فروری کا مہینہ مجھے ہمیشہ بچپن کی یاد دلاتا ہے۔ جب کبھی ہم اس مہینے میں کراچی سیلاہورجاتے تو وہاں اپنے تایا ابا کے گھر کی چھت پرچڑھے پورا پورا دن پتنگیں اڑاتے۔ فروری کی دوسری اتوارکو بڑے اہتمام سے پیلے کپڑے پہنے جاتے، تلے ہوئے پکوان کی خوشبو اور فضا میں گونجتے” بو کاٹا “ کے نعرے ہمیں اور جوش دلاتے۔ یہ وہ وقت تھا جب پنجاب کے گھرگھرمیں، خاندان اورمحلے والوں کے ساتھ مل کریہ تہوارمنایا جاتا تھا۔ کئی ہفتوں پہلے پتنگ بازی کی مشق شروع ہو جاتی تھی۔ گیلے مانجھے پرکانچ لگا کر اسے اپنے مخالفین کی گڈی کاٹنے کے لیے تیار کیا جاتا تھا۔ اور گڈی کٹنے پرعموماً چھوٹے اور پھرتیلے بچوں کو بھگایا جاتا تھا کہ مال غنیمت کسی اور کے ہاتھ نہ لگ جائے! کراچی میں اس تہوار کا تصوربھی نہیں تھا مگرلاہورجا کرہم بسنت ضرور مناتے تھے۔ لیکن پھر… ہمارے خدائی فوجداروں نے فیصلہ کیا کہ یہ ایک ہندو تہوارہے اور بحیثیت مسلمان ہم اسے نہیں منا سکتے۔ لاکھ ڈھونڈنے پر بھی ہمیں کہیں کوئی سرا نہیں ملا جو اس تہوار کو کسی درگا، سرسوتی، کرشن یا گنیش سے جوڑتا ہو۔ تعلق ملا تو صرف سرسوں کے پھولنے سے! وہ سرسوں جو پنجاب کی دھرتی کے سینے سے پھوٹتی ہے تواس کے باسیوں کوخوشحالی کا پیغام دیتی ہے… جس کے پھولنے کی خوشی میں وہاں کے باشندے خود بھی پھولے نہیں سماتے… ناچتے گاتے، خوشیاں مناتے وہ بہارکی آمد کو خوش آمدید کہتے ہیں…
اب یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ محبت کا پیغام لیے ویلنٹائینز ڈے بھی اسی مہینے میں آتا ہے… وہی محبت جو سارا سال کہیں سوئی رہتی ہے ، 14 تاریخ کے نزدیک آتے آتے رومانی گیتوں کی اشتہاربازی کے شورسے جاگ جاتی ہے۔ گو ہمارے معاشرتی ٹھیکیداراس بات سے بھی اختلاف کریں گے مگرمحبت کے اظہارمیں کوئی قباحت تو نہیں۔ نہ ہی سسی پنوں، ہیر رانجھا، عمرماروی اور آدم خان درخانے کی سرزمین میں یہ کوئی انوکھی بات ہے… مگر اتنا ضرورہے کے محبت جیسے جذبے کی پاکیزگی، اس کی مدھم مدھم سرگوشیاں اورلطیف سا احساس commercialism کی نظرہوگیا ہے۔ سارا سال جن اشیا کی قیمت دسترس میں ہوتی ہے، فروری کا مہینہ شروع ہوتے ہی عام انسان کی پہنچ سے باہرہو جاتی ہیں۔ سرخ گلابوں کی بھینی بھینی خوشبوتب اتنی سہانی نہیں لگتی جب ان کی قیمت آٹے دال کی قیمت سے تجاوزکرجائے۔ نرم نرم کھلونے چبھنے لگتے ہیں اورچاکلیٹ کی مٹھاس میں کڑواہٹ گھل جاتی ہے کیونکہ دینے والا محبت کا نہیں، اپنے بینک بیلنس کا مظاہرہ کررہاہوتا ہے۔ دوسری طرف وہ بیچارہ جوواقعی دل سے کچھ کرنا چاہتا ہے، اس کی جیب اجازت نہیں دیتی۔
