آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات17؍رمضان المبارک 1440ھ 23؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دورجدید میں اب بھی کئی ممالک ایسے ہیں جہاں شہنشاہیت، خاندانوں کی بادشاہت، فرد واحد کا اقتدار اور جمہوریت کے لبادے میں شخصی حکمرانی کی حکومتیں قائم ہیں، ان میں مسلم ممالک لمبی فہرست کے ساتھ سرفہرست ہیں۔ انکی طاقت و کامیابی کا اندازہ عوام میں مقبولیت کی بجائے انکےجاہ جلال، مطلق عنانیت اور مرضی کی جمہوری سوچ وفیصلوں سے ہوتا ہے۔ شاید وہ اٹھارہویں صدی کے اٹلی کے انقلابی رہنما فرانسسکو کرسپی کے اس معروف جملے سے متاثر ہیں، "The monarchy unites us; the republic would divide us."
دنیا میں سول لائزڈ سوسائٹی کےارتقاء سے پہلے اور بعد عوام پر حکمرانی کے تین ہی اسلوب رائج ہیں۔Rule, Govern and Regulate.
جب بادشاہت سے عوامی طرز حکومت یا جمہوری دور کی طرف سفر شروع ہوا تو ڈیولوشن آف پاور پہلا بنیادی اصول قرار پایا اور پھر خالص یا حقیقی جمہوریت (عوام کی حکومت) رائج ہونے پر حکومتوں کا کام حکمرانی نہیں بلکہ محض ریگولیٹ کرنا لازم ٹھہرا ہے، ٹھوس سیاسی نظام پر قائم جمہوری معاشرے پر نظر ڈالی جائے تو معاشی یا اقتصادی ترقی یعنی اکنامک ڈویلپمنٹ کے ساتھ سیاسی اداروں کی ترقی یعنی پولیٹکل ڈویلپمنٹ بھی اہم ترین جزو اور جمہوری نظام کی بقا کا ضامن ہوتی ہے، حکومتی نظم ونسق شخصیت پرستی یا کسی خاندانی میراث کے مرہون منت یا کسی مخصوص طاقت پر انحصار نہیں

کرتا۔ انصاف کے ادارے اتنے مضبوط ہوتے ہیں کہ چھوٹی سے لے کر(سپریم کورٹ) بڑی عدالت تک کے کسی جج کے نام تک سے کوئی شناسا ہوتا نہ غرض مند، بڑے سے بڑے اور اہم فیصلوں میں محض کورٹ کا نام آتا ہے کسی جج کا نہیں۔ اس کی ایک مثال امریکہ کی لی جاسکتی ہے، جہاں چند ماہ پہلے امیگرینٹس کا داخلہ روکنے کے صدارتی حکم کو عدالت اپنے آہنی فیصلے سے ردی کا ٹکڑا بنا دیتی ہے لیکن اس جج کا نام کسی اخبار یا ٹی وی کی زینت بنتا ہے نہ نام لے کر عوام اس کی جے جے کار کرتے ہیں۔ لیکن کیا کریں جہاں پورا نظام ہی خاندانی میراث اور شخصیت پرستی کا شکار ہو وہاں کسی بھی سطح پر کوئی عوامی بھلائی کا کام ہو نہ ہو صرف نام مشہور وبلند ہونا ضروری ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی انگریزوں کی نوازشات کے مارے معزز خاندان نہ صرف حکمرانی بلکہ ہر سطح پر عوام کی قسمت کے فیصلوں کے مالک اور اپنی ترقی وخوشحالی کےضامن رہے، عوام باوردی انگریزی لباس میں 40 سال تک فرد واحد کی حکمرانی کی چکی میں بھی پسے، پھر مسائل کے حل اور جمہور کے نام پر شخصی جمہوریت کے مزے لینے سے باز نہ آئے، بعض کو تو مقدس ووٹ سے بار بار اقتدار بھی بخشا، لیکن نتیجہ اور مقدر استحصال ہی نکلا۔ ملکی سیاست میں بھٹو صاحب سےشروع ہونے والے ’’جمہوری‘‘ نظام کو خاندانی روایت بنانے کی ایسی داغ بیل پڑی کہ پھر پدری اور مادری سیاست کے جمہوری تماشے بھی ہر چند سال بعد نظر آنے لگے۔ عوام اٹھ کھڑے ہونے کی بجائے حکمرانوں کی اولاد سے نظام بدلنے کی امید لگائے رہے لیکن اندھا اعتماد اور بےانتہا اقتدارعوام کو محرومیوں سےنجات دلانے کی سوچ کیسے پروان چڑھا سکتا ہے۔ جتنے بھی منظر اور حالات بدل جائیں ذہن میں ناگزیر ہونے کا ترانہ بجتا اور من میں مچلتا رہتا ہے۔ شاید سمجھنے کے لئے سادہ جواب یہ ہوسکتا ہے کہ پوری دنیا کاWisdom کہتا ہے، اگر کوئی شخص کسی بھی بزنس، فیلڈ، ادارے یا حکومت میں 4سے دس سال کا عرصہ بطور سربراہ گزارے اور ان برسوں میں وہ اپنا کوئی ایک بھی متبادل پیدا نہ کرسکے تو یہ ایک Absolute failure ہے۔ کیونکہ کہتے ہیں، “Leadership and learning are indispensable for each other.”لیکن ہم ایسی قوم ہیں کہ ماضی سے سبق سیکھتے ہیں نہ تجربوں سے بلکہ پھر مزید اور نت نئے تجربے کرنے پر یقین رکھتے ہیں اسی میں موقع پرست اپنے مقتدر ہونے کا سبب اور راستہ ڈھونڈتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ خود یا کسی کو ناگزیر سمجھنا ناکام معاشروں کی علامت ہے بے شک وہ جمہوریت کے نام پر رائج کردہ نظام کی بقا معاملہ ہی کیوں نہ ہو۔
سپریم کورٹ سے نااہلی کے بعد سے میاں صاحب نے پارٹی اور اقتدار میں واپسی کے لئے ٹکرانے سمیت ہر حربہ آزمانے کا فیصلہ کیا ہے، پہلے راؤنڈ میں وہ اپنی سیاسی بصیرت اور غیر مرئی سپورٹ سے کسی حد تک کامیاب ہوتے بھی دکھائی دے رہے ہیں، 25ستمبر کو ’’عوام‘‘ کی خاطر آخری حد تک جا کر لڑنے کے اعلان سے کسی بھی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی نفی اور پھر نااہلی کے باوجود دوبارہ پارٹی صدر بننا، سسٹم سے باہر نکال پھینکنے کے’’سنہری خواب‘‘ کو خوفناک تعبیر بنانے کے مترادف ہے۔ تاہم حکومت اور پارٹی کو بدستور خطرات لاحق ہیں، میاں صاحب کے خیال میں ان کی حکومت کا اگلا ایک سال مکمل کرنا اور ان کا بذات خود اقتدار کے ایوانوں میں واپس آنا بچنے کا واحد راستہ ہے، سیاسی نقادوں کی نظر میں یہ سفر جمہوری قدروں کی بجائے Monarchy کی نئی راہوں سے ہو کر گزرتا ہے اور اس کے لئے محترمہ کلثوم نواز کو وزیراعظم بنایا جاسکتا ہے یا میاں صاحب ’’زرداری حکمت‘‘ کے تحت صدر بن کر اپنی حکمت عملی کےتحت آئندہ کی خوفناک جنگ لڑ سکتے ہیں کیونکہ نااہلی کے بعد نیب کورٹس کی تیز رفتار سماعتوں سے ہفتوں میں سزائوں کے سخت فیصلے متوقع ہیں، جنہیں (ماضی میں صدر مشرف کی طرح) موجودہ ممنون صدر معاف بھی کر سکتے ہیں، دیکھا جائے تو میاں صاحب ایک ان دیکھی صورت حال کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں، وہ اپنے اعلان کےباوجود چھوٹے بھائی کو پارٹی صدر یا وزارت عظمیٰ دینا تو کجا اس کی عدم ٹکرائو کی تلقین یا درخواست سننے کے بھی روادار نہیں۔ میاں صاحب کے سیاست میں منہ بولے بھائی بھی بظاہر ان سے دور نظر آتے ہیں لیکن اطلاعات ہیں کہ دونوں ایک صفحہ نہیں بلکہ ایک سطر پر ہیں، سینیٹ میں اکثریت نہ ہونے کے باوجود ن لیگ کا الیکشن بل پاس کرانا اور نئے احتساب کمیشن بل میں ججوں اور جرنیلوں کے احتساب کی شق کی شمولیت باوثوق عندیہ ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ زرداری صاحب کی اسٹیبلشمنٹ سے ’’یس‘‘ ہو جانے کے باوجود مشرف کی جانب سے بی بی کے قتل کا الزام لگایا جانا کسی ’’ناراضی‘‘ کا اظہار ہے، اب زرداری کی فہم وفراست پر منحصر ہے کہ ناراضی مزید آگے بڑھتی یا وہ ’’انہیں‘‘ منانے اور اپنا ہونے کا یقین دلانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ان کی جماعت کے بعض سینئر رہ نمائوں کےخیال میں ان کا خود کو پارٹی کےلئےناگزیر قرار دینا ہی پارٹی کے بحران کا سبب اورعوامی مقبولیت کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے یہ فیصلہ بھی زرداری صاحب نےہی کرنا ہے۔ دوسری طرف ن لیگ پرجب بھی مشکل وقت آتا ہے خان صاحب صورت حال سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی بجائے ان کی مدد کو نکل پڑتے ہیں اب کی بار تو کمال ہی کر دیا، جیسے ہی نوازشریف اور ان کے بچوں کے وارنٹ نکلے اور اسحاق ڈار پر فرد جرم عائد ہوئی،پی ٹی آئی سیاسی ساکھ دائو پر لگانے ایسی جماعت کے گھر پہنچی جن پر اس نے کوئی بدترین الزام لگانے میں کسر نہیں چھوڑی،وہ بھی ایسا خواب لےکرجو شرمندہ تعبیرنہیں ہوسکتا۔ گہری سوچ بچار کے بغیر راتوں رات فیصلے مسلط کرنا خود کو ناگزیر سمجھنے کی علامت، جمہوری اپروچ کی نفی ہے یہی وجہ ہے کہ اب ہرسطح پر تنقید کا سامنا اورعوام میں آکر وضاحتیں دینی پڑ رہی ہیں،خان صاحب کی ان سوئنگ کے تو سبھی معترف تھے اب ریورس سوئنگ پر جناب پرویز رشید کے بیان نےخوب رنگ جمایا کہتے ہیں ’’خان صاحب 2013میں وزیراعظم کے امیدوار تھے، 2017میں اپوزیشن لیڈر کے امیدوار بن گئے،2018 کے بعد وہ نجم سیٹھی کے مقابلے میں پی سی بی کی چیئرمین شپ کے امیدوار ہوں گے‘‘۔ ملک کسی نازک دور سے نہیں گزر رہا صرف سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جمہوریت میں شخصیات نہیں صرف جمہور ناگزیر ہوتے ہیں، سیاست کے کچھ اصول و ضوابط اور اخلاقی تقاضے ہوتے ہیں، جمہوریت وہیں پنپتی ہے جہاں حکمران عوامی مفاد کی خاطر دوسروں سے نہیں خود اپنے ضمیر سے لڑتے ہیں، ایدھی ریاست کے اندر فلاحی ریاست چلا کر دکھا سکتا ہے، عوام کا اربوں روپے کا چندہ بے سہارا، یتیم، لاچار اور بیمار پر خرچ کر کے خود کو اعتماد کی علامت بنا سکتا ہے تو آپ تو حکومت ہیں، خود کو عوام کے اعتماد کے قابل بنائیں تو ہر شخص ازخود ٹیکس دینا شروع کردے، قائداعظم کے پاکستان کی لڑائی لڑنے اور تبدیلی لانے کے دعویدار خود کو ناگزیر سمجھنے کی بجائے فیصلہ سازی میں ملکی وعوامی مفاد اوراصول پرستی کو شعار نہیں بنائیں گے تو جمہور کا جمہوریت پر رہا سہا اعتماد واعتقاد بھی اٹھ جائے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں