• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فری سٹائل معاشرہ، فری سٹائل کالم...چوراہا …حسن نثار

شاید میرے کان بج رہے ہیں۔ اسی لئے مجھے مرکز سے ہارن اور صوبوں سے الارم بجنے کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں حالانکہ جمہوریت کی جے جے کار ہے اور یہ کوٹھے ٹپنی بجلی کے ان کھمبوں پر چڑھ کر ناچ رہی ہے جن میں کرنٹ نہیں لیکن کرنٹ کا کیا اعتبار؟ کسی وقت بھی آسکتا ہے۔ ہماری اس جمہوریت کا اصل کیریکٹر سٹیج کی ان اداکاراؤں جیسا ہے جن کے ”رقص“ پر اکثر پابندی لگتی رہتی ہے لیکن ہر پابندی بھگتانے کے بعد یہ پھر آدھمکتی ہیں۔ جمہوریت بھی ایسی ہی ہے کہ اسے جیل میں رکھو… جلا وطنی میں رکھو یہ اللہ رکھی 10,8سال کے بعد پھر جلوہ گر ہو جاتی ہے۔ کبھی لوگ اس کے جانے پر شکرانے کے نفل پڑھتے اور مٹھائیاں بانٹتے ہیں تو کبھی اس کے آنے پر تالیاں بجاتے دکھائی دیتے ہیں لیکن یہ”پابندی“ ہٹتے ہی پھر ”ویسی“حرکتیں شروع کر دیتی ہے جن کے سبب اس پرپابندی لگی ہوتی ہے۔ دو ڈھائی سال کے اندر اندر عوام پھر سے توبہ توبہ کرنے لگے ہیں کیونکہ ”جمہوری اندھیروں“… ”جمہوری مہنگائی“… ”جمہوری جرائم“ نے جینا عذاب کر دیا ہے۔ جن کی گڈ گورننس کی کبھی مثالیں دی جاتی تھیں… اس بار ان کے دانے بھی بک چکے ہیں اور گورننس گھاس چرتی دکھائی دیتی ہے۔ مرکز سے صوبوں تک سب کے سب ”نہ باگ ہاتھ میں ہے نہ پاہے رکاب میں“ کی شرمناک مثالیں ہیں۔ فرق ہے تو صرف آنیوں جانیوں اور ڈائیلاگ بازیوں کا۔ خالی خولی کھوکھلی اور فریبی خواہشوں کے سوا کسی کے ہاتھ پلے کچھ نہیں کہ سستی روٹی سے لے کر سستی چینی تک سب کچھ سستے مذاق کے علاوہ کچھ نہ نکلا۔ جوکروں کا ہجوم ہے جو ”پلے انگ ٹو دی گیلری“کے علاوہ اگر کچھ کر رہا ہے تو وہ ہے صرف لوٹ مار یا وقت کی بربادی۔
کوئی کارروائی گروپ فحاشی کے اڈوں پر چھاپے مارتے وقت یہ کبھی نہیں سوچتا کہ فاقوں کے اڈے بند کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ فاقے کا اڈہ فحاشی کے اڈے سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتا ہے اور بہت سے کیسز میں تو فاقہ ہی فحاشی کا سرپرست اور سپانسر ہوتا ہے۔
مرکزی اور تمام صوبائی حکومتیں نماز کی ادائیگی کے بعد اذان دینے کی پالیسی پر گامزن ہیں اور کسی کو کچھ ہوش نہیں کہ کرنا کیا ہے۔ سوائے بھوک کے ہرشے میں بے برکتی ہے۔ شعیب اور ثانیہ کی شادی پر بغلیں بجانے والے ”جمے جنج نال“ ٹائپ تماش بینوں کو اس بات کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں کہ شکورے بے روزگار کی ثمینہ ٹینس کھیلنے کی بجائے جان پر کھیل گئی ہے اور جاتے جاتے ساتھ ہی اپنے بھوک سے بلکتے تین معصوم بچے بھی لے گئی ہے جنہیں اقبال کے شاہین بھی کہا جاسکتا ہے۔
