• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مرا یار بنا ہے دولہا.....چوراہا…حسن نثار

کچھ لوگ صرف ”آج“ میں زندہ رہتے ہیں، کچھ صرف آنے والے کل کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں جبکہ ناسیٹلجیا کے کچھ مریضوں کازیادہ تر وقت ماضی میں گزرتا ہے اور تینوں زمانوں میں زندہ رہنے والے لوگ لاکھوں میں ایک ہوتے ہیں جبکہ میں ذاتی طور پر زیادہ تر ماضی میں ہی رہتاہوں۔ پرانے دوست، پرانے گیت، پرانی بلیک اینڈ وائٹ فلمیں، پرانے کھانے، پرانے مشروب، پرانی باتیں، پرانی رسمیں، پرانی رہتل، پرانے دروازے، پرانا فرنیچر، پرانی تصویریں۔ مختصراً یہ کہ جو جتنا پرانا ہوگا… مجھے اتنا ہی پیارا لگے گا اور پچھلے دنوں بہار پر بہار یوں رہی کہ پے درپے پرانے دوستوں کے ساتھ مسلسل ملاقاتوں کا سلسلہ رہا۔ انور چودھری کی طرف جہانگیر بدر، مختار چودھری، جہانگیر مرزا، حسنی شاہ اور جاوید قریشی کے ساتھ لمبا سیشن کسی ٹانک سے کم نہ تھا۔ اسی سیشن میں یہ خوشخبری سنی کہ جاوید قریشی کے بیٹے کی شادی ہے۔ جاوید قریشی بطور جج ریٹائر ہوا جو حلقہ ٴ یاراں میں جاوید ککڑ کے نام سے مشہور ہے کیونکہ ہمارا دوسرا جاوید… جاوید گتہ ہے۔ جاوید ککڑ کا پس منظر یہ کہ یونیورسٹی کی کسی جمی جمائی تقریب میں جاوید مرغے کی آواز نکال کر چشم زدن میں تقریب کو درہم برہم کردیتا سو جاوید ککڑ مشہور ہوگیا اور یہ ”شہرت“ آج تک قائم ہے۔
جاوید کے بیٹے کی شادی پر مدتوں بعد یوسف ہونڈا اور اصغر رضا گردیزی سے ملاقات ہوئی جسے دوست پیار سے اچھو گردیزی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ یہیں جہانگیر بدر، جاوید گتہ، افضل قصوریا، عنایت جیالوجی، مسعود داڑھو، طارق چڑی، غلام عباس، مختار چودھری اور رجب علی تپافی المعروف فوکر بھی رونق افروز تھا۔ رات گئے میرے گھر چودھری غلام عباس، جاویدگتہ، مسعود داڑھو اور رجب علی تپافی اکٹھے ہوئے تو اچانک کینیڈا سے حفیظ خان کا فون آگیا۔ رجب تپافی نے بے ساختہ کہا… ”یار! مجھے حفیظ خان کی آوازتو سنوا دو“… باری باری سب سے بات ہوئی تو حفیظ خان نے چند دنوں کے اندر اندر پاکستان آمد کی خوشخبری سنائی کہ خان جب بھی آتا ہے نیوکیمپس کا پرانا خاندان اکثر اکٹھا ہو جاتا ہے۔ رجب تپافی رات گئے تک گنگناتا رہا۔
”آیا ہے مجھے پھر یاد وہ ظالم گزرا زمانہ ”کیمپس“ کا
اس رات ہم نے جی بھر کر ہیروں اور جواہرات کو یاد کیا جو موت ہم سے چرا کر، چھین کر لے گئے۔ سات فٹ کا یوسف شنواری ڈگلو، بیوقوفی کی حد تک مخلص اعجاز بائی گاڈ،
