یہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور برطانیہ کی حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی کی چیئرپرسن اور وزیر سعیدہ وارثی کی مشترکہ پریس کانفرنس تھی جسے میں ٹی وی پر دیکھ اور سن رہا تھا جبکہ عدیم ہاشمی کا یہ شعر مجھے مسلسل ہانٹ کرتا رہا۔
فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا
سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا
سعیدہ وارثی پاکستانی ہے لیکن برطانیہ کی نمائندگی کر رہی تھی کہ یہ عروج و عزت بھی اسے برطانیہ میں ہی مل سکتی تھی۔ پاکستان میں وہ زیادہ سے زیادہ کہیں لیکچرر ہو سکتی تھی… سول سروس جائن کرکے مریم گیلانی کی طرح کسی وزیر کی وجہ سے پریشان اور کھڈے لائن ہو سکتی، فوج میں شمولیت اختیار کرکے میجر جنرل کے منصب تک پہنچ سکتی تھی لیکن کسی بڑی سیاسی جماعت کی چیئرپرسن شپ؟؟؟ جبکہ دوسری طرف شاہ محمود قریشی اگر برطانیہ میں ہوتا تو کیا ”ملتان کا قریشی“ ہونے کی بنیاد پر برطانیہ کا وزیر خارجہ ہو سکتا تھا؟
عجب گورکھ دھندا ہے کہ ایک طرف ہم اپنے اسلاف کے انصاف اور میرٹ پسندی کی باتیں کرتے نہیں تھکتے، دوسری طرف اہل مغرب کا غلبہ اور گلوبل قیادت بھی ہمارے سامنے ہے۔ ہم اپنے اسلاف کی عظمت و عروج اور آج کے مغرب کی برتری کے اسباب سے بھی بخوبی واقف ہیں لیکن اپنے لچھن اور رویے تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں۔ ”پدرم سلطان بود“ نے ہمیں نیست و نابود کرکے رکھ دیا، اجارہ دار طبقوں کی سیاسی اجارہ داری کی بیماری سے نڈھال ہو کر پوری قوم بستر کے ساتھ لگی ہے لیکن تبدیلی دور دور تک دکھائی نہیں دیتی… ہر بار اسی عطار کے لونڈوں سے دوا لیتے ہیں اور کمال یہ کہ ان کی جعلی ڈگریاں بھی پکڑی جائیں تو انہی سے علاج کرانے پر مصر ہیں، تو ہم سے بڑا خودکش بمبار کون ہوا؟
میرٹ کی موت درحقیقت پورے معاشرے کی موت ہوتی ہے، موروثیت، بادشاہت کی مسخ ترین شکل ہے کہ بادشاہ بننے کے لئے تو ”شمشیر ابن شمشیر ابن شمشیر“ کی شرط لازمی تھی… ”نورتن“ ڈھونڈنے پڑتے تھے۔ جنگیں لڑنی ہوتی تھیں، سر دینے یا لینے پڑتے تھے، بابر کی طرح در در دھکے کھا کر بھی اپنے قدموں پر مضبوطی سے قائم رہنا پڑتا تھا۔ شہاب الدین غوری کی طرح زخموں سے چور ہو کر بیہوش ہونے کے بعد گھوڑے کی پیٹھ پر گرنا پڑتا تھا، ہمایوں کی طرح صحراؤں، جنگلوں، ویرانوں میں خاک چھان کر بھی پرعزم رہنا ہوتا تھا… یہ موروثیت تو غلاظت اور نااہلیت کی انتہا ہے کہ بیٹا، پوتا، پڑپوتا نالائق ترین بھی ہو گا تو کروڑوں عوام کی تقدیر کے ساتھ فٹ بال کھیلنے اسمبلی میں پہنچ جائے گا جبکہ مقابلہ کا دعویٰ ان کے ساتھ ہے جن کا ایک کالا پروفیسر اپنی پروفیسری کے دوران سپر پاور کا صدر بننے کا فیصلہ کرتا ہے تو اپنے ٹیلنٹ کے بل بوتے پر چند سالوں کے اندر اندر یہ مقام حاصل کر لیتا ہے کیونکہ کسی بھی منصب کے لئے معیار صرف میرٹ ہے کہ صرف شجرے اور پیسے کے بل بوتے پر ملک کی گردن پر سوار ہونا ممکن ہی نہیں۔
ہم بھی عجیب بدقسمت لوگ ہیں جو ریورس میں سفر کرنے سے باز ہی نہیں آ رہے۔ ہمیں تو یہ بھی یاد نہیں کہ جس نے اس ملک کا خواب دیکھا، اس کا تصور دیا وہ شاعر مشرق کسی جاگیردار یا صنعت کار کی اولاد نہیں تھا۔ علامہ اقبال کا تعلق زیریں متوسط طبقہ سے تھا اور جس نے اس خواب کو تعبیر دی… بابائے قوم محمد علی جناح تو وہ بھی ایک سیلف میڈ انسان تھے تو پھر ہم نے یہ پاکستان ”پیرا سائیٹس“ کے حوالے کیسے کر دیا؟ اور اگر یہ ”پیرا سائیٹس“ قبضہ گروپ کی طرح خود پاکستان پر قابض ہو گئے تو اس ملک کے کروڑوں عوام ابھی تک ان بانجھ، بنجر، بے فیض پیرا سائیٹس سے اس ملک کا قبضہ واپس کیوں نہیں لے سکے؟
شاہ محمود قریشی اور سعیدہ وارثی کی اس مشترکہ پریس کانفرنس کے درمیان مسلسل یہی سوچتا رہا کہ اگر شاہ محمود قریشی انگلینڈ میں ہوتا تو وہاں کیا ہوتا؟ اور اگر سعیدہ وارثی پاکستان میں ہوتی تو زیادہ سے زیادہ کیا ہوتی؟
برطانیہ کی سعیدہ وارثی سے پاکستان کے لاوارث عوام تک کے درمیان کی داستان کوئی پہیلی نہیں جسے بوجھنے کے لئے دماغ پر زیادہ زور ڈالنا پڑے… بہت آسان ہے بشرطیکہ کوئی سمجھنا چاہے کہ پاکستان کے حالات اس وقت تک تبدیل نہیں ہوں گے جب تک اس کے حکمران طبقے تبدیل نہیں ہوتے اور یہ تب تک نہ ہو گا جب تک ہم خود تبدیل نہیں ہوتے۔