• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
رومان اور میدان پسند، شہسوار شاعر اور جنگجو نثرنگار ظہیر الدین بابر پانی پت سے سیکری تک اور ابراہیم لودھی سے رانا سنگرام تک اپنا لوہا منوا چکا تو اسے اپنی مہم جویانہ زندگی کی سب سے خوفناک جنگ کا سامنا تھا۔ یہ جنگ اسے بغیرتلوار اور ڈھال کے جیتنی تھی اور وہ اس چومکھی بلکہ سو مکھی جنگ میں اپنا توپ خانہ بھی استعمال نہ کرسکتا تھا۔ عجیب جنگ یہ تھی کہ اس کے ساتھی، جانثار، بیگ، امراء و رؤسا اور جرنیل جلد از جلد ہندوستان چھوڑ کر اپنے سرسبز مرغزاروں کی طرف واپس لوٹ جاناچاہتے تھے کہ ہندوستان کی لو انہیں جھلسائے دیتی تھی اور یہاں کے موسم ان کے لئے ناقابل برداشت ہوتے جارہے تھے۔ ہندوستان چھوڑ جانے کے خواہشمندوں میں بابر کا پرانا وفادار کلاں بیگ سرفہرست تھا۔
”اعلیٰ حضرت! میرے بادشاہ! ظل الٰہی! کیا آپ یہ پسند نہ فرمائیں گے کہ میں کم از کم پانچ سال ہی اور جی لوں۔ مجھے واپس جانے کی اجازت دے دیجئے۔ میں غزنی چلا جاؤں گا۔ وہاں کے قدیم بند کی مرمت کراؤں گا اور ریگستانوں کوگلزار وں میں بدل کر آپ کا نام روشن کروں گا، میری دلی آرزو ہے کہ غزنی میں اپنے وطن کے نزدیک ہی سپردخاک کیاجاؤں۔“
بابر نے کلاں بیگ کی بھیگی آنکھیں اور آہیں دیکھنے سننے کے بعد کہا، ”آپ کی دیکھا دیکھی دوسرے بیگ بھی لوٹ گئے تو پھرمیرے ساتھ کون رہ جائے گا؟“
”میں قسم کھاتا ہوں میرے عظیم بادشاہ! میں انہیں یہی کہوں گا کہ مجھے بند کی مرمت کے لئے بھیجاجارہا ہے۔ میں اس امر کو یقینی بناؤں گا کہ میرے پیچھے پیچھے کوئی دوسرا بیگ نہ آئے۔“
بابر کو ابھی تک علم نہیں تھا کہ خواجہ کلاں نے محفل بادہ نوشی میں بیگوں کے ساتھ شرط لگائی تھی کہ وہ بادشاہ سے اجازت لے کر ہندوستان کے جہنم سے غزنی چلا جائے گا۔
”چلئے ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی“ بابر بیگ کے آنسوؤں سے متاثر ہو گیا لیکن کلاں بیگ کے غزنی روانہ ہونے کے بعد فوراً ہی بیگ کی حویلی کی دیوار پر لکھا یہ شعر زبان زد عام ہو گیا:
اگر بخیر و سلامت گزر ز سند کنم
سیاہ رو شوم گر ہوائے ہند کنم
کچھ ہی دنوں بعد بابر کو کلاں بیگ کی شرط کا بھی علم ہو گیا جواس نے محفل بادہ میں لگائی تھی۔
بابر بپھرا ہوا ٹہل رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ مکار بیگ شرط بھی جیت گیا، اجازت بھی لے گیا اور میری آنکھوں میں دھول بھی جھونک گیا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اسے کیا سزا دی جائے۔ غزنی کے صوبیدار کا عہدہ واپس لے لیا جائے؟ واپس بلا لیا جائے؟ کیونکہ کلاں بیگ کا شعر واپس جانے کے خواہش مندوں کے لئے مہمیز کا کام کر رہا تھا۔ اسے سزادینے سے شعر مزید مقبول و معروف ہو جاتا۔
بابر نے ہندو بیگ سے پوچھا
”کیا وہ شعر ابھی تک دیوار پر لکھا ہے؟“
”جی نہیں میر ے آقا! میں نے اسے مٹوا دیا تھا“
”فضول و لغو حرکت کی آپ نے ہندو بیگ! کیونکہ زبردستی مٹائی جانے والی چیزیں یادیں بن کر عوام کے دلوں میں مضبوطی کے ساتھ نقش ہوجاتی ہیں… میر منشی کو حاضر کیاجائے۔“
پھر شہنشاہ بابر نے میر منشی کو جو شعر لکھوائے ان کا ترجمہ کچھ یوں ہوگا:
ہزار شکر کہ بابر بہ فضل رب کریم
ملا اِک اور وطن سندھ اور ہند عظیم
وہ جائے غزنی جو و سرد مہر اور کمزور
یہاں کی گرمی میں تڑپے جو رہ سکے نہ مقیم
ان اشعار کی ایک نقل خواجہ کلاں کو بھجوائی گئی اور باقی نقول اہم بیگوں اور دیگر امراء و رؤسا میں تقسیم کردی گئیں۔ اشعار زبان زد عام ہوگئے اور بابر کی شاعری نے کلاں بیگ کے شعر کا اثر نہ صرف زائل کر دیا بلکہ واپس لوٹنے کا خیال بھی ان کے دلوں سے نکل گیا۔
حاصل کلام یہ ہے کہ صدیوں پہلے بابر بادشاہ تو جانتا تھا کہ زبردستی مٹائی جانے والی چیزیں عوام کے دلوں پرمضبوطی کے ساتھ نقش ہوجاتی ہیں لیکن افسوس آج کے پڑھے لکھے حکمران اس حقیقت سے واقف نہیں۔نہ بھٹو مٹایا جاسکا،نہ نواز شریف بھلایا جاسکا، نہ میڈیا کا کچھ بگاڑا جاسکے گا۔
جو بابر جانتا تھا… بوزنے نہیں جانتے
تازہ ترین