• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہر ایک کیلئے گھر... ایک اور ایک…منیراحمد بلوچ

اپنے سات جولائی کے کالم ” سرکاری ملازمین کیلئے مستقل رہائش“ کے عنوان سے لکھے گئے کالم کے آخر میں لکھا تھا کہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے 30 لاکھ کے قریب سرکاری اور نیم سرکاری ملازمین کیلئے نئے گھروں کی تعمیر کس طرح ممکن ہے؟اس کیلئے کھربوں روپیہ اور ہزاروں ایکڑ زمین کا حصول کس طرح ممکن ہے؟صرف ایک مثال سے جواب دینے کی کوشش کر رہا ہوں ۔پاکستان بننے کے بعد ضرورت محسوس ہوئی کہ شہروں کے باہر نئی بستیاں بسائی جائیں تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی کیلئے مکانات بنائے جا سکیں اس کیلئے لاہور میں سب سے پہلے ” لاہور امپروومنٹ ٹرسٹ“جسے بعد” لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی“ کا نام دے کر نئی آبادیاں بسانے کا فریضہ سونپا گیا سمن آباد، گلبرگ، شادمان، اقبال ٹاؤن،فیصل ٹاؤن، جوہر ٹاؤن، سبزہ زار، تاجپورہ جیسی مشہور بستیاں ہم سب کے سامنے ہیں ۔ زمین کس کی ملکیت ہے اس کے بارے میں قران پاک کی سورة الحشر جو 5ھ غزوہ بنی نضیرکے موقع پر نازل ہوئی فرمان ربی ہے” جو زمین یا جائداد ہاتھ آئے وہ خدا اور پیغمبر، یتیموں،مسکینوں، مسافروں، فقراء مہاجرین اور ان سب کیلئے ہے جو بعد میں اس دنیا میں آنے والے ہیں“۔ آئین پاکستان کی رو سے اسلام ریاست کا دین ہے اور آئین پاکستان کے آرٹیکل227کے تحت ملک کے تمام قوانین کا قران مجید اور سنت رسول اللهﷺ کے مطابق ہونا لازمی ہے۔ملکیت مکان کی نوعیت زمین کی ملکیت سے مختلف ہے زمین کی تخلیق انسان کا عمل دخل نہیں کیونکہ یہ اس سے پہلے ہی وجود میں آ چکی تھی مکان چونکہ وہ خود اپنی پسند یا ضروریات کے مطابق تعمیر کرتا ہے اس لئے یہ اس کی ملکیت ہے۔کچھ لوگوں نے میرے گزشتہ کالم پر پوچھا ہے کہ بلوچ صاحب آپ کے استاد جناب عبد الحمید کے اس خواب کی تعبیر ” ہر ایک کیلئے گھر “ کا سرمایہ کہاں سے آئے گا؟ اس کا تفصیلی جواب تو اپنے مضمون میں آگے چل کر پیش کروں گا یہاں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے80ارب کہاں سے آیا؟۔ سستی روٹی کے نام پر تندوروں میں جھونکنے کیلئے 40 ارب کہاں سے آیا؟۔دانش سکول،لیپ ٹاپ اور ذوالفقار آباد کیلئے ایک کھرب سے زائد روپے کہاں سے آئے؟۔نیب کے ڈی جی کا سرکاری بیان ریکارڈ پر ہے کہ ملک میں ماہانہ6ارب روپے کرپشن کی نظر ہو رہے ہیں یہ 72ارب سالانہ کہاں سے لوٹے جاتے ہیں؟۔ اسٹیٹ بینک کے اعلیٰ افسر کا کہنا ہے کہ ہر سال تقریباََ سات بلین ڈالر غیر قانونی طریقوں سے ملک سے باہر بھیجے جاتے ہیں صرف اس لئے کہ دو سے تین روپے فی ڈالر زیا دہ مل سکیں․․․․نیت نیک ہوارادے مضبوط ہوں ایمان پکا ہو تو یہی رقم اس منصوبے کیلئے کافی ہے۔
