پہلی بات تو یہ کہ معذرت قبول فرمائیں کہ میں قسط وار کالم میں بھی ناغے کر رہا ہوں لیکن پھر وہی بات کہ ”ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا“ بلکہ ہے۔ رت جگے منانے ہوں تو دن کے تقاضے پورے کرنا ممکن نہیں رہتا۔ ویسے کوشش کروں گا کہ اس تکلیف دہ موضوع کو اس قسط میں لپیٹ دوں جو میرے لئے بھڑوں کا چھتہ بن گیا ہے۔
دوسری بات یہ کہ ہمیں ان شتر مرغ نما انسانوں کو چھوت کے مریض سمجھنا چاہئے جو طوفان کو دیکھ کر غور و فکر کا سامان کرنے کی بجائے جہالت اور جھوٹی وطن دوستی کی ریت میں سر چھپانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ان کے سروں میں بھس اور بغض کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ زمینی حقائق اور نوشہ دیوار تو دور کی بات کنوئیں کے یہ مینڈک مختلف مفروضوں اور امکانات پر گفتگو سے بھی گریز کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں ایسے بے نسل آوارہ کبوتروں سے بھی تشبیہ دی جا سکتی ہے جو بلیاں تو کیا بھیڑیوں کے غول دیکھ کر بھی آنکھوں کو موند کر اپنے ساتھ دوسروں کو بھی یہی سبق دتے ہیں اور مشرقی پاکستان جیسا بھیانک سبق بھی بھول چکے ہیں۔ انہیں آئینہ دکھایا جائے تو دکھانے والوں کو مایوسی پھیلانے کا طعنہ دیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے کرتوں دھرتوں نے گزشتہ 61 سال میں مایوسی پھیلانے کے علاوہ اور کچھ کیا ہے تو بدبو پھیلائی ہے اور یہ لوگ خود اسی مایوسی اور بدبو کا غلیظ ترین امتزاج ہیں۔ آج کل تقریباً ہر محفل میں ایک آدھ ایسا چغد یا چمپو ضرور پایا جاتا ہے۔ چند روز قبل ممتاز قانون دان چوہدری فواد اور پرسوں شب برادرم احسان اللہ وقاص کے ڈنر پر ایسے چند لنڈے کے امید پرست نظر آئے تو اسی وقت طے کر لیا کہ پہلی فرصت میں اپنے قارئین کے ساتھ یہ چیچک زدہ ذہنیت ”شیئر“ کرتے ہوئے عرض کروں گا کہ پاکستان ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا کہ ہم میں سے ہر کسی کو پورے ہوش و حواس، بے رحمانہ غیر جانبداری، بلا کسی تعصب اور جذباتیت کے ہر زمینی حقیقت خواہ وہ کتنی ہی کڑوی یا زہریلی کیوں نہ ہو پر گہری نظر رکھنا ہو گی تو دوسری طرف ہر امکان کو زیر بحث لانا ہو گا کیونکہ موجودہ دور میں کسی بھی بات کو ”منحوس“ کہہ کر گزر جانے کا کارنامہ کوئی دولے شاہ کا چوہا ہی سرانجام دے سکتا ہے۔ مشرقی پاکستان کے سانحہ میں بھی اصل مکروہ کردار اسی قسم کے ذہنیت و تربیت کا تھا کیونکہ ہر تکلیف، مسئلہ، مرض کا علاج ڈھونڈا جا سکتا ہے بشرطیکہ اسے حقیقت سمجھ کر اس پر غور کیا اور سمجھا جائے لیکن اگر آپ اپنا مرض ہی کھل کر ڈسکس کرنے کو تیار نہیں تو اچھے سے اچھا معالج بھی کیا توپ چلا لے گا؟ رہ گئی مایوسی تو اس قسم کا کوئی ”ہنچ بیک آف نوٹرے ڈیم“ مجھے بتائے کہ اس معاشرہ میں کس شعبہ حیات، پیشے یا ادارے کی طرف سے کوئی ٹھنڈی ہوا آ رہی ہے؟ اچھی پرفارمنس کے لئے لازمی اور بنیادی شرط ہے کہ آپ سب سے پہلے اپنی غیر ذمہ دارانہ اور بری کارکرگی کا غیر مشروط اعلان و اعتراف کریں۔ ملک کی خود مختاری سے لے کر اندرون ملک حکومتی رٹ تک … جمہوریت کی ”جکسا پزل“ سے لے کر معیشت کے دھڑن تختہ تک، شرح خواندگی سے لے کر تباہ کن رفتار سے بڑھتی ہوئی آبادی تک، طالبان سے لے کر بکے ہوئے کمرہ امتحان میں جعلی امیدواروں تک، کالی سے لے کر کاری جیسے ”کلچر“ تک، خود کش بمباروں سے لے کر بھوک کے باعث خود کشی پر مجبور بیچاروں تک، مہنگائی سے لے کر کشکول اور قدم قدم پر جگ ہنسائی تک کتنے ”سورج“ ہیں جن سے پھوٹتی ہوئی ”امید کی کرنیں“ ہمیں نڈھال کر دینے والی ”عظیم توانائی“ فراہم رہی ہیں۔ لعنت ہو ایسی ذہنیت پر جنہیں پورس کی طرح باوقار طریقے سے سر اٹھا کر ہارنا بھی نہیں آتا۔ پچھلے دنوں ہمارا وزیر خارجہ ”فرینڈز آف پاکستان“ سے ملنے والی مدد کے وعدوں پر چہک چہک ڈائیلاگ بول رہا تھا جب بے اختیار اک غزل کا نزول ہوا جس کا مطلع پیش خدمت ہے۔
میری قسمت میں کیا خرابی ہے
بھیک ملنا ہی کامیابی ہے
ایسے حالات میں بھی جو SUBMEN ٹائپ مخلوق اپنے غلیظ گریبانوں میں جھانکنے پر آمادہ نہیں… ان کے لئے تاریخ کا ارادہ اور فیصلہ جاننے کے لئے کسی جادوگری کی نہیں صرف کامن سینس کی ضرورت ہے۔ اب چلتے ہیں اپنے موضوع کی طرف جس کا اوپر والی تمہید کے ساتھ بھی گہرا تعلق ہے۔ سید مودودی مرحوم و مغفور کی ”بناؤ اور بگاڑ تھیوری“ کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کائنات، اس دھرتی کے خالق و مالک و رازق نے کسی قوم کو اس کا ٹھیکہ نہیں دے رکھا۔ جو قوم اس کرہ ارض پر بناؤ زیادہ اور بگاڑ کم کرے گی … اسے اس کرہ ارض کی قیادت سونپ دی جائے گی اور جو قوم یہاں بگاڑ زیادہ اور بناؤ کم کرے گی انہیں ”ڈسمس“ یا ”سسپنڈ“ کر دیا جائے۔ کرہ ارض اور اس پر بسنے والوں کے لئے پچھلی چند صدیوں میں ہمارے حریفوں نے بنی نوع کے لئے کیا کچھ کیا؟ اس کی تفصیل ہماری طویل نیند سے کہیں لمبی ہے۔ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے لے کر دوسرے اقتصادی، معاشرتی، سیاسی و سماجی سسٹمز کی شکل میں کیا کچھ کونٹری بیوٹ کیا؟ وہ ”بناؤ“ کی بے حد خوبصورت داستان ہے جس میں بگاڑ بھی ضرور ہے لیکن بہت کم … دوسری طرف ہم نے گزشتہ چند صدیوں میں بنی نوع انسان کو کون سے تحفے دیئے ؟؟؟ طالبان ؟؟؟
میرا تو یہ جزو ایمان سمجھیں کہ ہمارے ہر مرض اور مسئلہ کا قطعاً کوئی حل نہیں … کوئی شارٹ کٹ نہیں… کوئی نسخہ یا فارمولا نہیں سوائے اس کے کہ مسلمان اپنی کھوئی ہوئی میراث یعنی علم … حصول علم کی طرف لوٹ جائیں اور علم کے مجاہد مسافروں کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔ اس دنیا میں مرنا بہت آسان جبکہ زندہ رہنا باوقار طریقہ سے زندہ رہنا ہی اصل اور مشکل کام ہے۔
سائنس کی تو لغوی تعریف ہی ”علم“ یعنی جاننا ہے۔
"The Study Of Structure Behavior Of Physical, Natural World & Society Thorugh Observation & Experiment Is Called Science"
قرآن میں کہاں کہاں اس کا حکم نہیں؟ تو یہ تو کام ہی مسلمانوں کا ہوا کہ خالق کی تخلیق پر غور و فکر کرنا بھی عبادت ہے۔ مسلمان ہم ہیں… کئی معنوں
میں مسلمانی وہ دکھا رہے ہیں یعنی زوال اسلام پر نہیں مسلمانوں پر ہے جو پیغام کو سمجھ نہیں پا رہے۔ قابل فخر مسلمان نوبل انعام یافتہ پروفیسر احمد زوئیل کا کہنا ہے کہ … ”قرآن میں سائینسدانوں کو ولیوں جیسا رتبہ دیا گیا“ اور یہاں ؟؟؟ دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ!