• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انسانی اعضا کی فروخت پر سزا کا قانون!! ,,,,کارزار…انور غازی

زمانہ جاہلیت میں جس طرح انسانوں کے خرید وفروخت کی منڈیاں سر عام لگا کرتی تھیں بالکل اسی طرح یہ کارو بار آج بھی جاری و ساری ہے۔ بس اتنا ہو اہے اس کے طور طریقے اور انداز بدل گئے ہیں بلکہ جدّت اور شدّت اختیار کرگئے ہیں۔ اسلام کے آفاقی نظام نے دور ِجاہلیت کے تمام رسم ورواج مٹادیے تھے۔ کسی بھی آزاد آدمی کی خریدو فروخت کی تو سرمو بھی گنجائش نہ تھی۔ صدیوں سے جاری غلامی کے نظام میں بھی حُسنِ سلوک اور ان کو آزاد کرنے پر غیر معمولی اجر کی نوید سنا کر بڑی حد تک تخفیف کردی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کے چارٹر میں بھی طے ہے انسانوں کی منڈیاں لگ سکتیں ہیں نہ ہی انسان کے اعضا کی خرید وفروخت کی اجازت ہے۔ دنیا کے اکثر ممالک کے قانون کے مطابق عطیہ کی صورت میں حاصل کردہ گردے کی مریض کے جسم میں پیوند کاری کی اجازت ہے لیکن سرعام بیچنا بہر طور ممنوع ہے، لیکن اس وقت پوری دنیا میں بچوں کی اسمگلنگ اور خرید وفروخت جاری ہے۔ بچوں کے حوالے سے انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں کی متعدد رپورٹیں اس پر شاہد ہیں۔ ان میں سے ایک کے مطابق جمہوریہ کانگو کی فوج میں 13 سال کے معصوم بچوں کو بطور سپاہی فوج میں بھرتی کیا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ کانگو تک محدود نہیں، اقوام متحدہ نے ایسے تین لاکھ بچوں کا تذکرہ کیا ہے جو فوج، باغیوں یا مسلح گروہوں کے پاس بطور سپاہی کام کررہے ہیں۔ ان بچوں کی اوسط عمر 13 سے 17 سال ہے تاہم 8 سال کے بچوں کو بھی جنگوں میں جھونک دیا جاتا ہے۔ ان معصوم بچوں کو ان کے گاوٴں سے اغوا کرکے پچاس سے زائد ان ملکوں میں بطور مسلح چھاپہ مار کے استعمال کیا جاتا ہے جہاں مسلح تصادم جاری ہے۔ یہ بچے جنگ میں اسلحہ اٹھانے، بارودی سرنگوں کا سراغ لگانے، خودکش حملوں میں حصہ لینے، جاسوسی اور پیغام رسانی جیسے کام کرتے ہیں۔ ان بچوں پر ہولناک تشدد بھی کیا جاتا ہے۔ بھٹوں پر مزدوری سے لے کر بھیک منگوانے اور گردوں کی چوری سے لے کر بیگار تک سب کچھ ہوتا ہے۔ کیا معصوم بچوں کی جانیں آج اتنی بے وقعت ہوچکی ہیں کہ انہیں یوں زندہ درگور کردیا جائے؟ اب آتے ہیں پاکستان کی طرف!