سرکاری ملازمین سمیت تمام بے گھر پاکستانیوں کو مستقل اور نسل در نسل منتقل ہونے والے گھروں کے منصوبے کو عملی جامہ دینے کیلئے تعمیر نو کمپنی کے نام سے ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی بنائی جائے جسے مکمل آئینی تحفظ ہو گا کمپنی کی تشکیل کا فیصلہ ایسا وزیر اعظم کرے گا جس کے دل میں غربت مٹانے کا سچا اور پختہ عزم ہو گا جس کی قائم کی گئی تعمیر نوکمپنی ملک بھر میں نئے شہر، نئے دیہات، قصبے اور صنعتی شہر تعمیر کرے گی اور پھر دائمی طور پر ان کی دیکھ بھال اور مرمت کرتی رہے گی کمپنی بلا منافع ہو گی یعنی اپنا منافع حصہ داروں میں تقسیم نہیں کرے گی اور اپنا سارا منافع اپنے منصوبوں پر ہی خرچ کرے گی سارے ملک کیلئے یہی ایک کمپنی ہو گی اس طرح پالیسی، طریق کار اور انتظامی امور میں یکسانیت رہے گی اگر ایک سے زیا دہ کمپنیاں ہو ں گی تو ان کے ایک ہی امر پر مختلف فیصلوں سے شکایات اور مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔حکومت کا تعمیر نو کمپنی پر کسی طرح کا بھی کنٹرول نہیں ہو گا وہ نہ تو اس کے حصص خرید سکے گی اور نہ ہی اپنے ڈائریکٹر مقرر کر سکے گی تعمیر نو کمپنی کی انتظامیہ عام کمپنی جیسے نہیں ہو گی اس کے انتظامی ڈھانچے میں نہ تو تہ در تہ افسر ہوں گے اور نہ ہی کوئی بات حصہ داروں سے چھپائی جائے گی کارکردگی کا معیار صرف خدمت ہو گا تعمیر نو کمپنی کے الاٹیوں کو دوسری تعمیراتی کمپنیوں جیسی صورت حال کا سامنانہیں ہوگا ان کا قبضہ تا حیات ہو گا الاٹی کے بعد اس کا جانشین اس کی جگہ لے گا اس طرح الاٹی کبھی بھی بے گھر نہیں ہوں گے کوئی الاٹی اپنا فلیٹ کمپنی کے علاوہ کسی اور کو نہیں بیچ سکے گا۔
یہ فلیٹس صرف تین منزلہ ہوں گے ان کا علیحدہ علیحدہ رقبہ بالترتیب120اور 250مربع گز ہو گا اور ایک اندازے کے مطابق ایک فلیٹ کی لاگت پندرہ ہزار روپے فی مربع میٹر ہو تو150 مربع میٹر کی لاگت پچیس لاکھ روپے کے قریب ہو گی۔کمپنی ہر وہ طریقہ استعمال کرے گی جس سے تعمیری لاگت کم سے کم ہو لیکن معیار انتہائی اعلیٰ ہوگا اس مقصد کیلئے وہ تعمیرات کے تمام پہلوؤں کے بارے میں سرکاری تجربہ گاہوں،تعلیمی اور فنی اداروں اور دوسرے ملکوں میں کی گئی ہر قسم کی ریسرچ سے فائدہ اٹھائے گی۔کمپنی کے کام میں کوئی ادارہ یا صوبائی حکومت رکاوٹ ڈالنے کی مجاز نہیں ہو گی۔