اسلام آباد (نیوز رپورٹر) مولانا محمد حنیف جالندھری اور اتحاد تنظیمات مدارس کے دیگر قائدین کی کوششوں سے مدارس کی درجہ عالیہ کی سند کو بی اے کے مساوی تسلیم کر لیا گیا۔ اب صرف دو لازمی مضامین کا امتحان پاس کرنا ہوگا۔ ایچ ای سی کی طرف سے بی اے اور ایم اے کے معادلہ سرٹیفکیٹ کیلئے مڈل کی سند کا مطالبہ نہیں کیا جائیگا۔ حکومتی ذمہ داران کی طرف سے دینی مدارس کے فضلاء سے امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جائیگا۔ اس حوالے سے حکومت کی طرف سے زیادہ مضامین پر اصرار کیا جا رہا تھا جسے کم کر کے دو کروایا گیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل دینی مدارس کے فضلاء کی صرف عالمیہ کی سند کو ایم اے اسلامیات اور عربی کے مساوی تسلیم کیا جاتا تھا لیکن عالیہ کی سند کی سرکاری طور پر کوئی حیثیت نہیں تھی۔ اہل مدارس کئی عشروں سے مطالبات کرتے چلے آ رہے تھے کہ صرف عالمیہ ہی نہیں بلکہ ثانیہ عامہ، ثانویہ خاصہ اور عالیہ کی اسناد کو بھی بالترتیب میٹرک، انٹرمیڈیٹ اور بی اے کے مساوی تسلیم کیا جائے۔ دریں اثناء دینی مدارس کے فضلاء کو پیش آنے والی ایک اور مشکل سے بھی نجات مل گئی ہے حالیہ مذاکرات میں یہ فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے کہ دینی مدارس کے فضلاء سے ایچ ای سی کی طرف سے معادلہ سرٹیفکیٹ کے اجراء کے وقت مڈل کا سرٹیفکیٹ طلب نہیں کیا جائیگا۔ اس ریلیف سے ملک بھر کے دینی مدارس کے فضلاء میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