• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ناموس رسالت ﷺ پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا تفصیلی فیصلہ

Todays Print

نبی کریمؐ کی ادنیٰ سی بھی بے ادبی، تحقیر یاایسی نیت، تمام صورتیں گستاخی میں شامل ہیں
(قسط نمبر 4)
جسٹس شوکت عزیز صدیقی
اس عورت کی ٹانگوں کے درمیان بچہ پڑا ہوا تھا تو وہ وہاں پر خون سے لتھڑ گیا صبح کو جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اس کا تذکرہ ہوا تو آپ نے لوگوں کو جمع کیا اور کہا کہ میں اس شخص کو جس نے اپنے اوپر میرا حق رکھتے ہوئے یہ فعل کیا ہے اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ وہ کھڑا ہوجائے تو وہ اندھا کھڑا ہوگیا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتا لرزتا کانپتا ہوا آیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بیٹھ گیا اور کہا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اس عورت کا ساتھی ہوں وہ آپ کو برا بھلا کہتی تھی اور آپ کی برائی میں پڑی رہا کرتی تھی میں اسے منع بھی کرتا تھا تو وہ باز نہ آئی تھی اور اسے ڈانٹا ڈپٹا تو اس پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا اور اس سے میرے دو موتیوں جیسے بیٹے ہیں اور وہ میری بڑی اچھی ساتھی تھی گذشتہ رات وہ آپ کو برا بھلا کہنے لگی اور آپ کے بارے میں ایسی ویسی بات کہنے لگی تو میں نے خنجر لے کر اس کے پیٹ پر رکھا اور اس پر تکیہ لگا دیا۔ (زور لگایا) یہاں تک کہ میں نے اسے قتل کردیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ خبردار گواہ رہو اس کا خون ہدر (بیکار اور لغو ہے اس کا قصاص نہیں لیا جائے گا۔
موسٰی بن اسماعیل، حماد، یونس، حمید بن ہل، ہارون بن عبداللہ ، نصیر بن فرج، ابواسامہ، یزید بن زریح، یونس بن عبید، حمید بن ہلال، عبداللہ بن مطرف، حضرت ابوبرزہ ؓ ،الاسلمی ؓ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس ان کے زمانہ خلافت میں بیٹھا ہوا تھا پس وہ کسی آدمی پر غضبناک ہو گئے اور اسے سخت سست کہا میں نے عرض کیا اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اس کی گردن ماردوں؟ ابوبرزہ کہتے ہیں کہ میرے اس جملہ سے ان کا غصہ جاتا رہا اور وہ کھڑے ہو کر گھر کے اندر داخل ہوگئے اور مجھے بلابھیجا اور فرمایا کہ تم نے ابھی کیا کہا تھا میں نے کہا کہ مجھے اجازت دیں تو اس کی گردن ماردوں؟ فرمایا کہ اگر میں تمہیں اس کا حکم دیتا تو کیا تم ایسا کر دیتے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ فرمایا کہ اللہ کی قسم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کسی فرد بشر کے لئے کسی کو قتل نہیں کیا جاسکتا (برابھلا کہنے پر) امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ یزید بن زریع کے ہیں۔
عثمان بن ابوشیبہ، عبداللہ بن جراح، جریر، مغیرہ، شعبی، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی عورت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو برا بھلا کہتی تھی اور آپ کی برائی میں پڑی رہتی تھی ایک آدمی نے اس کا گلا گھونٹ دیا حتیٰ کہ وہ مر گئی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس (عورت) کا خون ہدر (ضائع) قرار دے دیا۔
