• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بیت اللہ محسود کون ہے؟....رحیم اللہ یوسف زئی

بیت اللہ محسود حکومت پاکستان کو انتہائی مطلوب ہے، جس کی گرفتاری کے لئے بہت بڑی تعداد میں فوجی قوت نیز مخبروں اور جاسوسوں کا ایک وسیع و عریض جال بچھایا گیا ہے، تاہم اسے بھی کافی و شافی نہیں سمجھا گیا، چنانچہ اب امریکہ نے بھی بیت اللہ محسود کے سر کی قیمت پانچ ملین ڈالر مقرر کردی ہے اور اس کے ٹھکانوں پر حملوں کی غرض سے جنوبی وزیرستان میں میزائل بردار ڈرون طیارے ہر وقت محو پرواز رہتے ہیں۔ بیت اللہ محسود کی عمر کوئی چالیس برس کے لگ بھگ ہو گی، لیکن اب تک وہ خود کو بچانے میں بڑی حد تک کامیاب رہا ہے۔ پہلے وہ 1980ء کی دہائی میں افغان مجاہدین کی جانب سے روس کی افغانستان پر فوجی یلغار کے خلاف نبرد آزما رہا، جس کے بعد 1990ء میں اس نے طالبان ملیشیا میں شمولیت اختیار کر لی تاکہ کابل کے علاوہ افغانستان کے دیگر صوبوں پر بھی قبضہ کیا جا سکے۔ 2001ء میں جب افغانستان میں طالبان حکومت کا خاتمہ ہوگیا تو وہ اپنے آبائی علاقے جنوبی وزیرستان لوٹ آیا۔ یہاں آنے کے بعد اس نے پاکستانی طالبان کو منظم کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ 2004-2005ء کے دوران وہ پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف برسرپیکار رہا اور بالآخر انہیں مجبور کردیا کہ وہ بیت اللہ محسود کے ساتھ ” معاہدئہ امن “ کے لئے آمادہ ہوجائیں چنانچہ فروری 2005ء میں یہ معاہدئہ امن وجود میں آیا۔ اس کے علاوہ حکومت پاکستان نے غیر اعلانیہ طور پر اپریل 2008ء میں بیت اللہ محسود کے ساتھ اس وقت ایک اور امن کا معاہدہ کیا، جب اس کے خلاف کیا جانے والا فوجی آپریشن ایک مرتبہ پھر ناکامی سے دوچار ہوچکا تھا۔ ان دنوں بھی پاکستان کی مسلح افواج بیت اللہ محسود کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کر رہی ہیں، تاہم اس مرتبہ فوجی آپریشن کا دائرہ بے حد وسیع ہے اور ملٹری کمانڈ نے اس عزم کا بھی اظہار کیا ہے کہ اس فوجی آپریشن کو بہرقیمت اور بہر صورت جاری رکھا جائے گا۔ اس سلسلے میں پاکستانی اور امریکی افواج کے مابین خاصا تعاون موجود ہے اور امریکی افواج انٹیلی جنس کے شعبے میں پاکستانی افواج کو مطلوبہ معلومات فراہم کر رہی ہیں، جن کے نتیجے میں ڈرون طیاروں کے ذریعے بیت اللہ محسود کے ٹھکانوں کو حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس تعاون کے نتیجے میں اب تک دو بار جنوبی وزیرستان میں محسود قبائل کے ٹھکانوں پر حملے کئے جا چکے ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ مسلح افواج حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر کوشش کر رہی ہیں کہ بیت اللہ محسود کو کمزور کرنے کی غرض سے اس کی تنظیم تحریک طالبان پاکستان کو دو دھڑوں میں تقسیم کردیا جائے اور محسود قبیلے پر مشتمل ایک دوسرا مخالف گروپ تشکیل دیا جائے، جو جنوبی وزیرستان میں کارروائی کرے۔ اس نو تشکیل گروپ کو حکومت کی جانب سے خاصی حمایت اور تعاون فراہم کیا گیا ہے، لیکن حال ہی میں اس گروپ کے کمانڈر قاری زین الدین محسود کے قتل نے حکومت کی ان تمام کوششوں پر پانی پھیر دیا ہے۔
