اِس کی ذمے داری ایک ایسی غیر معروف جہادی تنظیم قبول کر لیتی ہے جس کے پاس پاکستان کے تو کسی اخبار کے دفتر یا الیکٹرانک میڈیا سے رابطے کا نمبر تک موجود نہیں لیکن ”العربیہ “ کہاں واقع ہے اور رابطہ کیسے ممکن ہے، اِس کی بڑی خبر ہے …میں یہ نہیں کہتا کہ پاکستان میں ”اپنے “ ایسا نہیں کررہے ، یقینا کررہے ہیں اور حرام موت مررہے ہیں ،جس کے بارے میں گذشتہ روز متحدہ علما کونسل اور علما بورڈ نے بھی فتوے جاری کردیے ہیں مگرنہ جانے ہم کن وجوہات کی بنا پر تصویر کے اِس دوسرے رخ سے منہ موڑے بیٹھے ہیں اور اِس یقین پر پختہ ہیں کہ ”گویابھارت اور افغانستا ن ہمارے بڑے اچھے پڑوسی ہیں“
مکے میں حضرت زید بن ارقم کا ایک پڑوس بھارت کی سمت تھا جو ”عمرو بن ہشام یعنی ابوجہل“ کا گھر تھا اور دوسرا پڑوس افغانستان کی سمت تھا جو ”امیہ بن خلف“ کا گھر تھا،نہ وہ پڑوسی اچھے تھے نہ یہ پڑوسی بہتر ہیں۔
بہرکیف صورت حال نازک ہی نہیں گمبھیر اور خطرناک دوراہے پر کھڑی ہے ،ایک طرف کھائی اور دوسری طرف سمندر ہے ، ٹھنڈے دل و دماغ سے اب اہم فیصلے کرنے ہوں گے، پاکستان ، تِل تِل بکھر رہا ہے ،مایوسی، بے یقینی، خوف، کرپشن، عیاشانہ طرزِ زندگی، فحاشی و عریانی اور بدامنی کے لشکروں نے ایک ساتھ مل کر اِس پر حملہ کردیا ہے ، اِن حالات میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے جو 8نکاتی حل پیش کیا ہے اُس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے …مولانا محمد سرفراز خان صفدر، مولانا سلیم اللہ خان، ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مفتی محمد رفیع عثمانی، پروفیسر مفتی منیب الرحمن، مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا نعیم الرحمن، مولانا عبدالمالک، سید حافظ ریاض حسین نجفی، مولانا قاضی نیاز حسین نقوی، پیر امین الحسنات شاہ، مولانا عبدالرحمن سلفی، حافظ محمد سلفی، مولانا عبید اللہ، قاری حنیف جالندھری، مولانا انوار الحق، مفتی محمد، مولانا فدا الرحمن درخواستی، مولانا عبدالغفار، قاری ارشد عبید، مفتی محمد طیب، مولانا اسفندیار خان، مولانا محمد نذیر فاروقی، مولانا محمد بشیر، مولانا غلام الرحمن، قاری مہر اللہ ، مولانا عبدالباقی، علامہ سید عظمت علی شاہ ہمدانی، قاری عبدالرشید ہزاروی، مولانا تنویر الحق تھانوی، مولانا حکیم مظہر، مفتی محمد خالد میمن ، مولانا سلیم اور مولانا یوسف کرخی سمیت64علمائے کرام کے پیش کردہ 8نکاتی حل کے مطابق سب سے پہلے آزاد قبائل کے محب وطن اور پر امن مسلمانوں کی اکثریت پر بغیر پائلٹ کے طیاروں کی بمباری، میزائلوں کی بارش اور اندھا دھند فوجی کارروائیاں فوری طور پر بند کی جائیں، ملک بھر کے مختلف علاقوں سے ریاستی مشینری کے ہاتھوں اغوا کیے گئے اور ٹارچر سیلوں میں بند اور امریکا کے حوالے کیے گئے مظلوم مردوں، عورتوں اور بچوں کی باعزت رہائی کو یقینی بنایا جائے، ہر علاقے کے مقامی علما اور دین دار حضرات اور محب وطن عمائدین کو ساتھ ملا کر جرائم پیشہ اور ملک دشمن عناصر اور غیر ملکی ایجنٹوں کو پکڑا جائے اور اُن کو سرعام عبرتناک سزائیں دی جائیں، محب وطن اور پر امن باشندگان ملک اور ہتھیار اٹھانے والے نوجوانوں کے جو جائز مطالبات ہیں اُنہیں فوری طور پر خلوصِ دل سے اِس طرح پورا کیا جائے کہ لوگوں کو یہ اطمینان ہو کہ حکومت یہ کام محض وقت گذاری کے لیے نہیں کررہی بلکہ پوری سنجیدگی سے یہاں انصاف مہیا