عثمان بن ابی شیبہ، احمد بن مفضل، اسباط بن نصر، سدی، مصعب بن سعد، حضرت سعد سے روایت ہے کہ جب فتح مکہ کا دن آیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام لوگوں کو امن دیا مگر چار مردوں اور عورتوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا۔ راوی نے ان کے نام ذکر کئے جن میں ابن سرح کا نام بھی تھا پس ابن سرح تو عثمانؓ بن عفان کے پاس چھپ رہے (یہ حضرت عثمانؓ کے رضاعی بھائی تھے) جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو بیعت کے لئے بلایا تو حضرت عثمان ؓ نے بن سرح کو آپﷺ کے سامنے لا کھڑا کیا اور بولے اے اللہ کے نبی ﷺعبداللہ سے بیعت لے لیجئے آپ ﷺنے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور بیعت نہ کی اور تین مرتبہ آپ ﷺنے ایسا ہی کیا تین مرتبہ انکار کرنے کے بعد آپ ﷺنے بیعت لی اور اپنے اصحاب ؓسے فرمایا کیا تم میں کوئی بھی اتنا سمجھدار نہ تھا کہ جب میں نے اس کی بیعت لینے سے ہاتھ کھینچ لیا اور بیعت نہ کی تو اس کو قتل کر ڈالتا صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نہیں سمجھ پائے کہ آپﷺ کے دل میں کیا ہے اگر آپﷺ آنکھ سے بھی اشارہ کر دیتے تو ہم اس کو قتل کر ڈالتے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نبی کے لئے آنکھوں کی خیانت جائز نہیں (یعنی نبی کیلئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ چپکے چپکے آنکھوں سے اشارے کنائے کرے) ابوداد ؒ کہتے ہیں کہ ابن سرح حضرت عثمان ؓکارضاعی بھائی تھا اور ولید بن عقبہ ان کا اخیافی بھائی تھا اس نے شراب پی تو حضرت قنے اس پر حد جاری فرمائی۔
علی بن عبداللہ، سفیان، عمرو بن دینار سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے جابرؓ بن عبداللہ سے سنا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام ؓسے فرمایا کعب بن اشرف یہودی کا کام کون تمام کرتا ہے اس نے اللہ اور رسول(ﷺ) کو بہت ستا رکھا ہے محمد بن مسلمہ انصاری نے کھڑے ہو کر کہا یا رسول اللہ! اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے اجازت دیں تو میں اس کام کو انجام دوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اجازت ہے محمد بن مسلمہ نے کہا مجھے یہ بھی اجازت دے دیجئے کہ جو مناسب سمجھوں وہ باتیں اس سے کہوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت دی غرض محمد بن مسلمہ، کعب بن اشرف کے پاس آئے تو کہا کہ یہ شخص محمد بن عبداللہ ہم سے زکوٰۃ مانگتا ہے ہمارے پاس خود نہیں اور یہ ہم کو ستاتا ہے کعب نے کہا ابھی کیا دیکھا ہے واللہ یہ آگے چل کر تم کو بہت ستائے گا محمد بن مسلمہ نے کہا خیر ابھی تو ہم نے اس کی پیروی کرلی ہے فوراً چھوڑنا بھی ٹھیک نہیں دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے اس وقت میں تمہارے پاس اس لئے آیا ہوں کہ ایک یا دو وسق کھجوریں ہم کو قرض دے دو سفیان کہتے ہیں کہ عمرو بن دینار نے ہم کو کئی مرتبہ حدیث سنائی تو اس میں ایک وسق یا دو وسق کا ذکر نہیں کیا جب میں نے یاد دلایا تو کہنے لگے کہ ہاں میرا خیال ہے کہ ہوگا غرض کعب نے کہا قرض مل جائے گا کچھ رہن رکھ دو میں نے کہا کیا رہن رکھ دوں کعب نے کہا کہ اپنی عورتوں کو رہن رکھ دو، محمد بن مسلمہ نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے ہم عورتوں کو کس طرح رہن کردیں سارے عرب میں تم خوبصورت ہو! اس نے کہا اپنے بیٹے رہن رکھ دو میں نے کہا تمہارے پاس بیٹوں کو کیسے رہن رکھ دیں آئندہ جو ان سے لڑے گا وہ طعنہ دے گا کہ تو ایک یا دو وسق میں رہن رکھا گیا ہے اور اس کو ہم برا سمجھتے ہیں البتہ ہم اپنے ہتھیار رکھ سکتے ہیں سفیان نے لفظ لامہ کی تفسیر سلاح یعنی ہتھیار سے کی ہے محمد بن مسلمہ نے کعب سے دوبارہ ملنے کا وعدہ کیا اور چلے گئے رات کو دوبارہ آئے اور ابونائلہ کو ساتھ لائے جو کعب کا دودھ شریک بھائی تھا کعب نے ان کو قلعہ میں بلا لیا اور پھر ان کے پاس نیچے آنے لگا اس کی بیوی نے کہا اس وقت کہاں جاتے ہو؟ کعب نے کہا یہ محمد بن مسلمہ اور ابونائلہ میرا بھائی ہے جو بلاتے ہیں سفیان کہتے ہیں کہ عمرو بن دینار کے سوا اور لوگوں نے اس حدیث میں اتنا اور زیادہ کیا ہے کہ کعب کی بیوی نے یہ بھی کہا کہ اس کی آواز سے تو خون کی بو آرہی ہے یا خون ٹپک رہا ہے کعب نے کہا کچھ نہیں میرا بھائی ابونائلہ اور محمد بن مسلمہ ہیں اور شریف آدمی کو تو رات کے وقت بھی اگر نیزہ مارنے کے لیے بلائیں تو جانا چاہئے اور محمد بن مسلمہ اپنے ساتھ دو آدمیوں کو اور لائے تھے سفیان سے پوچھا گیا کہ عمرو نے ان کا نام لیا تھا؟ انہوں نے کہا بعض کا لیا تھا مگر دوسروں نے ابوعبس بن جبر اور حارث بن اوس اور عبادہ بن بشر لیا تھا عمرو نے اتنا ہی کہا محمد بن مسلمہ اپنے ساتھیوں کو کہنے لگے کہ کعب جب آئے گا تو میں اس کے سر کے بال تھام کر سونگھوں گا، جب تم دیکھو کہ میں نے مضبوط تھام لیا ہے تو تم اپنا کام کر ڈالنا غرض کعب چادر اوڑھے ہوئے اترا اس کے جسم سے خوشبو مہک رہی تھی محمد بن مسلمہ نے کہا میں نے آج تک ایسی خوشبو نہیں دیکھی جو ہوا میں بسی ہوئی ہے عمرو کے علاوہ دوسرے راوی کہتے ہیں کہ کعب نے جواب میں کہا کہ اس وقت میرے پاس ایسی عورت ہے جو سب عورتوں سے زیادہ معطر رہتی ہے اور حسن و جمال میں بھی بےنظیر ہے عمرو کہتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ نے پوچھا کیا سر سونگھنے کی اجازت ہے؟ اس نے کہا ہاں محمد بن مسلمہ نے خود بھی سونگھا اور ساتھیوں کو بھی سونگھایا پھر دوبارہ اجازت لے کر سونگھا اور زور سے تھام لیا اور ساتھیوں سے کہا ہاں اس کو لو! انہوں نے فوراً کام تمام کردیا اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر قتل کعب کی خوشخبری سنائی۔
یوسف بن موسٰی، عبیداللہ بن موسٰی، اسرائیل، ابواسحاق، براء بن عازب ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابورافع کے پاس کئی انصاریوں کو بھیجا اور عبداللہ بن عتیق ؓ کو سردار مقرر کیا ابورافع دشمن رسول تھا اور مخالفین رسول کی مدد کرتا تھا اس کا قلعہ حجاز میں تھا اور وہ اسی میں رہا کرتا تھا جب یہ لوگ اس کے قلعہ کے قریب پہنچے تو سورج ڈوب گیا تھا اور لوگ اپنے جانوروں کو شام ہونے کی وجہ سے واپس لا رہے تھے عبداللہ بن عتیق ؓ نے ساتھیوں سے کہا تم یہیں ٹھہرو میں جاتا ہوں اور دربان سے کوئی بہانہ کرکے اندر جانے