لیکن اسے موبائل کمپنی والوں کی محبت سمجھنے کی غلطی مت کیجئے گا۔ یہ کاروباربڑھانے کے طریقے ہیں، پیار جتا نے کے نہیں۔ اس کاروبارمیں خریدار گھاٹے کا سودا ہی کرتا ہے، فائدہ ہوتا ہے توصرف دل بیچنے والوں کا۔کبھی کاغذی تو کبھی ریشمی، کبھی keychain سے لٹکا ہوا تو کبھی گلے کی chain میں پرویا ہوا، کبھی چاکلیٹس کی شکل میں تو کبھی کسی مخملیں بھالو کے ہاتھوں میں۔
یہی تو کمال ہے internet کے زمانے کا آجکل محبت بھی email اورfacebook پر کی جاتی ہے اوراس کیاظہارکی خریداری بھی! چند لمحوں میں دنیا کے دوردراز خطوں کے باسی ایک دوسرے سے واقف ہو جاتے ہیں۔ گفتگو بڑھتی ہے تو ایک دوسرے کوجاننے لگتے ہیں۔ زمینی حدود کو پھلانگتے ہوئے جذبات کی سب حدیں طے کرجاتے ہیں۔ بس بیخبر ہوتے ہیں تو اپنے گردونواح سے… اپنی تہذیب، اپنی اقداراوراپنے تہواروں سے۔ کیونکہ انہیں تہواروں کے ناموں سے توواقفیت ہے مگران کے مذہبی، روایتی یا تاریخی پس منظر سے نہیں۔ ان کی نظرمیں تہوارمحض تفریح کی وجہ ہیں یا پھرچھٹی کی! مگرGoogle کودن میں ہزاروں بار استعمال کرنے والی ہماری نوجوان نسل یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتی کہ ان چھٹیوں کے پیچھے کیا واقعات اور افراد ہیں جن کی یاد میں انہیں دن چڑھے سونے کا موقع مل رہا ہے۔ اساتذہ کو بھی سارا سال یہ چھٹیاں یاد رہتی ہیں مگرجن کی یاد میں وہ گھر رہ کر یہ دن گزار رہے ہیں، انہیں فراموش کر دیا جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم دنیا سیقریب ہوتے ہوتے خود سے دور ہو گئے ہیں۔ دوسروں کی روایات کی پیروی کرتے کرتے اپنی پہچان کھو رہے ہیں۔ نہ مغرب کی سمجھ رکھتے ہیں نہ مشرق کو کھوج رہے ہیں۔ ابلاغ کے کثیر زرائع میسرہونے کے باوجود ہم جہالت کی زندگیاں جی رہے ہیں۔ اوراسی لیے اْس جہالت کا شکار ہو رہے ہیں جوکبھی دین تو کبھی اقدار کے نام پرہم پرتھوپی جاتی ہے۔ جو اصلاح نہیں کرتی، جارحانہ قانون بناتی ہے۔ اسٹیل کی ڈورپرپابندی لگانے کی بجائے ایک تاریخی اورثقافتی روایت کوہی مٹا دینا چاہتی ہے۔ اور ہماری نئی نسل internet سے عامیانہ گانے download کرنے کی مہارت تو رکھتی ہے، اپنے دین، مذہب، ثقافت اورتاریخ کو جاننے کی لگن نہیں!
پتہ نہیں اس بار بسنت منائی جائے گی یا نہیں لیکن سرسوں توپھربھی پھولے گی اورمیرے پچپن کی وہ معصوم یادیں، مجھے اسے بھولنے نہیں دیں گی۔ کیونکہ میرے بچپن میں internet نہیں تھا۔ ویلنٹایئنزڈے منانے کا کوئی تصور نہیں تھا۔ مگرمیرے بچپن نے اپنے وطن کی مٹی کوچھْوا ہے، پہلی بارش کے بعد اس میں سے اٹھتی سوندھی خوشبو کو سونگھا ہے، اس سے پھوٹتی سرسوں کولہلہاتے دیکھا ہے، اپنے صوفیوں کے کلام کو سنا ہے، اپنی تاریخ کو پڑھا ہے۔ اسی لیے بازارمیں سجی محبت میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی کیونکہ محبت تو ایک احساس ہے جو اپنے آپ کو پانے کے بعد حاصل ہوتا ہے، اپنی شناخت کھو کر نہیں!