معصوم شرارتی امتیاز تاجی جو اکثرگایا کرتا …”جب کوئی پیار سے بلائے گا تم کو امتیاز یاد آئے گا“ ہینڈسم خواجہ سلیم، جان محفل راشد بٹ، جنم جنم کا خانہ بدوش مقبول ملک اور ن م راشد صاحب کا بیٹا شہریار راشد جسے دوست ماسٹرکہتے تھے کیونکہ وہ جوڈو، کراٹے، کنگفو میں امریکہ سے بلیک بیلٹ لے کر آیا تھا اور نیوکیمپس کے مرغزاروں میں یاروں کو مارشل آرٹس سکھایا کرتا۔ ”ماسٹر“ فارن سروس میں گیا اور پھر بھری جوانی میں بھریا میلہ چھوڑ گیا۔ ”مل وکدا سجن مل جاوے تے لے لواں میں جند ویچ کے“ یعنی… سجن قیمتاً ملتا نظر آ جائے تو اپنی جان کے عوض بھی خرید لوں۔ اس کے بعد اصل دھماکہ اس وقت ہوا جب خبر آئی کہ 9اپریل کو مجاہد کامران… ڈاکٹر مجاہد کامران… دوستوں کے مجن شاہ اور پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا ولیمہ ہے۔ بہت ہی ”انسپائرنگ“ قسم کا دعوت نامہ تھا جسے اپنی بیگم سے چھپاتے ہوئے میں نے بچپن کے دوست اور دعوت نامہ کے "RSVP" مجید قریشی سے تصدیق چاہی تو اس نے فون پر شرماتے ہوئے کہا… ”بات تو سچ ہے مگر …“ عجیب بات ہے یا شاید ہندوؤں کے ساتھ صدیوں رہنے کا منفی اثر کہ دوسری شادی پر عمومی ری ایکشن صحت مند نہیں ہوتا اور ہماری خواتین جو مردوں کی نسبت زیادہ مذہبی ہوتی ہیں، اس معاملہ میں نجانے بھول جاتی ہیں کہ اگر کوئی انصاف کے ساتھ کرسکتا ہے تو دوسری کیا… تیسری بلکہ چوتھی میں بھی کوئی برائی نہیں۔ ہائے یہ ڈبل سٹینڈرڈز کا مارامعاشرہ لیکن مجاہد کامران جیسے باغی اور جنگجو کب کسی کوخاطر میں لاتے ہیں… مختصراً یہ کہ میں بھی 9 اپریل کو شوخ رنگ کا کرتہ پہن کر ”جائے واردات“ پر پہنچ گیا تاکہ دولہا میاں کے ساتھ مل کر گاسکوں کہ… ”ابھی تو میں جوان ہوں“ دولہا میاں سوٹ میں خاصے ہینڈسم لگ رہے تھے اور قریبی دوستوں کا گروپ ایک گول میز کے گرد اپنی بزدلی پر سوگوار بیٹھا تھا جس میں سرفہرست سید صفدر جاوید اور حفیظ اللہ نیازی تھے۔ انہی کی قیادت میں سنیٹر پرویز رشید، راجہ انور المعروف جھوٹے روپ کے درشن، جاوید ککڑ، مسعود داڑھو اور لیاقت بلوچ مجاہد کے مجاہدانہ اور اپنی اپنی بزدلانہ پرفارمنس پر غور کر رہے تھے… احسن اختر ناز، ڈاکٹر شفیق جالندھری، ڈاکٹر مغیث کے جذبات بارے کہنا کچھ مشکل ہے کیونکہ وہ کسی دور کی میز کے گرد سرجوڑے بیٹھے تھے۔ مجاہد کامران نے جب بھابی جونیئر کے ساتھ ملوایا تو میں نے مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ خبر ملتے ہی میرے منہ سے نکلا تھا: ”میرا یار بنا ہے دولہا اور پھول کھلے ہیں دل کے“ خوبصورت جوڑا مسکرایا تو میں نے پوچھا کہ کیا آپ دونوں کو اس گیت کا اگلا مصرعہ معلوم ہے؟ دونوں نے نفی میں سرہلایا تو میں نے عرض کیا: ”میری بھی شادی ہو جائے دعا کرو سب مل کے“ خدا کرے ”قانون“ او ر ”فزکس“ کے اس ملاپ سے خوبصورت شاعری جنم لے اور دونوں بلکہ تینوں (بھابی سینئر سمیت) پرسکون زندگی گزاریں اور قارئین گیت کے دوسرے مصرعہ پر غورفرمائیں یعنی…
تازہ ترین