میں نے ایک جنونی دیکھا۔ اس نے مٹی کا مادھو ٹائپ ایک لڑکی سامنے بٹھائی ہوئی ہے اور خود پھدک پھدک کر انگارے اگل رہا تھا۔ پاکستان کی ریاست کو احمقانہ مشورے دے رہا تھا۔ انتہائی لغو، بیہودہ ، بے بنیاد، بے تکی لیکن ایسی جذباتی گفتگو جو ان پڑھ اور ان گھڑ لوگوں کو ”اپیل“ کر سکتی ہے۔ کچ پکے ذہنوں کو خراب کر سکتی ہے۔ اس قسم کے جھاگ چھوڑتے ہوئے ابنارمل قسم کے کھسکے ہوئے مسخ شدہ لوگوں کے ساتھ دلیل سے گفتگو تو ممکن نہیں۔ ہاں البتہ ان سے ایک سادہ سا سوال ضرور پوچھا جا سکتا ہے کہ اے مرد آتش و آہن اگر ”جنگجوئی“ ہی سوالوں کا جواب، مسائل کا حل، دکھوں کا علاج اور ہمارے زخموں کا مرہم ہے تو تم لوگوں کے بچوں کو بے موت مارے جانے کی ترغیب دینے کی بجائے خود لڑنے مرنے کیلئے روانگی کیوں نہیں ڈالتے؟ اپنے بچوں کو اس مقدس آگ کا ایندھن کیوں نہیں بناتے؟ اپنے چمپوؤں کو تو نے یوں سینت سینت اور سمیٹ سمیٹ کر سنبھالا ہوا ہے جیسے مرغی اپنے چوزوں کو پیروں میں لئے پھرتی ہے اور لوگوں کے بچوں کو برین واشنگ کر رہے ہو۔
ہمارا ہم سے بڑا دشمن کوئی نہیں۔ میں نے چند روز پہلے بھی یہ عرض کیا تھا کہ ”طاقت“ اور ”دولت“ کی منصفانہ تقسیم ہی اصل بات ہے جبکہ پورے عالم اسلام میں ان دونوں حوالوں سے خود کشیانہ عمل کے علاوہ کچھ نہیں۔ خود پاکستان طاقت اور دولت کے مکروہ ترین ارتکاز کی بھیانک ترین مثال ہے۔ انہی دولعنتوں کی وجہ سے علم، عقل، استدلال، اختراع، ایجاد، تخلیق ، تحقیق و تعمیر کا بھی قحط ہے۔ دولت اور طاقت ایک فیصد سے بھی کم ہاتھوں میں سمیٹنے کے بعد باقی سب تو انسانیت کی سطح سے پھسل کر "Sub Men"ہی رہ جاتے ہیں۔
اسی المیہ کی ایک زہریلی شاخ یہ کہ ہمارے شہہ دماغ بھی ہولناک گلوبل حقائق سے واقف نہیں۔ انہیں بھی غزہ، بغداد، کابل اور کشمیر سے آگے کچھ دکھائی نہیں دیتا حالانکہ حقیقتیں ان سے کہیں زیادہ زہریلی اور خطرناک ہیں۔ ملکوں کو فزیکل قبضوں سے تو چھڑایا جا سکتا ہے لیکن اس قبضہ کا کیا حل کہ ”اغیار“ پوری دنیا کو اپنی ”مالیاتی کالونی“ میں تبدیل کر چکے؟
کیا ان نوحہ گروں کو اندازہ ہے کہ ا یسٹ انڈیا کمپنی بہادر سے لاکھوں گنا طاقتور کمپنیاں دنیا بھر کی خوراک سے لیکر دواؤں تک پر مکمل مناپلی یعنی اجارہ داری حاصل کرنے کے لئے کیا کچھ کر چکی ہیں؟ کیا کچھ کر رہی ہیں اور کیا کچھ کرنے والی ہیں؟ اور ان کا یہ شیطانی منصوبہ کس حد تک کامیاب بھی ہو چکا ہے اور ماہرین کے مطابق وہ دن دور نہیں جب پینے والے پانی کے ہر قطرے اور خوراک کے ہر لقمے پر ان کی مہر ہوگی۔
ایسٹ انڈیا کمپنی جیسی کمپنیوں کا ”جن جپھا“ بہت سادہ تھا جبکہ جدید ایسٹ انڈیا کمپنیوں کی واردات اتنی باریک، پیچیدہ اور سائنٹفک ہے کہ عام آدمی کیا کوئی پڑھا لکھا بھی سمجھنا چاہے تو اس کا سر گھوم جائے۔ مقصد اپنے قارئین کو بور کرنا نہیں صرف یہ کہناہے کہ حریفوں کے جن مظالم اور زیادتیوں پر ہماری نظر ہے … اصل ٹریجڈی اور واردات ان سے کہیں زیادہ گھمبیر ہے لیکن ہم لوگ آج بھی سرف کے ساتھ دانت صاف کر رہے ہیں۔
اپنے گریبان میں جھانک کر اس تماشہ نما معاشرہ کو تبدیل کرو جس میں ایک گروہ پرندوں کو پکڑ کر پنجروں میں قید کر کے پیٹ بھرتا اور دوسرا گروہ پیسوں کے عوض ان پرندوں کو رہا کر کے ثواب حاصل کرتا ہے۔ شاید واحد ملک ہے جہاں بجلی، گیس پانی کی سپلائی نہیں لیکن بلوں کی ترسیل زور و شور سے جاری ہے۔ دوسری طرف حال یہ ہے کہ آپ کسی بھی لائبریری میں چلے جائیں وہاں آپ فزکس، کیمسٹری، فزیالوجی، جیالوجی، اناٹومی، بیالوجی غرضیکہ تمام جدید علوم پر مغربی ممالک کی طبع شدہ کتابیں دیکھیں گے۔ پھر ہر کتاب کے آخر پر ریفرینسز دیکھیں جس میں مذکورہ علوم پر تحقیق کرنے والوں کے نام ہوتے ہیں۔ وہاں آپ کو ”کمار“ اور ”سنگھ“ تو بہت نظر آئیں گے اپنے ہم نام دور دور تک دکھائی نہیں دیتے۔ یہی ہماری روایت ہے کہ جب دلی کی گلیوں میں بانکے منہ میں پان کی گلوری دابے محبوبہ کی اناٹومی میں گم قرض کی مے پی کر ایک دوسرے پر ادبی بمباری کر رہے تھے تو کچھ لوگ اس وقت پنسلین، سٹریپومائی سین بنا رہے تھے اور دنیا سے ہیضہ، تپدق، خناق اور پولیو کے خاتمہ پر کام کر رہے تھے اور بقول ہمارے دوست ڈاکٹر شوکت ان کی نظریں سمندر کی گہرائیوں سے لے کر ہمالیہ کی اونچائیوں پر جمی تھیں۔
مختصراً یہ کہ پچھلے دنوں میں نے ایک جنونی دیکھا جو مٹی کا مادھو ٹائپ اک لڑکی کو سامنے بٹھا کر آگ اگل رہا تھا۔ مملکت خداداد کو بے بنیاد بیہودہ مشورے دیتے ہوئے ہوا میں ریت کے قلعے تعمیر کر رہا تھا۔