کر کے امن و امان قائم کرنے میں مخلص ہے ، اندرون ملک ہر طرح کی خلاف اسلام پالیسیوں اور اقدامات کا سلسلہ بند کیا جائے، غیر ملکی طاقتوں کی اطاعت و فرماں برداری کا رویہ ختم کر کے محب وطن عوام کو ساتھ ملایا جائے، اپنی موجودہ خارجہ پالیسی اور خصوصاً امریکا کے ساتھ کیے جانے والے ”تعاون بر خلاف دہشت گردی“ کے پر فریب اور شرمناک معاہدے سے جان چھڑانے کا محتاط راستہ جلد نکالا جائے اور جب تک افغانستان میں امریکی و نیٹو افواج موجود ہیں اورپاکستان اُن کے ساتھ معاہدے میں شریک ہے ، پاکستان میں امن و امان کی امید کرناخود فریبی کے مترادف ہے اور آخری نکتہ یہ کہ عدلیہ کو آزاداور بحال کیاجائے …ساتھ ہی ساتھ متحدہ علما کونسل کے ڈاکٹر سرفراز نعیمی، مفتی محمد خان قادری، انجینئر سلیم اللہ، مولانا محمد خان لغاری، فرید احمد پراچہ، قاری منیر احمد برکاتی سمیت دیگر معتبر علما اور امیر جماعت الدعوہ حافظ محمد سعید بھی مبارک باد کے مستحق ہیں کہ جنہوں نے پاکستان میں خود کش حملوں کو صریحاً حرام اور ناجائز قرار دیتے ہوئے علما سے کہا ہے کہ پاکستان کے تحفظ اور بقا کی ذمے داری کو صرف حکمرانوں، سیاست دانوں اور اراکین پارلیمینٹ کے حوالے کرکے اپنے آپ کو الگ نہ کیا جائے بلکہ علما بھی بھرپور کردار ادا کریں جبکہ گذشتہ روز میرے محترم صاحبزادہ فضل کریم نے بھی متحدہ علما بورڈ کے پلیٹ فارم سے خود کش حملوں کو حرام قرار دیا ہے …شاید کسی کو یاد نہ ہو مگر2005ء میں تنظیم مدارس اہل سنت پاکستان کے سربراہ پروفسیر مفتی منیب الرحمن کی آوازوہ پہلا احتجاج تھا جو خود کش حملوں کے خلاف بلند ہوا اورپھر اُن ہی کی قیادت میں تمام مکاتب فکر کے علما کرام نے آج سے تین برس پہلے ہی پاکستان میں ایسی تمام کارروائیوں کو حرام اور گناہِ کبیرہ قرار دے دیا تھا۔
اِن سطور کو تحریر کرنے کا مقصد سوائے اِس کے اور کچھ نہیں کہ الحمد للہ آج بھی ایسے علمائے حق موجود ہیں جو سچ کو سچ اور باطل کو باطل کہتے ہیں البتہ جن کو بہت زیادہ سوال کرنے کی عادت اور اپنی علمی قابلیت جھاڑنے کا خبط سوار رہتا ہے ، جو غلاظت کے چشمے پر منہ رکھے ہوئے کثیف پانی پی رہے ہیں اور جو ظلم و جہل کے ہاتھوں وقتاً فوقتاً علم کی آبروفروخت کرکے شاہ کے مصاحب بنے اللہ کی زمین پر اٹھلاتے اور اتراتے پھرتے ہیں اُن کے لیے تاریخ کے جھروکوں سے امام مدینہ امام ابو مالک بن انس کا یہ واقعہ ہدیے کے طور پر پیش کرنے کی جسارت کروں گا کہ خلیفہ منصور ایک بار امام مالک کی مجلس درس میں حاضر ہوا، امام نے منصور کی نشست کے لیے کوئی اہتمام نہیں کیااور نہ ہی آپ مسندِ درس سے اٹھ کر تعظیماً کھڑے ہوئے، منصور آیا اور حاضرین کے درمیان بیٹھ کر درسِ حدیث سنتا رہا، جب فقہ کے مسائل پر گفتگو کا آغاز ہواتو اُس نے بھی ایک عجیب و غریب سوال پوچھا اور امام سے فتویٰ طلب کیاکہ” اگر کسی کے لباس پر ایک مچھر کا خون لگ جائے تو وہ کپڑے ناپاک ہوں گے یا اُن کی پاکی برقرار رہے گی؟“امام نے حیرت سے منصور کی طرف دیکھا، پھر چند لمحوں تک کچھ سوچتے رہے، حاضرین مجلس پر ایک سکتہ طاری تھااور وہ اپنے امام کی لحظہ بہ لحظہ بدلتی ہوئی کیفیات کو بغور دیکھ رہے تھے یہاں تک کہ امام کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا اور آپ نے یہ تاریخی جواب دیاکہ ”جس کا لباس بے شمار بندگانِ خدا کے لہو سے سرخ ہو، وہ مجھ سے مچھر کے خون پر فتویٰ لینے آیا ہے “…!!!!