بیت اللہ محسود دینی مدارس کا فارغ التحصیل ہے۔ اس کے والد مسجد کے پیش امام تھے۔ اس کا خاندان کسی نمایاں سماجی مرتبے کا حامل نہیں ہے۔ وہ جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے لکی مروت میں پیدا ہوا تھا، جہاں وہ افغانستان سے لوٹ کر آیا تھا اور اب اس کی حیثیت ایک جنگجو کی تھی۔ بیت اللہ محسود مشہور امریکی ہفت روزے ” ٹائم “ کے مطابق 2009ء کی فہرست میں شامل دنیا کے غیر معمولی اثر و رسوخ کے حامل سو افراد میں سے ایک ہے۔ یہ واقعہ بلاشبہ افواج پاکستان اور حکومت دونوں کے لئے باعث تشویش ہے۔ ملک کے اندر کارروائی کرنے والے بیشتر خودکش بمبار بیت اللہ محسود کی تنظیم ” تحریک طالبان پاکستان “ سے تعلق رکھتے ہیں، جو پاکستان کے جنگجوؤں کا انتہائی طاقت ور گروپ شمار کیا جاتا ہے۔ ہفت روزہ ” ٹائم “ نے بیت اللہ محسود کے بارے میں درج ذیل تاثرات رقم کئے ہیں۔ ” اس نے پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبے سے بڑی حد تک پاکستان کی مسلح افواج کو پسپا کرکے خود کو عالمی جہاد کا ہیرو ثابت کردیا ہے “۔ امریکی حکومت نے بھی پانچ ملین ڈالر کی خطیر رقم اس کی گرفتاری کے لئے مخصوص کی ہے۔ امریکی حکومت نے القاعدہ کے ساتھ اس کی ہمدردیوں کا بھی ذکر کیا ہے، تاہم وہ امریکہ کے خلاف بیت اللہ محسود کے کسی بھی جرم کو ثابت نہیں کر سکی۔ بہر کیف، بیت اللہ محسود کے میڈیا انٹرویوز میں دیئے گئے بیانات نے اس کے خلاف فرد جرم عائد کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا، جس میں اس نے کہا تھا کہ وہ افغانستان میں اپنے جنگجوؤں کو بھیج رہا ہے تاکہ وہ نیٹو کی افواج سے مقابلہ کر کے ” جہاد “ کے نظریات کو فروغ دے سکیں۔ اس نے لاہور اور اسلام آباد میں کئے جانے والے بم دھماکوں میں تحریک طالبان پاکستان کے ملوث ہونے کا جو اعتراف کیا، جس میں سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے افراد مارے گئے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان میں اس کی رہی سہی مقبولیت کو بھی غیر معمولی دھچکا پہنچا ہے۔
ان خودکش بم دھماکوں کا اعتراف اس نے بالکل پہلی بار کیا ہے، جس نے ان پاکستانیوں کے ذہن کو تبدیل کردیا ہے جو سمجھ رہے تھے کہ پاکستان میں کئے جانے والے دہشت گردی کے ان حملوں میں غیر ملکی طاقتیں ملوث ہیں۔
تحریک طالبان پاکستان کا بانی بیت اللہ محسود مختصر قد و قامت کا انسان ہے، جسے ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسے مرض لاحق ہیں۔ گزشتہ برس جب اس کی بیماری کی خبریں گردش کر رہی تھیں، تو اس نے دوسری شادی کر کے ان خبروں کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔ جب کبھی سیکورٹی فورسز اسے گھیر لیتی ہیں یا اس کے قبائلی دشمن اس کی جان کے درپے ہوجاتے ہیں، تو وہ خودکش بم باری، غیر ملکیوں یا کسی اہم حکومتی شخصیت کو اغوا کر کے اس کا جواب دینے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے بعد وہ قیدیوں کے تبادلے پر سودے بازی کرتا ہے، جیسا اس نے افغانستان میں پاکستان کے سفیر طارق عزیز الدین کے سلسلے میں کیا تھا۔ جنوبی وزیرستان میں تین سو پاکستانی فوجی سپاہیوں کو رہا کرنے کے عوض اس نے اپنے تیس جنگجو ساتھیوں کو حکومت پاکستان سے چھڑایا تھا۔ بیت اللہ محسود ایک معمے کی طرح سمجھ میں نہ آنے والا پراسرار شخص ہے۔ اس نے اعلانیہ طور پر افغان طالبان لیڈر ملا عمر سے اپنے تعلق کا اعلان کیا ہے اور القاعدہ سے بھی اس کے تعلقات خارج از امکان نہیں ہیں۔ وہ ایک بے رحم شخص ہے، جو انتقام لے کر رہتا ہے اور اپنے دشمن کو کبھی معاف نہیں کرتا۔ وہ ایک متنازع شخصیت کا مالک ہے، جس پر بیک وقت ” را “ اور ” آئی ایس آئی “ کے ایجنٹ ہونے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔ اس کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بھارت، امریکہ اور اسرائیل کے پے رول پر کام کر رہا ہے۔ بہرحال حقیقت یہ ہے کہ بیت اللہ محسود کسی کا بھی ایجنٹ نہیں ہے۔ وہ خود ہی اپنا ایجنٹ ہے اور اپنے جہادی عزائم کے حصول کی خاطر جان بھی دے سکتا ہے۔
تازہ ترین