یہ دنیا کی تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں ان ہی کا شمار کیا جاتا ہے جن کے پاس سائنسدان، انجیئنرز کی تعداد سب سے زیادہ ہے جو ہروقت نئی ایجادات میں مصروف رہ کر ملک کے لیے جدید اجناس پہلے سے کم قیمت پر دریافت کرتے ہیں اور پھرانہیں برآمد کرکے ملکی آمدنی میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں لیکن ہمارے ہاں کیا کیا جارہا ہے کہ آئے دن سیاستدانوں کی تعداد میں تو اضافہ ہورہا ہے مگر جامعات میں سائنسی مضامین کی مختص نشستیں بھی پوری نہیں ہورہی ہیں ذرا غور کریں آبادی کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ جہاں فزکس، کیمسٹری اور حساب پڑھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہیئے وہاں نشستیں ہی خالی رہ جاتی ہیں اور سارے لگے ہوئے مینجمنٹ سائنس پڑھنے ۔ کوئی پوچھے کہ جب کچھ ایجاد ہی نہیں کررہے،۔ نئی پروڈکٹ ، مصنوعات مارکیٹ میں ہی نہیں آرہی تو کس چیز کا بزنس کروگے۔ کیا غیرملکی اجناس کو بڑے پیمانے پر درآمد کرکے ان کی فروخت کا بندوست کرنا بزنس ہے۔یااپنے ہی سائنسدانوں کی ایجاد کو برآمد کرنا اور دنیا میں ان کی مارکیٹ بنانا ۔جناب والا ہمیں سیاستدان کی نہیں سائنسدانوں کی ضرورت ہے یہ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ حب وطن پاکستانی کے دل کی آواز ہے ہماراوطن ہمارے بزرگوں کی انتھک محنت اور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ لیکن اس تحفے کی قدر نہیں کی جارہی ۔ قدرتی وسائل سے بھرپور اس ملک میں ان وسائل سے استفادہ نہیں کیاجارہاکیوں؟
وسائل سے مستفید ہونے کے لیے علم وجستجو اورتحقیق کی ضرورت ہے سائنس کے میدان میں آگے آنے کی ضرورت ہے لیکن ہمارے معاشرہ کا المیہ وہ مفاد پرست عناصر کا مضبوط اور طاقتور ہونا ہے جو اپنے مفادات کوپورا کرنے کے لیے سیاستدانوں کا روپ دھاکر ہر اس کوشش کو ناکامبنادیتے ہیں جو معاشرہ کی اصلاح اور تعلیم وترقی کے لیے کی جاتی ہے ۔تاریخ گواہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی پہچان ان کی کثیرالقوی کمپنیاں ہیں جن کا سالانہ تحقیق وٹیکنالوجی کا بجٹ پاکستان کے سالانہ بجٹ سےکئی گنازیادہ ہے کیا یہ ان کمپنیوں کی دنیا میں اجارہ داری سائنس وتحقیق کے ہوئے بغیر اربوں ڈالر کا خرچہ بلامصرف خرچ کرتےتو کیا یہ اس مقام تک پہنچ سکتی تھیں یقیناً نہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کمپنیوں نے اپنی اجارہ داری قائم کی ہوئی ہے تو صرف وصرف سائنسدانوںکی بدولت۔ زندگی کے کسی شعبہ کو دیکھ لیں سائنس وٹیکنالوجی کے بغیرترقی ممکن نہیں اگر ہمارے نوجوان اس حقیقت کو سمجھ لیں اور سیاست میں دل لگانے کے بجائے ان سیاسی رہنماؤں کو اپنا آئیڈیل سمجھنے کے بجائے ڈاکٹرعبدالقدیر خان، ڈاکٹر عبدالکلام، ڈاکٹرسلیم الزماں جیسے ہیرؤں کو اپنا آئیڈیل بنالیں ان کے جیسا بننے کی کوشش کریں تو وہ وقت دور نہیں کہ پاکستان دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں صف اول پر آجائے گا۔ وہ ملک جہاں دریاؤں، آبشاروں اور برف پوش پہاڑ موجود ہوں جہاں پانی وافرمقدار میں ضائع ہوجاتا ہو، کوئلہ کا دنیا میں دوسرا بڑاذخیرہ ہو، سورج 18 گھنٹے تک تمتما ہو، جہاں سال کے چاروں موسم وقت کی مناسبت سے آتے ہوں، وہاں بجلی کی قلت کوئی معنی رکھتی ہے توانائی کا بحران سب سے بڑا مسئلہ ہونا بڑی بے حسی اور شرمندگی کی بات ہے ۔ سیاستدان اس کا حل ڈھونڈنے کے لیے ملکوں ملکوں کشکول پھیلارہے ہیں۔ اور ملکی روپے کی قدرگرائے جارہے ہیں جبکہ ہمارے سائنسدان واضح طور پر انہیں باورکرارہے ہیں کہ ہماراساتھ دیتے تو پاکستان میں دوسوسال تک بجلی کاکوئی بحران نہ ہوگا۔ جب بجلی بلاتعطل میسر ہوگی تو کارخانے اورصنعتوں کی مشینری کا پہیہ جام نہ ہوگا۔ پیداوار اپنے وقت پر مارکیٹ میں آئیں گی تو روزگار میں اضافہ ہوگا اور یہ روزگار میں اضافہ کی پیداوار کی شرح نمو اضافہ کا سبب بننے گی۔ یہی وقت ہے کہ من الحیث قوم تعلیم پر توجہ دی جائے اور ملک میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے علم کو فروغ دیا جائے نئی نئی یونیورسٹی قائم کی جائیں والدین اپنے بچوں کو پیسہ کمانے کی مشین بنانے کے بجائے سائنس کے میدان میں آگے نکلنے کے لیے تیار کریں تاکہ ملک ترقی کرے ورنہ وہی ہوگا ایک طبقہ امیر ترین اور دوسرا غریب ترین ہوتا جائے گا اور یہ پیسے کی غیرمساویانہ تقسیم فرسٹریشن ، عدم برداشت اور غصہ کو جنم دیتی جائے گی جس کا نتیجہ قتل وغارت گری، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور خودکش بمبار کی صورت میں نکلے گا ملک میں پاکستانی کم اور ایسے لوگ زیادہ نظرآئیں گے جو ہر کوئی اپنے حق کی بات کرے گا اور فرائض کی آگاہی سے ناواقف رہے گا۔لیکن ان سب کا حل پرائمری سطح پر یکساں نصاب کا ہونا ہے کیونکہ طبقاتی تفریق کا آغاز پرائمری تعلیم کے ساتھ ہوجاتا ہے جب اسکول کا نام امیر اورغریب پاکستانی کی پہچان کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اورسرکاری اسکول میں پڑھنے والا بچہ اپنے آپ کو کمی کمین سمجھتا ہے۔ تمام ترقی یافتہ ممالک میں اسکول کا نصاب اور معیار یکساں ہوتا ہے پڑوسی ممالک انڈیا، سری لنکا اوربنگلہ دیش میں خواندگی کی شرح 90 سے 100فیصد ہے۔ اور وہاں صرف ایک بورڈ موجود ہے۔ ہماری طرح امیروں کے لیے کیمبرج سسٹم اور غریبوں کے لیے لوکل سسٹم نہیں ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب ساری سماجی تنظمیں اس نکتہ پر متفق ہوں اوریکساں تعلیمی معیار اور نصاب کے لیےمنظم کاوشیں کریں اور سائنس وٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستانی آگے ہوں۔