کی کوشش کروں گا چنانچہ عبداللہ گئے اور دروازے کے قریب پہنچ گئے پھر خود کو اپنے کپڑوں میں اس طرح چھپایا جیسے کوئی رفع حاجت کے لئے بیٹھتا ہے قلعہ والے اندر جا چکے تھے دربان نے عبداللہ ؓ کو یہ خیال کرکے کہ ہمارا ہی آدمی ہے آواز دی اور کہا! اے اللہ کے بندے اگر تو اندر آنا چاہتا ہے تو آ جا کیونکہ میں دروازہ بند کرنا چاہتا ہوں عبداللہ بن عتیقؓ کہتے ہیں کہ میں یہ سن کر اندر گیا اور چھپ رہا اور دربان نے دروازہ بند کرکے چابیاں کیل میں لٹکا دیں جب دربان سو گیا تو میں نے اٹھ کر چابیاں اتارلیں اور قلعہ کا دروازہ کھول دیا تاکہ بھاگنے میں آسانی ہو ادھر ابورافع کے پاس رات کو داستان ہوتی تھی وہ اپنے بالا خانے پر بیٹھا داستان سن رہا تھا جب داستان کہنے والے تمام چلے گئے اور ابورافع سو گیا تو میں بالا خانہ پر چڑھا اور جس دروازہ میں داخل ہوتا تھا اس کو اندر سے بند کرلیتا تھا اور اس سے میری یہ غرض تھی کہ اگر لوگوں کو میری خبر ہوجائے تو ان کے پہنچنے تک میں ابورافع کا کام تمام کردوں غرض میں ابورافع تک پہنچا وہ ایک اندھیرے کمرے میں اپنے بچوں کے ساتھ سو رہا تھا میں اس کی جگہ کو اچھی طرح معلوم نہ کرسکا اور ابورافع کہہ کر پکارا اس نے کہا کون ہے؟ میں نے آواز پر بڑھ کر تلوار کا ہاتھ مارا میرا دل دھڑک رہا تھا مگر یہ وار خالی گیا اور وہ چلایا میں کوٹھڑی سے باہر آ گیا اور پھر فوراً ہی اندر جا کر پوچھا کہ اے ابورافع تم کیوں چلائے؟ اس نے مجھے اپنا آدمی سمجھا اور کہا تیری ماں تجھے روئے ابھی کسی نے مجھ پر تلوار سے وار کیا ہے یہ سنتے ہی میں نے ایک ضرب اور لگائی اور زخم اگرچہ گہرا لگا لیکن مرا نہیں آخر میں نے تلوار کی دھار اس کے پیٹ پر رکھ دی اور زور سے دبائی وہ چیرتی ہوئی پیٹھ تک پہنچ گئی اب مجھے یقین ہوگیا کہ وہ ہلاک ہوگیا پھر میں واپس لوٹا اور ایک ایک دروازہ کھولتا جاتا تھا اور سیڑھیوں سے اترتا جاتا تھا میں سمجھا کہ زمین آگئی ہے چاندنی رات تھی میں گر پڑا اور پنڈلی ٹوٹ گئی میں نے اپنے عمامہ سے پنڈلی کو باندھ لیا اور قلعہ سے باہر آکر دروازہ پر بیٹھ گیا اور دل میں طے کرلیا کہ میں اس وقت تک یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک اس کے مرنے کا یقین نہ ہوجائے آخر صبح ہوئی مرغ نے اذان دی اور قلعہ کے اوپر دیوار پر کھڑے ہو کر ایک شخص نے کہا کہ لوگو! ابورافع حجاز کا سوداگر مر گیا میں یہ سنتے ہی اپنے ساتھیوں کی طرف چل دیا اور ان سے آکر کہا اب جلدی چلو یہاں سے اللہ نے ابورافع کو ہلاک کرا دیا اس کے بعد ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آکر خوشخبری سنائی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے پیر کو دیکھا اور فرمایا کہ اپنا پاؤں پھیلاؤ میں نے پھیلایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دست مبارک پھیر دیا بس ایسا معلوم ہوا کہ اس پیر کو کوئی صدمہ نہیں پہنچا۔
عبداللہ بن یوسف، مالک، ابن شہاب، انس بن مالک ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) فتح مکہ کے سال اس حال میں داخل ہوئے کہ آپ(ﷺ) خود پہنے ہوئے تھے جب آپ(ﷺ) نے اس کو اتارا تو ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ ابن خطل کعبہ کے پردہ سے لٹکا ہوا ہے آپﷺ نے فرمایا کہ اسے قتل کر دو۔