وطن عزیز میں گذشتہ چند سالوں سے انسانی اسمگلنگ بلکہ ایک ایک انسانی عضو خصوصاً گردوں کی خرید وفروخت کا سلسلہ عروج پر ہے۔ گردے بیچنے کا کاروبارایک منظم صورت اختیار کرچکا ہے۔ انسانی گردوں کی برآمد غیر ملکی زرمبادلہ کمانے کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق انسانی اسمگلر دنیا بھر میں سالانہ 40 ارب ڈالر سے زیادہ کمارہے ہیں۔ صرف پاکستان میں گردہ فروشی کے کاروبار سے تقریباً 50 کروڑ حاصل کررہے ہیں۔ ایسے بد نصیب بھی ہیں جنہوں نے رقم کی لالچ میں معصوم بچوں کو اونٹ ریس میں ”حدی“ کے لیے دیدیا۔ 2007ء میں 692 پاکستانی بچوں کوواپس پاکستان کے حوالے کیا گیاتھا۔ کچھ بعید نہیں ہے یہ ظالم اب ان معصوموں کے گردے فروخت کردیں۔ قارئین! حال یہ ہو چکا ہے گردہ فروشوں کا یہ بااثر گروہ، اسکول سے گھر آتے جاتے بچوں کو بہلا پھسلا کر اٹھالیتا ہے۔ انہیں گاڑی میں بٹھاکر نشہ آور چیزیں دے کر بے ہوش کردیاجاتا ہے۔ جرائم پیشہ منظم گروہ مختلف مقاصد کے لیے بچوں کو بڑی تعداد میں اغوا کر رہے ہیں۔ گذشتہ ہفتے میرے آبائی گاوٴں ”کوٹ لالو“ میں ایک کم سن طالب علم کے اغوا کا ایسا المناک واقعہ پیش آیا جس نے پورے علاقے کو خوف و ہراس میں مبتلا کرکے رکھ دیاہے۔ علاقے کے باشندے اپنے آپ کو غیر مامون اور غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں۔ دریا خان مری سے ہمارے دوست ڈاکٹر عبد الحئی آرائیں اور پریس کلب سے منسلک عبد الجبار راجپوت نے بتایا مغوی بچے کا باپ گلی گلی، نگر نگر، بستی بستی اپنے اکلوتے بیٹے کی بازیابی کے لیے ہاتھ میں قرآن لیے دوہائیاں دیتا پھر رہا ہے مگر کوئی اس کی آواز سننے والا نہیں۔ مغوی بچے کی ماں بیٹے کے غم میں نیم پاگل ہوچکی ہے۔ علاقے کی پولیس اور انتظامیہ صرف طفل تسلیاں دی رہی ہے۔“ مظلوم اور بے بس عوام جائیں تو کہاں جائیں؟ حالت یہ ہوگئی ہے غریب شخص ہسپتالوں میں اپنا آپریشن کروانے سے بھی ڈرتا ہے کیونکہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی آپریشن کے بعد اس کے دوسرے اعضا بھی پورے ہوں گے؟ ایسی بیسیوں رپورٹیں اخبارات میں چھپ چکی ہیں ایک غریب شخص کان کے آپریشن کے سلسلے میں داخل تھا لیکن اس کے گھٹنے کا آپریشن ہوگیا اور پھر گرفت پر ”سوری“ کے علاوہ کچھ نہ ہوا۔ اس طرح اگر ایک ”سوری“سے ”آٹھ دس لاکھ کا گردہ“ مل جاتا ہے تو اور کیا چاہیے؟ کئی ہسپتالوں میں غریب لوگوں کے علاج کے بہانے گردے نکال لیے جاتے ہیں۔ گردوں سے محروم ہونے والے ایسے افراد کی تعداد سیکڑوں میں ہے۔ چند سال پہلے لاہور میں گردہ چور ڈاکٹروں کا ایک گروہ بے نقاب ہواہے تھا۔ اس مکروہ دھندے کا سرغنہ اور اس کے 5 معاون ڈاکٹروں کو گرفتار کر لیا گیاتھا مگر اس کے بعد کچھ بھی نہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق لاہور، کراچی، ملتان اور راولپنڈی کے متعدد ہسپتال اس مکروہ دھندے میں ملوث ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں سے نومولود بچوں کا دن دیہاڑے غائب ہو جانا معمول کے واقعات بنتے جارہے ہیں۔ مسجد اور ٹیوشن سینٹر سے آتے جاتے نوجوانوں، سڑک چلتے لڑکوں اور گلیوں میں کھیلتے بچو ں کواٹھا لیا جاتا ہے۔ بے ہوشی کی حالت میں کسی خفیہ مقام پر لے جاکر ان کے گردے نکال لیے جاتے ہیں۔ جب انہیں ہوش آتا ہے تو گھر کے اردگرد یا کسی ویران جگہ میں بے یارو مدد گار پڑے تکلیف سے کراہ رہے ہوتے ہیں۔
