• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پڑھنے نہیں سمجھنے والا کالم... چوراہا …حسن نثار

پشتینی قسم کے ممبر نیشنل اسمبلی اور تگڑے زمیندار کا سب سے چہیتا اور سب سے بڑا بیٹا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد مہذب اور ترقی یافتہ دنیا سے واپس آیا تو بتدریج گہرے قسم کے احساس جرم میں غرق ہوتا چلا گیا کہ کبھی کبھی راجاؤں کے گھر بھی سدھارتھ قسم کے بچے پیدا ہو جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ سدھارتھ گوتم بدھ جی کا اصلی نام تھا۔مہذب دنیا سے آیا نوجوان اپنے اردگرد پھیلی ہوئی جہالت، بے بسی، بے چارگی اور غربت پر بہت بری طر ح اپ سیٹ تھا۔ اس نے مدتوں بعد ترجمہ کے ساتھ قرآن پاک پڑھا، پہلی بار سیرت النبی کا سنجیدگی، یکسوئی اور گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا تو اس کی روح تک پر زلزلہ طاری ہو گیا۔ اللہ اور اس کے رسول نے جس استحصالی نظام کو مکمل طور پر باطل قرار دیا تھا، اس نوجوان نے اسی کی گود میں پرورش پائی تھی اور اس کا خاندان اس کفر پر فخر میں مبتلا تھا حالانکہ اس کے پورے گھرانے کا ظواہر پر زور کسی سے ڈھکا چھپا نہ تھا۔ چند ماہ مسلسل اذیت سے گزرنے کے بعد اس نے اپنے باپ سے بات کرنے کا ارادہ کیا۔
”بابا! ہمیں دنیا کی ہر نعمت میسر ہے لیکن جو نسلوں سے ہماری خدمت کر رہے ہیں انہیں پیٹ بھر روٹی بھی نصیب نہیں، بچے ان کے ننگے پھرتے ہیں، پرائمری تک کی تعلیم بھی ان کا مقدر نہیں وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔“ پشتینی ایم این اے اور تگڑے زمیندار باپ کے چہرے پر ناگواری صاف دکھائی دے رہی تھی لیکن اس نے اپنے وحشیانہ جذبات پر مسکراہٹ کی چادر ڈالتے ہوئے بیٹے کا کندھا تھپتھپایا اور دھیمے لہجے میں کہا… ”کریں گے پتر! اس اہم مسئلہ پر جلدی بات کریں گے ابھی میرا دماغ کہیں اور الجھا ہوا ہے“ مہذب دنیا سے آیا ہوا مودب بیٹا سلام کر کے رخصت ہوا تو ڈیرے پر بیٹھے زمیندار نے دور بیٹھے منشی کو سر کی جنبش سے طلب کیا اور کہا … ”ملازموں کو سختی سے منع کر دو کہ پرسوں شام تک مرغیوں کے ڈربوں میں دانہ نہیں جائے گا۔“
اگلے سے اگلے روز زمیندار نے بیٹے کو ساتھ لیا اور اس احاطے میں گیا جس کے اندر ڈربوں میں سینکڑوں دیسی مرغیاں بند تھیں۔ زمیندار بیٹے کے ساتھ موڑھوں پر بیٹھ گیا اور ساتھ ہی مختلف قسم کا اناج رکھ دیا گیا تو مرغیاں کھول دی گئیں۔ زمیندار نے خود بھی دانوں سے مٹھی بھری اور اپنے قدموں میں بکھیرتے ہوئے بیٹے کو بھی ایسا ہی کرنے کا اشارہ کیا۔ دونوں باپ بیٹا مرغیوں کے نرغے میں تھے۔ کچھ مرغیاں ان کے پاؤں، کچھ ان کے ہاتھوں اور کچھ اردگرد سے دانہ دنکا چگ رہی تھیں۔ باپ بیٹے نے خوب انجوائے کیا اور جب مرغیاں پیٹ بھر چکیں تو دونوں وہاں سے ڈیرے پر اٹھ آئے تو بیٹے نے کہا…