کمپنی کوائف جمع کرے گی کہ وفاقی، صوبائی اور ضلعی حکومتوں کی کہاں کہاں اور کتنی کتنی زمین ہے ضروری نہیں کہ کمپنی ساری سرکاری زمینوں کی تفصیل ملنے کے بعد ہی منصوبہ بندی شروع کرے پہلے مرحلے میں اسلام آباد اور صوبائی ہیڈ کواٹرز میں کام شروع کرنے کیلئے سرکاری زمین کی تفصیل ہی کافی ہو گیساتھ ہی تعمیر نو کمپنی کے ذریعے ملک گیر سروے کرایا جائے گا کہ مرکز اور صوبوں میں ہر دیہات، قصبے، تحصیل یا شہر میں کتنے لوگوں کے اپنے گھر ہیں، کتنے سرکاری نیم سرکاری ملازمین کے پاس اپنے گھر نہیں ہیں لیکن اس سروے کے دوران وقت ضائع کئے بغیر سب سے پہلے سرکاری ملازمین کیلئے فلیٹس کی تعمیر فوری شروع کر دی جائے گی جس کیلئے سارا سرمایہ وفاقی حکومت مہیا کرے گی وفاقی حکومت یہ رقم صوبوں کو قومی مالیاتی کمیشن کے ذریعے دی جانے والی رقم سے وضع کر لے گی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے بہت سا سرمایہ قرضہ کے طور پر مل سکتا ہے بینک دولت پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق ان پاکستانیوں نے2007-08 میں6.451بلین اور2008-09میں7.811بلین ڈالر پاکستان بھیجے۔ ابھی چند دن پہلے امریکہ میں پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم ” اپنا“ نے ایک کھانے کی تقریب پر ایک ملیں ڈالر خرچ کئے ہیں․․․․بات صرف اعتماد کی ہے''حکومت کا اپنا سالانہ بجٹ جو1990کی دہائی میں100بلین روپے سے بھی کم رہتا تھاآج3000بلین روپے ہے اس میں سے حکومت نے621بلین روپے اپنے ترقیاتی منصوبوں کیلئے رکھے ہیں اگر حکومت مخلصانہ فیصلہ کرے تو وہ تعمیر نو کمپنی کو اپنے ترقیاتی بجٹ سے بھی رقم فراہم کر سکتی ہے․․․․ایک اندازے کے مطابق وفاقی حکومت کے اپنے ملازمین کی تعداد 390,000کے قریب ہے اگر وہ اس رقم سے ایک سال میں ایک لاکھ فلیٹ بنوائے تو چار سے پانچ سال میں سب کو اپنا گھر مل جائے گا اور حکومت ان ملازمین کو مکان کے کرایہ کی مدد ہر سال جو رقم ادا کرتی ہے وہ اس کی خالص بچت ہو گی جبکہ ان فلیٹس کی مرمت اور دیکھ بھال کا خرچہ بھی حکومت کی بجائے کمپنی برداشت کرے گی۔ہر الاٹی کیلئے لازم ہو گا وہ دس ہزار روپے کے حصص خریدے۔سرکاری اور نیم سرکاری ملازمین کے علاوہ پبلک سے ایک مخصوص عرصے تک کرایہ کے نام پر ہر ماہ معمولی سی رقم وصول کی جائے گی جس کے بعد وہ گھر اس کے نام مستقل ٹرانسفر ہو جائے گا۔
”اپنی رہائش سب کیلئے “ کا آغاز کرتے ہوئے نئے شہر اور نئے قصبے آباد کئے جائیں وہیں پر تمام سرکاری اور کاروباری دفاتر ہوں غلامی کے دور میں اضلاع میں انتظامی دفاتر اور عدالتیں ایک ہی جگہ بنائی گئیں کیونکہ ڈپٹی کمشنر ہی ضلع کے انتظامی سربراہ ہوتے تھے اور ضلع مجسٹریٹ کی حیثیت سے عدلیہ کے بھی ۔ان دفاتر کے ساتھ ہی ایکڑوں پر پھیلے ہوئے سرکاری افسران کیلئے بنگلے تعمیر کئے گئے لیکن عام ملازمین کیلئے ایک گھر بھی بنانے کی زحمت نہیں کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق اب ہر ضلعی حکومت کی اپنی اراضی جسے نزول اراضی کہتے ہیں وہاں پر ملازمین اور بے گھر افراد کے لئے فلیٹ بنائے جاسکتے ہیں۔
تازہ ترین