گردہ چوری، بَردہ فروشی اور انسانی اسمگلنگ کا کاروبار کرنے والے سب سے پہلے اپنا ضمیر، ایمان اور شرفِ انسایت بیچتے ہیں اور پھر وہ یہ مذموم دھندے شروع کرتے ہیں۔ یہ لوگ کیسی قیمتی متاع بیچ کر کتنا معمولی نفع کما رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ سراسر خسارے اور گھاٹے کا سودا ہے لیکن مال و دولت ہوس اور دنیاوی لذت نے ان درندہ نما انسانوں کو اندھا کر رکھا ہے۔ سب سے زیادہ حیرت اور افسوس اس بات پر ہے آئے دن انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد گرفتار ہوتے ہیں۔ ان کے ایجنٹوں کے گروہ کے گروہ پکڑے جاتے ہیں۔ 2007ء میں بین الاقوامی اسمگلنگ میں ملوث پانچ پاکستانی ایجنٹ پیرس سے گرفتار ہوئے تھے۔ اس سے قبل بھی ”انٹرپول“ نے ایسے 52 پاکستانیوں کی فہرست پاکستان کو دی تھی جن پر انسانی اسمگلنگ کے کاروبار میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔ تحقیق کے بعد معلوم ہوا ان میں سے 17 افراد واقعةً انسانی اسمگلنگ کی مذموم سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ یہ تمام افراد، انسانی اسمگلنگ، اونٹ دوڑ، لاوارث لڑکیوں اور یتیم لڑکوں کو مختلف ممالک کو فروخت کرنے کے گھناوٴنے جرائم کے مرتکب قرار دیے گئے ہیں لیکن عملاًاس کے خلاف کوئی کار وارئی نہیں ہوئی تھی۔ جب انسانی اسمگلنگ کے سینکڑوں مقدمات میں مطلوب جاوید آمرے کو گرفتار کیا گیا تھا تو اس بات کی توقع ہوچلی تھی کہ شاید اب ناقابلِ معافی دھندے میں ملوث گروہوں اور افراد کے بارے میں مفید معلومات ملیں گی اور اس کے نیٹ ورک کو ختم کیا جاسکے گا اور ان ہزاروں وارثوں کے کلیجے ٹھنڈے ہوسکیں گے جن کے والد یا بھائی ان ایجنٹوں کے ہتھے چڑھ کر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں لیکن انہیں کوئی عبرت ناک سزانہ دی جاسکی ۔ دکھ تو یہ ہے انسانی اسمگلنگ اور گردہ فروشی کے گھناوٴنے دھندے میں ملوث درندوں کے لیے کوئی قانون ہی نہیں تھا جس کے تحت کاروائی ہوسکتی۔ ہماری معلومات کے مطابق پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں انسانی اعضا کی خرید وفروخت کے خلاف کوئی قانون نہیں تھا اب جبکہ قومی اسمبلی میں ”انسانی اعضا کی فروخت اور غیر قانونی پیوند کا ری“ سے متعلق بل 2009ء متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔ بل کی منظوری کے بعد ملک میں انسانی اعضا کی فروخت اور غیر قانونی پیوند کا ر ی کرنے والوں کو 10 سال قید اور دس لاکھ جرمانے کی سزا دی جاسکے گی اور اس غیر قانونی دھندے میں ملوث ڈاکٹروں کے لائسنس بھی منسوخ ہوں گے۔ یقینایہ ایک اچھا قانون پاس ہوا ہے۔ اس قانو ن کو متفقہ منظور کرنے پر قومی اسمبلی مبارک باد کی مستحق ہے ۔ اب لوگوں کو دھوکہ دہی یا زبردستی گردوں سے محروم کرنے والے انسان نما درندے سزا سے نہیں بچ سکیں گے بشرطیکہ اس قانون پر عملدرآمد بھی ہو۔ بلاتفریق اعلیٰ وادنیٰ سب کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ دیگر قوانین کی طرح اس قانون کی بھی دھجیاں نہ بکھیری جائیں۔ کئی جرائم سے متعلق قانون ہوتے ہوئے بھی ہمارے ہاں لاقانونیت کا راج ہے۔ جس تیزی سے پاک وطن میں انسانی اسمگلنگ اور گردوں اور دیگر اعضا کی خرید وفروخت جاری ہے۔ اگر اس کی روک تھام کے لیے سب نے مل کر کوشش نہ کی تو پھر ایک نہ ایک دن یہ ناسور کی شکل اختیار کرجائے گا جس کا علاج ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوگا۔
تازہ ترین