• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دہشت گردی اور معیشت....معیشت کی جھلکیاں…ڈاکٹرشاہد حسن صدیقی

امریکی صدر اوباما نے اپنے استعماری مقاصد کی تکمیل کیلئے 2 دسمبر 2009ء کو ایک نئی افغان پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت عملاً دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر لڑی جانے والی جنگ کا دائرہ پاکستان تک بڑھایا جائے گا۔ پاکستان پر ڈرون حملوں میں اضافہ کیا جائے گا اور کرپشن کے سنگین الزامات کی زد میں سیاسی طور پر کمزور زرداری حکومت پر دباؤ میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ امریکہ کی تیکنیکی معاونت سے عسکریت پسندوں کے خلاف افواج پاکستان کی کارروائیوں کا دائرہ وزیرستان سے بھی آگے تک لے جایا جائے۔ یہ بھی نظر آرہا ہے کہ امریکہ کی شہ پر بھارت، افغانستان میں قائم اپنے 28 قونصل خانوں اور انفارمیشن سینٹرز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں اور زیادہ تیزی سے کرائے گا۔ پاکستان کی آئی ایس آئی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے اہلکار پاکستان میں دہشت گردوں کی خفیہ مدد کررہے ہیں۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ افواج پاکستان سے جنگ کرنے والے عسکریت پسندوں کے پاس وہ اسلحہ بھی پکڑا گیا ہے جو امریکی افواج افغانستان میں القاعدہ اورطالبان کے خلاف جنگ میں استعمال کررہی ہیں۔ یہ امر بھی یقیناً باعث تشویش ہے کہ امریکی صدر اور بھارتی وزیراعظم کی ملاقات کے بعد 25 نومبر 2009ء کو جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو تباہ کرنے میں عملی تعاون کریں گے۔ یہ سب پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ہم گزشتہ 8 برسوں سے تسلسل سے کہتے رہے ہیں کہ امریکہ خطے میں یہ جنگ دراصل وسط ایشیائی ریاستوں کے تیل و گیس کے ذخائر کی ترسیل کے راستوں پر اپنا کنٹرول حاصل کرنے کیلئے لڑرہا ہے جو کہ ممکنہ طور پر افغانستان اور پاکستان کے صوبے بلوچستان سے گزریں گے چنانچہ ہمیں امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کی اس رپورٹ پر تعجب نہیں ہوا جس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ 7/اکتوبر 2001ء کو افغانستان پر امریکی حملے شروع ہونے کے صرف دو ماہ بعد دسمبر 2001ء میں تورا بورا کی پہاڑیوں میں امریکی افواج نے اسامہ بن لادن کو گھیرے میں لے لیا تھا لیکن انہیں بغیر کسی مزاحمت کے فرار ہونے کا موقع دیا گیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سب اس وقت کے امریکی وزیر دفاع رمسفیلڈ کی حکمت عملی کے عین مطابق تھا۔ یہ وہی شخص ہیں جنہوں نے ڈک چینی اور پال ولفوٹز کے ساتھ مل کر نائن الیون سے پہلے 2000ء میں اس وقت کے نومنتخب امریکی صدر بش کو مشورہ دیا تھا کہ کوئی بھی مناسب بہانہ تراش کر عراق پر حملہ کرکے تیل کی دولت سے مالا مال اس اسلامی ملک پر قبضہ کرلیا جائے۔ ہم گزشتہ کئی برسوں سے مختلف سرکاری و نجی ٹیلی ویژن چینلز پر بھی کہتے رہے ہیں کہ امریکہ افغانستان میں طالبان حکومت کو گراکر وہاں لمبی مدت تک فوجی قبضہ تو ضرور برقرار رکھنا چاہتا ہے مگر وہ طالبان کی طاقت کو ختم نہیں کرے گا کیونکہ اگر طالبان کا خطرہ ختم ہوجائے تو پھر افغانستان میں امریکہ کے مقامی دوست خود کہیں گے کہ اب آپ یہاں سے رخصت ہوجائیں۔ افغانستان اور خطے میں امریکی عزائم کے ضمن میں اب سے 8 برس قبل نائن الیون کے واقعات کے بعد ہم نے انہی کالموں میں عرض کیا تھا(i) افغانستان پر امریکی حملوں کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ نہیں بلکہ اصل ہدف عالم اسلام ہے۔ (جنگ 16/اکتوبر 2001ء) (ii) اس جنگ میں معاونت سے ملک کی معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کا حجم پاکستان کو مغرب سے ملنے والی مراعات سے کہیں زیادہ ہوگا۔ (جنگ 2/اکتوبر 2001ء) (iii) امریکہ کی حکمت عملی یہ نظر آتی ہے کہ افغانستان یا اس کے صرف ایک حصے پر خواہ ناپائیدار ہی صحیح مگر ایک من پسند حکومت مسلط کردی جائے اور وہاں امریکی افواج مستقل طور پر رکھی جائیں ۔ (جنگ 27/اکتوبر 2001ء) اس تحریر سے دو ہفتہ قبل ہی پاک فوج کے سربراہ اور ملٹری ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے یہ ناقابل فہم بات کہی تھی کہ افغانستان کے خلاف امریکی جنگی کارروائیاں مختصر مدت تک جاری رہیں گی۔ ہم گزشتہ کئی برسوں سے یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر لڑی جانے والی جنگ میں معاونت پاکستان کیلئے تباہی کا نسخہ رہی ہے اب سے دو برس قبل ہم نے خبردار کیا تھا کہ ”وطن عزیز میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں قومی سلامتی‘ قومی تقاضوں اور معیشت کیلئے زبردست خطرات پیدا کررہی ہیں جن کے نتائج کا سوچ کر روح بھی کانپ جاتی ہے۔“ (جنگ 24 جولائی 2007ء) امریکی صدر اوباما کی نئی افغان پالیسی کے بعد نہ صرف پاکستان پر ڈرون حملے بڑھیں گے بلکہ وطن عزیز میں خدانخواستہ دہشت گردی کے واقعات بھی بڑھیں گے جن کی آڑ میں امریکی افواج بھی پاکستان کے اندر داخل ہوسکتی ہیں اور بلوچستان میں بھی انتہائی سنگین صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔
بدنام زمانہ قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او) کے کندھوں پر سوار ہو کر صدر پاکستان کے عہدہ کا حلف اٹھانے کے صرف 17 دن بعد آصف زرداری نے بقول برطانوی وزیر خارجہ فرینڈز آف پاکستان گروپ کے ساتھ ایک سودا کا تھا جس کے تحت 26 دسمبر 2008ء کو اس گروپ نے ایک اعلامیہ جاری کیا تھا جو پاکستان کیلئے کیری لوگر ایکٹ سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ صدر زرداری نے اس اعلامیہ کو پاکستان کیلئے ”رحمت“ قرار دیا تھا جبکہ ہم نے اسے پاکستان کیلئے ایک جال قرار دیا تھا۔ (جنگ 30 ستمبر 2008ء) ہمارا یہ خدشہ اب ایک برس بعد 100 فیصد درست ثابت ہوچکا ہے۔ پارلیمنٹ نے اس اعلامیہ پر غور کرنا ضروری نہیں سمجھا جبکہ وزیراعظم گیلانی اور ان کی کابینہ نے پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر ہی کیری لوگر ایکٹ کے تحت امریکی امداد لینا منظور کرلیا۔
صدر زرداری کے فرینڈز آف پاکستان گروپ کے ساتھ کئے گئے اس سودے کا ہی اعجاز ہے کہ آئی ایم ایف نے نومبر 2008ء کے بعد سے اب تک تباہ کن شرائط پر پاکستان کیلئے 11300 ملین ڈالر کا قرضہ منظور کیا ہے۔ یہ بات یقیناً چشم کشا ہونی چاہئے کہ آئی ایم ایف نے گزشتہ تقریباً 50 برسوں میں پاکستان کو مجموعی طور پر صرف 3625 ملین ڈالر کے قرضے دیئے تھے جبکہ اس سودے کے بعد 24 نومبر 2008ء سے چند ماہ کے اندر اس رقم کے تین گنا سے بھی زیادہ رقوم کے قرضے پاکستان کو فراہم کرنے کی منظوری دے دی گئی۔ ان قرضوں کی ناروا شرائط‘ حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں‘ وزیر خزانہ کے تواتر کے ساتھ غلط اور غیر حقیقت پسندانہ بیانات‘ کرپشن کے فروغ اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے پاکستان کی معیشت روبہ زوال ہے۔ اب سے 8 ماہ قبل صدر زرداری اور امریکی ایلچی رچرڈ ہالبروک کے درمیان 29 مارچ 2009ء کو واشنگٹن میں ایک خفیہ میٹنگ ہوئی تھی جس میں واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی بھی موجود تھے۔ اس کے چند ماہ بعد سے پاکستان پر ڈرون حملوں اور وطن عزیز میں دہشت گردی کی وارداتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی بیشتر کارروائیوں میں بھارت ملوث ہوتا ہے۔ ڈرون حملوں اور دہشت گردی کی ان وارداتوں سے ہزاروں معصوم شہریوں اور فوجی بھائیوں کی شہادت پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ پاکستان کا الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا دہشت گردی کی وارداتوں میں ہونے والی شہادتوں پر شہیدوں کو خراج تحسین تو ضرور پیش کرتا رہا ہے مگر امریکی ڈرون حملوں میں 900 سے زائد معصوم شہریوں اور فوجیوں کی شہادت کے ضمن میں صرف چھوٹی سی خبریں ہی عموماً آتی ہیں اس لئے دنیا کے سامنے ان شہادتوں پر پاکستانی قوم کا ردعمل سامنے نہیں آرہا چنانچہ امریکہ کو مزید شہ مل رہی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ان حملوں سے معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں بھی ٹاک شوز اور خصوصی پروگرام پیش کئے جائیں اور کالج لکھے جائیں۔ اگر پاکستان کا میڈیا امریکہ کی اس ریاستی دہشت گردی سے ہونے والی شہادتوں کے واقعات کو اجاگر کرے تو اس سے مغرب میں رہنے والے کروڑوں افراد کا ضمیر یقیناً بیدار ہوگا‘ وہ امریکہ پر ان ظالمانہ حملوں کو فوری طور سے بند کرنے کیلئے دباؤ ڈالیں گے اور حکومت پاکستان بھی مجبور ہوگی کہ وہ اس معاملہ پر امریکہ سے بات کرے۔اب وقت آگیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر لڑی جانے والی جنگ میں معاونت کو ڈرون حملے اور افغانستان سے پاکستان میں دراندازی بند کرنے‘ پاکستان کی سرحدوں کا ہر حال میں احترام کرنے کی ضمانت دینے اور اس جنگ میں اب تک ہونے والے نقصانات کو پورا کرنے سے مشروط کیا جائے۔ علماء حضرات کا فرض ہے کہ خودکش حملوں کو حرام قرار دینے کے ساتھ یہ فتویٰ بھی جاری کریں کہ جو ملک پاکستان پر تسلسل کے ساتھ ڈرون حملے کررہا ہے اس کے ساتھ جنگ میں معاونت اور شراکت بھی حرام ہے۔ اب یہ بھی ازحد ضروری ہوگیا ہے کہ وزیرستان آپریشن روک کر پاکستان، طالبان کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات شروع کئے جائیں۔ اگر پاکستان میں عسکریت پسندوں کو بھارت اور امریکہ کی مدد حاصل نہ ہو تو افواج پاکستان اور متاثرہ علاقوں کے محب وطن اور غیور پاکستانی دہشت گردی سے باز نہ آنے والے عناصر سے بآسانی نمٹ سکتے ہیں وگرنہ موجودہ حالات میں دہشت گردی کے خلاف حتمی طور پر جنگ جیتنے کا امکان نظر نہیں آتا اور اس کے نتائج کا سوچ کر روح بھی مضطرب ہوجاتی ہے۔

تازہ ترین