• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بلوچ قیام پاکستان کے وقت ناراض تھے، آج بھی ناراض ہیں، جو بہت زیادہ ناراض ہیں وہ اس وقت بھی ہتھیار اٹھا کر پہاڑوں پر چلے گئے تھے۔ آج بھی پہاڑوں پر، یا پہاڑی راستوں میں اپنے غم و غصے کا مختلف صورتوں میں اظہار کر رہے ہیں۔ اس مزاحمتی عمل کے نتیجے میں صرف 2010ء میں کوئی ڈیڑھ سو افراد ٹارگٹ کلنگ اور تقریباً اتنے ہی دھماکوں کی نذرہو چکے ہیں۔ مختلف علاقوں سے ملنے والی پچاس سے زائد مسخ شدہ لاشیں اسکے علاوہ ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں خفیہ ایجنسیوں نے اغوا کرکے مارڈالا اور ان کی لاشیں گمنام مقامات پر پھینک دیں تاکہ دوسرے لوگ ان کے انجام سے عبرت پکڑیں۔ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے زیاد تر دوسرے صوبوں خصوصاً پنجاب سے آئے ہوئے آبادکار ہیں۔ مگر بہت سے بلوچ بھی مارے گئے ہیں۔ مزاحمت کار اپنی تحریک سے عملی ہمدردی نہ رکھنے والے کسی بھی شخص کو معاف کرنے کیلئے تیار نہیں۔ ان کے بقول آزادی کی جنگ میں جوان کے ساتھ نہیں وہ ایجنسیوں کا مخبر اور بلوچ وطن کا دشمن ہے۔ بلوچستان کے اندرونی علاقوں میں دودرجن سے زائد پنجابی ٹیچرز بھی مارے گئے ہیں جبکہ سیکڑوں مردو خواتین اساتذہ نے یا تو محفوظ شہروں میں تبادلے کرالئے ہیں یا نوکریاں چھوڑ کر اپنے آبائی علاقوں کو چلے گئے ہیں۔ اس سے اندرون بلوچستان تعلیم کا نظام ٹھپ ہو کررہ گیا ہے۔
بہت سے ناراض بلوچ ایسے بھی ہیں جو مزاحمت کاروں کے موٴقف سے اتفاق تو رکھتے ہیں مگر ان کی طرح جانیں لینے اور جانیں دینے سے متفق نہیں۔ وہ بلوچستان سے ہونے والی زیادتیوں پر سراپا احتجاج ہیں اور ان کا ازالہ چاہتے ہیں مگر اس مقصد کیلئے جاری تحریک کو تشدد اور قتل وغارت سے پاک رکھنے کے حامی ہیں۔ وہ اپنی جدوجہد کو پرامن رکھنا چاہتے ہیں اور اس وقت کا انتظار کررہے ہیں جب تاریخ کا پہیہ گھوم کر ان کے حق میں ہوجائے اور انہیں ماضی میں ہونے والے معاہدوں کے تحت سیاسی آزادی، انتظامی خودمختاری اور مالی وسائل پر اختیار مل جائے جسکی خواہش ان کے دلوں میں تلاطم بپا کر رہی ہے۔ ان لوگوں میں کئی نواب، سردار، میر، معتبر، ٹکری، ارباب اقتدار، بیورو کریٹ، تاجر، صنعت کار، زمیندار، علما نوجوان اور اہل علم و دانش شامل ہیں۔ بعض سیاسی پارٹیاں طلباتنظیمیں اور حکومت یا حکومت سے باہر بے شمار لوگ بھی اسی نکتہ نظر کے حامی ہیں۔ لیکن یہ لوگ پاکستان سے وفاداری کو بلوچستان کے حقوق سے دستبرداری کے ساتھ مشروط نہیں کرسکتے۔ وہ بطور بلوچ اپنی شناخت پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔ حتیٰ کہ وہ مذہب کو بھی بلوچیت پر فوقیت نہیں دیتے۔ مذہب کو وہ خالصتاً ایک ذاتی معاملہ سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ سات ہزارسال سے بلوچ، چودہ سو سال سے مسلمان اور 63سال سے پاکستانی ہیں۔ یعنی سب سے پہلے بلوچ اور سب سے آخر میں پاکستانی۔ وہ بھی مکمل صوبائی خودمختاری کے ساتھ۔ سردار عطاء اللہ مینگل، جن کی ساری زندگی بلوچوں کے حقوق کے لئے لڑتے گزری کہتے ہیں کہ مسائل کا حل بندوق کی نوک پر ممکن نہیں ”یہ لڑکے جو کچھ کرتے ہیں، آئے دن پنجابیوں کو مارتے ہیں، یہ غلط ہے، میں اس کے حق میں نہیں ہوں۔ لیکن سرکار کو بھی سمجھداری کا مظاہرہ کرنا چاہئے جو لوگوں کے حقوق اور ان کی حفاظت کا دعویٰ کرتی ہے، جن لوگوں کا ان واقعات میں ہاتھ ہے، حکومت پکڑ کر ان کا ٹرائل کرے۔ انہیں باقاعدہ سزا دے۔ کسی بھی بے گناہ کو پکڑ کراسکی لاش سڑک پر پھینک دینا اور کہنا کہ لویہ تمہارا تحفہ ہے، کسی مہذب حکومت کا کام نہیں۔“ یہ رائے اس سردار کی ہے جسے عوام نے اپنے ووٹوں سے صوبے کا پہلا وزیراعلیٰ منتخب کیا تھا۔ اسلام آباد کی حکومت نے صرف نوماہ بعد اسے برطرف کرکے گھر بھیج دیا۔ ایک اور بڑے سردار جو اینٹی پنجاب ہونے کی شہرت رکھتے ہیں، ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہتے ہیں ”ہمارے ایک طرف سمندر ہے اور دوسری طرف پنجاب، سمندر میں ڈوبنے سے بہتر ہے پنجاب کی مجبوری کو گلے سے لگا لو۔ اس سوچ کو سمجھنے اسے قومی مفاد میں ابھارنے اور ایسی سوچ رکھنے والوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی توفیق ہمارے حکمرانوں کو آج تک نہیں ہوئی۔ وہ صرف ڈنڈے کو بلوچستان کے مسئلے کا حل سمجھتے ہیں۔ مگر ڈنڈے تو بلوچوں نے اپنی سات ہزار سالہ تاریخ میں بہت کھائے ہیں۔ کبھی عربوں سے، کبھی ایرانیوں سے، کبھی افغانوں سے اور کبھی انگریزوں سے۔ قیام پاکستان کے بعد بلوچستان میں پانچ زوردار آپریشن ہوچکے ہیں۔ 1973-77کا آپریشن کا تو لوگوں کو ابھی تک یاد ہے۔ بلوچوں نے ہربار تمام سختیاں برداشت کیں مگر اپنی آزادمنش زندگی اور سوچ سے دستبردار نہیں ہوئے۔
ناراض بلوچوں کا ایک طبقہ وہ ہے جو پاکستان کو اپنا ملک لیکن بلوچستان کو اپنا وطن سمجھتا ہے۔ یہ پاکستان سے نہیں، پاکستان کے حکمرانوں سے ناراض ہے۔ اس کے نزدیک بلوچستان کی صوبائی خودمختاری ہی اسکے مسئلے کا واحد حل ہے اور یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ بنگالی بھی یہی چاہتے تھے، پنجاب سندھ اور خیبرپختونخوا کے لوگ بھی یہی چاہتے ہیں، خود ہمارے آئین میں بھی اسکی ضمانت موجود ہے۔ مگر بدقسمتی سے اسلام آباد کے قتدار پر جو بھی براجمان ہوتا ہے وہ ملک کے تمام اختیارات پر قبضہ کرلیتا ہے کسی دوسرے کو شریک نہیں ہونے دیتا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان ایک بار دولخت ہوچکا ہے۔ اب یہ سوچ بدلنا ہوگی۔ خصوصاً بلوچستان کے معاملے میں، کیونکہ بلوچ قوم بلوچ سیاستدان اور بلوچ دانشورسب کا اصرار ہے کہ قلات ایک الگ ملک تھا۔ ہندوستان کا حصہ کبھی نہیں رہا۔ برصغیر کی تقسیم کے وقت بلوچستان کے مسئلے پر 4اگست 1947ء کو دہلی میں جو گول میز کانفرنس ہوئی اور جس میں وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن، قائداعظم محمد علی جناح، نوابزادہ لیاقت علی خان اور خان قلات میر احمد یار خان بھی شریک تھے، اس نے متفقہ فیصلہ دیا تھا کہ 15اگست کوریاست قلات کی وہ خودمختار حیثیت بحال ہوجائے گی جو اسے 1838ء میں انگریزوں کی دستبرد سے پہلے حاصل تھی۔ اس روز انہی لیڈروں کے دستخطوں سے ایک معاہدہ ہوا تھا جس میں پاکستان نے قلات کو ایک آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے تسلیم کر لیا تھا۔ یہ اسی معاہدے کا نتیجہ تھاکہ میر احمد یار خان نے 15اگست کو قلات کی آزادی کا باقاعدہ اعلان کیا۔ قلات کا پرچم لہرایا گیا اور نمازجمعہ میں ان کے نام کا خطبہ پڑھا گیا۔ پھر خان قلات نے قلات کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں اور ایوان بالا تشکیل دے کر ستمبر میں ان کا پہلا اجلاس طلب کیا جس نے اعلان آزادی کی توثیق کی یہ بعد کی بات ہے کہ قائداعظم کے ذاتی اثرورسوخ، حکومت پاکستان کے دباؤ اور بعض دوسرے عوامل کی وجہ سے خان قلات نے اپنی پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کی مخالفت کے باوجود پاکستان سے الحاق کا معاہدہ کر لیا جسکی رو سے قلات کو مکمل خودمختاری دی گئی تھی۔ بلوچوں کو یہ پوزیشن بھی منظور نہ تھی چنانچہ انہوں نے خان کے بھائی کی قیادت میں بغاوت کردی اسے کچلنے کے لئے فوج بھیجی گئی جس میں پنجابیوں کی اکثریت تھی، اس سے بلوچوں میں پنجاب کے خلاف نفرت کو ہواملی، جو آج تک برقرار ہے۔ بغاوت تو ختم ہوگئی مگر الحاق کا معاہدہ بھی بالائے طاق رکھ دیا گیا اور قلات کو جو ابھی برٹش بلوچستان اور مستجار علاقوں کی شمولیت سے صوبہ بلوچستان نہیں بنا تھا داخلی مختاری بھی نہ دی گئی۔ بلوچ آزادی کو وقتی طورپر بھول کر خودمختاری کی جدوجہد میں مصروف ہوگئے۔ بلوچستان کو صوبے کا درجہ دیا گیا تو بھی یہ جدوجہد جاری تھی، جب وہاں پہلی منتخب حکومت قائم ہوئی تو صوبائی خودمختاری کی توقع بھی بڑھ گئی مگر صرف نوماہ بعد منتخب حکومت کو چلتا کرکے لوگوں کے دلوں میں صوبائی خودمختاری کی جگہ پھر مکمل خودمختاری کی آرزو جگا دی گئی جس نے آگے چل کر آزادی کے نعروں کی شکل اختیار کرلی۔ نیب کی منتخب حکومت کے ساتھ یہ سلوک نہ ہوتا تو آج بلوچستان کی صورتحال شاید مختلف ہوتی۔
اس وقت بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت قائم ہے اور وزیراعلیٰ نواب محمد اسلم رئیسانی کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے جو مرکز میں برسراقتدار ہے مگر صوبے کے اختیارات بدستور مرکز کے پاس ہیں۔ اسلم رئیسانی اس سے پہلے دوبار صوبے کے وزیر رہ چکے ہیں۔ اب وزیراعلیٰ ہیں اور ناراض لوگوں سے بات چیت کرکے انہیں پہاڑوں سے اترنے اور مرنے مارنے کا راستہ ترک کرنے پرآمادہ کرنا چاہتے ہیں لیکن وفاقی حکومت انہیں اس کا پورا اختیار دینے کو تیار نہیں۔ نواب صاحب کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت بلوچستان کے مسائل کے حل کے لئے سرگرم تعاون کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ ملک کا یہ پسماندہ ترین صوبہ دوسرے صوبوں کے برابر نہ آسکے۔ مگر اسلام آباد میں ان کی بات کوئی نہیں سنتا۔ نہ کوئی ان سے مشاورت کرتا ہے۔ بلوچستان کو وفاق کے کلیدی عہدوں پر کوئی نمائندگی حاصل نہیں۔ میرظفراللہ جمالی پہلے شخص تھے جنہیں نمائش کے لئے وزیراعظم بنایا گیا مگر جلد ہی چلتا کر دیا گیا۔ ان کا تجزیہ یہ ہے کہ بلوچستان کے الگ ہونے میں صرف دوقدم رہ گئے ہیں۔ علیحدگی پسندی کو اس لئے تقویت ملی کہ مجھے اور چیف جسٹس افتخار چوہدری کو ہٹایا گیا اور نواب اکبربگٹی کو قتل کردیا گیا۔ ناراض لوگ حکومت سے باہر ہی نہیں، اسکے اندر بھی ہیں۔ ایک صوبائی وزیر جن کا تعلق بی این پی (عوامی) سے ہے کھلے عام کہتے ہیں ”میں بلوچ مزاحمت کاروں کی حمایت کرتا ہوں، ان کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنوں گا۔ بندوق نہیں اٹھا سکتا اس لئے پارلیمانی جدوجہد کے ذریعے بلوچستان کی تعمیرو ترقی چاہتا ہوں“۔ پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ بلوچستان کو کس طرف لے جارہی ہے۔ کیا وہ صوبے میں اپنی حکومت کو بھی ناراض لوگوں کو منانے اور انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کی اجازت نہیں دے گی؟



تازہ ترین