9۔نبی کریم ﷺ کی ادنیٰ سی بھی بے ادبی ، توہین و تنقیص ، تحقیر و استخفاف خواہ باالواسطہ ہو یا بلا واسطہ ، با الفاظ صریح ہو یا باانداز اشارہ و کنایہ ، تحقیر کی نیت ہو یا بغیر نیت تحقیر کے یہ تمام صورتیں گستاخی میں شامل ہیں ۔ اسی طرح آپ ﷺ کی ذات گرامی ، آپ ﷺ کی صفات و عادات ، اخلاق و اطوار ، آپ ﷺکے اسماء گرامی اور ارشادات اور آپﷺ سے متعلقہ کسی بھی چیز کی ادنیٰ اور معمولی سی تحقیر یا اس میں کوئی عیب نکالنا بھی گستاخی اور موجب کفر ہے ۔ ہر شخص جو حضور ﷺ کی ذات اقدس میں عیب اور نقص کا متلاشی ہو آپ ﷺ کے اخلاق و کردار ، خصائل و اوصاف حمیدہ ، نسب پاک کی طہارت و پاکیزگی اور آپ ﷺ کی عظمت و حرمت کی طرف عیب منسوب کرتا ہو تو نہ صرف یہ کہ ضلالت و گمراہی اس کا مقدر بن جاتی ہے بلکہ ایسے بد بخت و جود سے اس زمین کو پاک ہونا بھی ضروری ہے یہی وجہ ہے فقہاء امت ایسے بد بخت کے واجب القتل ہونے پر متفق ہیں ۔
بلاشبہ اس موضوع پر وافر علمی ذخیرہ موجود ہے اور یقیناً ہر دور اور ہر زمانے کے اہل علم نے ناموس رسول ﷺ کو اپنے ایمان کا لازمی جز و تصور کرتے ہوئے اس موضوع پر قرآن و سنت کے موقف کی بسط و وضاحت کی ہے ۔ تاہم مالکیہ میں ابوالفضل قاضی عیاض اندلسی کی کتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ حنابلہ میں شیخ الاسلام مجتہدِ اُمت حضرت امام ابن تیمیہ ؒ کی ضخیم کتاب "الصارم المسلول علی شاتم الرسول " شافعیہ میں مجتہدعصؔر امام تقی الدین ابو الحسن علی السبکی کی معرکۃ الاراء تصنیف السیف المسلول من سب الرسول اور احناف میں علامہ ابن عابدین شامی ؒ کی کتاب "تنبیۃ الولاۃ و الحکام علی احکام شاتم خیر الانام او احد اصحابہ الکرام" اپنے موضوع پر کمال ہیں اور سند کا درجہ رکھتی ہیں ۔ناموس ِرسالتﷺ کے حوالے سے گستاخ رسول کی قانونی و شرعی حیثیت اور اس کی سزا کے حوالے سے امت ِ مسلمہ کا اجماع جو کہ قرون اولیٰ سے چلا آ رہا ہے ان تصانیف میں انتہائی شرح و بسط سے بیان کیا گیا ہے ۔ چونکہ مندرجہ بالا تصانیف اس موضوع پرمصادر و مراجع اور ماخذ و امہاتِ کا درجہ رکھتی ہیں اور چاروں بڑے فقہی مسالک سمیت امت کے متفقہ اجماعی مؤقف کی ترجمانی کرتی ہیں لہٰذا ان میں سےبعض کتب کے چند اقتباس اسلامی فقہ کے تیسرے مصدر اجماع امت کو اس مسئلہ میں واضح کرتے ہیں :
"جس قدر آپ ﷺ کی توقیر و عزت ہے اسی کے موافق اللہ نے آپ ﷺ کی ایذا رسانی کو اپنی کتاب میں حرام قرار دیا ہے اور ساری امت کا اس امر پر اجماع ہے کہ جو شخص آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرے یا آپ ﷺ کو بُرا کہے وہ واجب القتل ہے ۔
ابو بکر بن منذر نے کہا ہے کہ عامہ اہل علم کا اس امر پر اجماع ہے کہ جو شخص نبی اکرم ﷺ کو گالی دے اسے قتل کر دینا چاہیے ۔ یہ بات حضرت مالک بن انس 'لیث ' احمد اور اسحاق وغیرہم نے بھی کہی ہے ' یہی امام شافعی کا بھی مسلک ہے ۔
البتہ اس معاملے میں کوئی اختلاف نہیں کہ ایسا شخص مباح الدم ہے ۔ سلف ؒ امت اور تمام دیاروامصار کے علماء اس بات پر متفقہ ہیں ،بہت سے علماء نے لکھا ہے کہ ایسے شخص کے قتل و تکفیر پر اجماع ہے ۔تمام علمائے امت کا اس امر پر اجماع ہے کہ شاتم النبی یاوہ شخص جو آپ ﷺ میں نقص نکالے کافر اور مستوجب و عید عذاب ہے اور پوری امت کے نزدیک واجب القتل ہے جو شخص ایسے کافر اور مستحق عذاب ہونے میں شک کرے وہ خود کافر ہے ۔
ابن القاسم نے عتبیہ میں لکھا ہے کہ " جو نبی اکرم ﷺ کو گالی دے یا آپ ﷺ پر عیب لگائے یا آپ ﷺ میں نقص نکالے اسے قتل کیا جائے اور ساری امت کے نزدیک اس کو قتل کرنے کا حکم اسی طرح ہے جس طرح زندیق کو قتل کرنے کا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی تعظیم و توقیر کو فرض قرار دیا ہے ۔
عقل اور قیاس کا بھی تقاضا یہی ہے کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کو گالی دے یا آپ ﷺ میں نقص نکالے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا قلب بیمار ہے اور اس کے باطن میں کفر چھپا ہوا ہے 'اسی لیے اکثر علماء نے ایسے شخص کو مرتد قرار دیا ہے ۔ امام مالک اور اوزاعی سے شامی علماء نے یہی روایت کی ہے ، یہی سفیان ثوری ، امام ابوحنیفہ اور علمائے کوفہ کی رائے ہے اور ایک دوسراقول یہ ہے کہ نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کفر کی دلیل ہے ،لہٰذا حد شرعی کے تحت اسے قتل کیا جائے گا گو کہ اس پر کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا ۔ البتہ اگر وہ اپنی اس گستاخی اور دریدہ ذہنی پر اصرار کرے اور اپنے فعل کو برا نہ جانے نہ اس سے باز رہے تو وہ کافر ہے اس کاقول صریح ہے اور یہ بالکل ایسا ہی ہے گویا کہ اس نے نبی کریم ﷺ کی تکذیب کی ۔ یا اگر وہ آپ ﷺ کی مذمت کے کلمات کہے یا آپ ﷺ کا مذاق اڑائے اور یہ جانتے ہوئے کہ وہ مذمت کر رہا ہے تو بہ کرنے سے انکار کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپ ﷺ کی مذمت اور آپ ﷺ پر دُشنام طرازی کو حلال سمجھتا ہے ، جو صریحا ً کفر ہے۔لہٰذا ایسا شخص بلا اختلاف کافر ہے" ۔
امام ابن تیمیہ اجماع کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
اکثر علماء کا موقف یہی ہے۔ ابن المنذر کہتے ہیں کہ عام علماءکو اس امر پر اجماع ہے کی نبی ﷺ کی توہین کرنے والے کی حد قتل ہے ۔ اما م لیث، احمد، اسحاق اورامام شافعی کا قول یہی ہے مگر نعمان ( ابو حنیفہ)سے منقول ہے کہ اسے ( ذمی) قتل نہ کیا جائے ، اس لیے کہ جس شرک پر وہ قائم ہے وہ توہین رسالت سے عظیم تر جرم ہے ۔ اصحاب شافعی میں ابو بکر فارسی نے اس امر پر مسلمانوںکا اجماع نقل کیا ہے کہ جو شخص رسول ﷺ کو گالی دے اس کی حدِ شرعی قتل ہے جس طرح کسی اور کو گالی دینے کی سزا کوڑے مار نا ہے ۔ جو اجماع انہوں نے نقل کیا اس سے صدر اول ، یعنی صحابہ و تابعین ، مراد ہے یااس کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کو گالی دینےوالا اگر مسلم ہو تو واجب القتل ہے ، قاضی عیاض نے بھی اسی طرح کہا ہے ، فرماتے ہیں کہ اس بات پر امت کا اجماع منعقدہے کہ اگر مسلمانوں میں سے کوئی شخص رسول ﷺ کی توہین کرے یا آپ ﷺ کو گالی نکالے تو اسے قتل کیا جائے ۔ اسی طرح دیگر علماء سے بھی رسول ﷺ کی توہین کرنے والے کے واجب القتل اور کافر ہونے کے بارے میں اجماع نقل کیا گیا ہے ۔ امام اسحاق بن راہویہ فرماتے ہیں کہ اس بات پر مسلمانوں کا اجماع منعقد ہے کہ جو شخص اللہ یااس کے رسول کو گالی دے یا خدا کے نازل کردہ کسی حکم کو رد کر دے یا کسی نبی کو قتل کرے تو وہ اس کی بنا پر کافر ہو جاتا ہے اگر چہ وہ خدا کے نازل کردہ تما م احکام کو مانتا ہو ۔ امام خطابی فرماتے ہیں کہ میرے علم کی حد تک کسی مسلمان نے بھی اس کے واجب القتل ہونے میں اختلاف نہیں کیا ،۔محمد بن سحنون کہتے ہیں کہ اس بات پرعلماء کا اجماع ہے کہ نبی ﷺکو گالی دینےوالا اورآپ ﷺ کی توہین کرنے والا کافر ہے ، اس کے بارے میں عذاب خدا وندی کی وعید آئی ہے ۔ امت کے نزدیک اس کا حکم یہ ہے کہ اُسے قتل کیا جائے ، جو شخص اس کے کفر اور سزا میں شک کرے وہ بھی کافر ہے ۔
جہاں تک فقہ جعفریہ کا تعلق ہے تو اس مسئلہ میں امام خمینی کا واضح اور دو ٹوک موقف اپنی مثال آپ ہے ۔نہ صرف فقہ جعفریہ بلکہ ملت اسلامیہ کے موقف کی ترجمانی کرتے ہوئے امام خمینی نے سلمان رشدی (ملعون ) کے واجب القتل ہونے کا فتویٰ صادر فرمایا ۔ بعد ازاں امام خمینی کے اسی فتویٰ کی توثیق کرتے ہوئے امام آیت اللہ خامنہ ای نے یہ قرار دیا کہ امام خمینی کا فتویٰ نافذ العمل رہے گا تا کہ کسی گستاخ کو نبی مکرم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی دوبارہ جسارت نہ ہو۔
ابتدائے اسلام میں اس مسئلے پر صرف نظر کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے امام ابن تیمیہ بیان کرتے ہیں کہ:
ابتدائے اسلام میں تالیف قلب اور لوگوں کو ایک کلمے پر جمع کرنے کی ضرورت تھی لیکن جب اسلام مستحکم ہو گیا اور اسے اللہ نے دیگر ادیان پر غالب کر دیا تو پھر (حکم تبدیل ہو گیا ) جس شخص پر قدرت ہوئی اور جس کی شرارت و فتنہ انگیزی مشہور ہو گئی اسے قتل کرنے کا حکم دیا گیا جیسے آپ ﷺ نے ابن خطل کے قتل اور لوگوں کے قتل کا فتح مکہ کے دن حکم دیا ( جو بہت فتنہ پرور تھے ) یا یہودی سرداروں کوترکیب سے قتل کرنے کی اجازت دی یا جو لوگ آپ ﷺ کی ایذا رسانی میں لگے رہتے تھے تو جب آپﷺ کو ان پر غلبہ حاصل ہوا تو ان کی فطرت اور طبعئ شرارت کے باعث آپ ﷺ نے ان کے قتل کی اجازت دی۔
نیز یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ وہ لوگ ابھی نئے نئے مسلمان ہوئے تھے ۔واضح نہیں تھا کہ ان میں کتنے لوگ کفر کی آلودگیوں سے بالکل پاک ہو چکے ہیں اور کتنے ہنوز ملوث ہیں پھر بھی سارے عرب میں یہ بات مشہور ہو چکی تھی کہ وہ مسلمان ہو گئے ہیں اور بظاہر وہ (منافق ) نبی کریم ﷺ کے صحابی اور دین اسلام کے اعوان و انصار سمجھے جاتے تھے ایسی صورت میں اگر نبی کریم ﷺ ان کے نفاق اور ان باتوں کی وجہ سے جو کبھی کبھا ر ان پر ظاہر ہوتیں یا اس علم کی بناء پر جو نبی کریمﷺ کو دلی خیالات پر واقفیت حاصل ہونے سے ہوتا تو انہیں قتل کر دیتے تو لازماًاس سے اسلام سے نفرت پیدا کرنے والے کو موقع مل جاتا اور ان کے منہ میں جو آتا کہتے ۔ اس سے جاہل لوگ شک میں پڑ جاتے ، دشمن جھوٹی باتیں بناتا اور بہت لوگ اسلام قبول کرنے اور آپ ﷺ کی صحبت اختیار کرنے سے گھبراتے ، یا بد گمانی کرنے والا بد گمانی کرتا یا ظالم دشمن یہ خیال کرتا کہ شاید آپ ﷺ نے انہیں کسی عداوت کی بنا پر یا بدلہ لینے کے لیے قتل کرایا ہے ۔
(جاری ہے)

تازہ ترین