18ویں ترمیم والوں سے کوئی پوچھے کہ جعلی ڈگریوں والو! کبھی آٹا ترمیم بھی آئے گی یا نہیں یا ”خوشحالی ختم خود کشی شروع بے نظیر پروگرام“ یونہی چلتا رہے گا۔ ایک سے بڑھ کر ایک وزیر با تدبیر قوم کی پھوٹی ہوئی تقدیر میں لکھا ہے۔ تھری پیس وزیر پانی و بجلی ہی دیکھ لو جس نے تاریخیں دینے میں عدالتوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ کسی نے مجھ سے پوچھا کہ یہ راجا پرویز اشرف کہاں کا راجہ ہے؟ تو میں نے کہا… ”یہ اندھیر نگری کا وہ چوپٹ راجہ ہے جو عوام کو بغیر سرنج کے انجکشن لگانے کے تجربات میں مصروف ہے“۔ وزیر خارجہ کی سب سے بڑی کمائی وہ تصویر ہے جس میں آپ ہیلری کلنٹن کے ساتھ سرجوڑ کر کھڑے ہیں۔ اک اور خاتون ہے جو ضرورت مندوں میں چیک تقسیم کرتے وقت کچھ ایسا تاثر دیتی ہے جیسے جہیزبیچ کر ذاتی جیب سے دان کر رہی ہو کیسا کیسا پیس، کٹ پیس اور تھری پیس ہمارے اس نصیب میں لکھا ہے جس میں پروف ریڈنگ کی لاتعداد غلطیاں ہیں۔ پاکستان ان لوگوں کے لئے ہیروں کی کان ہے یا حلوائی کی وہ محاورے والی دکان جہاں مردوں کے ساتھ زندوں کی بھی مفت فاتحہ پڑھی جاتی ہے۔
بچپن میں ایک فلم دیکھی تھی ”بیداری“ جس میں بچوں کا ٹیچر سکول کے بچوں کو بم دھماکوں سے پاک پاکستان کی بذریعہ ٹرین سیر کراتے ہوئے انہیں یہ گیت سناتا ہے………
”آؤ بچوں سیر کرائیں تم کو پاکستان کی
جس کی خاطر ہم نے دی قربانی لاکھوں جان کی“
لاکھوں جانوں کی قربانی اب کروڑوں جانوں کی قربانی میں تبدیل ہو چکی ہے اور قربان گاہ کے مالکان تین تین شفٹوں میں اجمل قصاب کے بزرگوں والا کام تندہی سے سر انجام دے رہے ہیں حالانکہ زخمی جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہوتی۔ عوام کی حالت اس شہزادی جیسی ہے جو آدم زاد کو دیکھ کر پہلے ہنستی اور پھر روتی ہے۔ لوگ بھی دو کاموں میں مصروف ہیں۔
”آگئی۔ آگئی۔ آگئی“……باچھیں کھل جاتی ہیں
”چلی گئیں چلی گئیں چلی گئی“ باچھیں سکڑ جاتی ہیں۔
لوگوں کے منہ بجلی آنے پر سیدھی کمان جیسے
اور جانے پر الٹی کمان جیسے ہوجاتے ہیں اور
یہ واحد تحفہ ہے جو خاندانی جمہوریت نے عوام کو عطا کیا… مہنگائی کو جھونگا سمجھیں۔ اقبال نے کیسا خوبصورت خواب دیکھا تھا۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر
حال یہ ہے کہ نیل تا کا شغر کیا… یہاں تو خیبر تا کراچی صرف محرومی، بدنصیبی، بدامنی، غریبی اور جہالت کی کی قدر مشترک کے علاوہ اور کوئی قدر مشترک ہی نہیں۔
واقعی… جمہوریت بہترین انتقام ہے جو عوام سے ”مفاہمتی‘ انداز میں بہترین طریقے سے لیا جا رہا ہے لیکن اگر تیور یہی رہے اور چلن تبدیل نہ ہوئے تو مرکز میں ہارن اور صوبوں میں الارم دور کی بات نہیں اور اس بار ایسا ہوا تو کیسا ہوگا؟ اس کا اندازہ وقت آنے پر ہی ہوگا۔
تازہ ترین