”بابا! بڑا ونڈر فل ایکس پی رئینس تھا“
باپ مسکرایا اور بولا… ”پتر! بڑا نیکی کا کام ہے اور اسی لئے تجھے اچھا بھی لگا ہے، کل پھر چلیں گے۔“
اگلے دن شام زمیندار بیٹے سمیت پھر مرغیوں والے احاطے میں گیا۔ ایکشن ری پلے ہوا… مرغیاں کھولی گئیں لیکن کسی نے بھی زمیندار اور اس کے بیٹے کی طرف دیکھنے تک کی زحمت گوارا نہ کی۔ بیٹا حیران ہوا تو باپ نے فلک شگاف قہقہہ لگاتے ہوئے کہا…
”کل جب یہ مرغیاں ہمارے ہاتھوں پیروں پر لوٹ رہی تھیں تو صرف اس لئے کہ وہ بھوکی تھیں۔ آج ان کے پیٹ بھرے ہوئے ہیں اور اسی لئے انہوں نے ہمیں دیکھنا تک گوارہ نہیں کیا تو برخوردار! اس میں بڑا سبق ہے کہ اگر مرغیاں بھی پیٹ بھرنے پر ”مغرور“ ہو جاتی ہیں تو پترا! انسان تو اشرف المخلوقات ہے… اسے جتنا بھوکا، تنگ، ذلیل اور گھٹیا کر کے رکھو گے اتنا ہی تمہارے لئے ”بڑھیا“ ثابت ہو گا… جتنا ”ادنیٰ“ رکھو گے اتنا ہی ”اعلیٰ“ ہو گا اور تم ان کے بچوں کو پڑھانے کی بات کر رہے ہو جو پڑھ لکھ گئے تو تمہارے بچوں کے مقابلہ پر اتر آئیں گے۔“
قارئین!
حکمران دیہی ہوں یا شہری… زرعی ہوں یا صنعتی ان سب ”ابلیسوں کا مائینڈ سیٹ ایسا ہی ہے۔ جو ”شہری حکمران“ ہوتا ہے اس بدبخت کو ”دیہی عوام“ کے مسائل و معاملات کا علم ہی نہیں ہوتا اور اگر کچھ ہو بھی تو وہ منافق اپنے ”دیہی پارٹنرز“ کو ناراض نہیں کر سکتا اور اگر کوئی ”دیہی حکمران“ ہو تو اس کے لئے دیہی آبادی کی اپ گریڈیشن اس بدمعاش کی اپنی موت ہے یعنی آبادی کی بھاری ترین آبادی کا ہر کوئی دشمن ہے… یہ سب اصل پاکستانیوں کی دشمن ہیں۔ صنعت کاروں، سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور زمینداروں کا سروائیول ہی اس میں ہے کہ ملک کی بھاری ترین اکثریت ان کی محتاج رہے… پیدا ہونے سے لے کر مر جانے اور درمیان میں تھانے تک عوام کو اپنا محتاج اور دست نگر رکھنا ہی ان بدمعاشوں کی ”حکمت عملی“ ہے ورنہ لاہور میں برتھ سرٹیفکیٹ سے لے کر ڈیٹھ سرٹیفکیٹ تک لینے کے لئے ٹکے ٹکے کے سرکاری کلرکوں کو یہ ہدایات کیوں کہ ہر سائل سے کہو کہ اپنے متعلقہ ایم پی اے اور ایم این اے سے فون کرائے یا خط لائے؟ ووٹ لینے کے لئے انسانوں کو اس قدر تنگ اور ذلیل کرنے کی حد تک بھی جایا جا سکتا ہے؟؟؟ میرے وہم و گمان تک میں نہ تھا لیکن شاید اسی کو ”ات خدا دا ویر“ کہا جاتا ہے اور جب یہ اس سطح تک پہنچ جائے تو تاریخ کے بڑے بڑے خاندان بے نام و نشان ہو گئے… یہ سب تو کسی شمار و قطار میں ہی نہیں، ان کی تو اوقات ہی کچھ نہیں… اسی لئے ان کا انجام نوشتہ دیوار ہے ابھی کسی بدکردار کو دکھائی نہیں دے گا۔
تازہ ترین