• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مختاراں مائی جیسے کیسز میں بریت کو کیسے روکا جائے؟...ارم سجاد گل ایڈووکیٹ

پاکستان میں جب ایک مجرم گھناؤنا جرم کرنے کے بعد بری ہو جاتا ہے تو اس کا بہت واویلا ہوتا ہے اور عدالتوں کو اس کا الزام دیا جاتا ہے، تاہم یہ حقیقت نہیں ہے، کیونکہ عدالتیں تو جرائم کے عدالتی نظام کا ایک حصہ ہیں اور کسی بھی فوجداری کیس میں آخری مرحلے کے طور پر تصور کی جاتی ہیں۔ ضابطہٴٴ فوجداری صرف ایک شعبہ نہیں ہے بلکہ یہ مختلف شعبوں پر مشتمل ہے۔ ضابطہٴٴ فوجداری کے مختلف شعبہ جات میں پولیس، قانونی چارہ جوئی، عدالتیں اور قیدی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پروبیشن اور پیرول کو پاکستان میں تسلیم تو کیا جاتا ہے لیکن ان پر برائے نام ہی عمل ہوتا ہے۔ پوری دنیا میں باضابطہٴ قانونی نظام کیساتھ ہر معاشرہ قانون فوجداری اور دیوانی قانون کے درمیان فرق کو تسلیم کرتا ہے۔
وسیع تناظر میں جرم ایک ایسا عمل ہے جس کی ملک کے قانون میں ممانعت ہو اور اگر قانون پر عمل نہ کیا جائے یا اسے توڑا جائے تو اس کا نتیجہ قید، جرمانے یا سزائے موت کی صورت میں نکلتا ہے، تاہم مختلف قوانین پر مشتمل قانون فوجداری اس طرح کے جرائم سے روکتا ہے۔ دوسری جانب معاشرے سے متعلقہ کیسوں میں کیس دو پارٹیوں کے مابین نجی طور پر ہوتے ہیں جبکہ قانون فوجداری میں حکومت ایک فریق ہوتی ہے۔ ایک بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ حکومت قانون فوجداری کے ذریعے اپنے شہریوں کے رویے کو کنٹرول کرتی ہے لیکن جب قانون فوجداری میں نئے اور سخت قانون متعارف کروانے کا مطالبہ کیا جائے تو اس میں زیادہ تر سیاسی مفادات ہوتے ہیں۔ تاہم خوفناک مجرموں کو بری قرار دینے سے بچانے کیلئے فی الحال قانون فوجداری میں نئی تبدیلی لانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کے لئے جرائم کے عدالتی نظام کے مختلف شعبوں میں باضابطہٴ ہم آہنگی اور جرم کی تفتیش کے دوران پولیس کے تفتیشی افسر کی نگرانی کی ضرورت ہے!
پاکستان میں فوجداری عدالتی کارروائی اس کے برعکس ہوتی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ عدالت کے سامنے دو فریق ہوتے ہیں۔ ایک وکیل استغاثہ جو الزام لگاتا ہے کہ جرم سرزد ہوا ہے اور دوسرا ملزم جس کے خلاف الزام لگایا گیا ہو۔ یہاں جج غیر جانبدار ہوتا ہے اور انکا کردار ریفری کا ہوتا ہے۔ جج کو صرف یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ ملزم قصور وار ہے یا نہیں۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کو تحفظ فراہم کرے اور کوئی جرم سرزد نہ ہو۔ اس لئے فوجداری قانونی کارروائی میں حکومت بھی ایک فریق ہوتی ہے، جس کی نمائندگی اسٹیٹ کاؤنسل یا سرکاری وکیل کرتا ہے۔ قانون برائے ضابطہٴ فوجداری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ایک شخص جو عدالتی کارروائی کا سامنا کر رہا ہے، وہ مجرم نہیں ہے اور اسے اس وقت تک معصوم تصور کیا جاتا ہے جب تک عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اس کا جرم ثابت نہیں ہو جاتا۔ ثبوتوں کو جمع کرنے اور گواہوں کو جانچنے کے عمل میں عدالتیں ملوث نہیں ہوتیں۔ جج خاموشی سے دونوں فریقوں کی سنتا ہے اور اپنے سامنے رکھے گئے ثبوتوں کو جانچنے کے بعد اپنا فیصلہ سناتا ہے۔ عدالتوں میں کبھی بھی فوجداری کیسوں کا آغاز نہیں ہوا ہے۔ جب ایک جرم سرزد ہوتا ہے تو ایک شخص پولیس کو شکایت کرتا ہے کہ جرم ہو گیا ہے۔ تاہم قانونی طور پر پولیس اس بات کی پابند ہے کہ وہ جرم کے خلاف شکایت درج کرے۔ پولیس کو یہ ابتدائی رپورٹ ایف آئی آر کہلاتی ہے۔ فوجداری کیس میں یہ ایک نہایت اہم دستاویز ہوتی ہے اور یہ کیس اس اہم دستاویز کی بنیاد پر ہی بنتا ہے اور اگر پولیس درست طریقے سے ایف آئی آر درج نہیں کرتی تو یہ خطرناک مجرموں کی رہائی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ ایف آئی آر ریکارڈ کرنے کے بعد تفتیشی افسر کیس کی تفتیش شروع کرے گا۔ وہ جائے وقوعہ کا دورہ کرے گا، ثبوت جمع کرے گا اور گواہوں کے بیانات قلمبند کروائے گا، تاہم کسی بھی فوجداری کیس کی تفتیش میں دو نمایاں خامیوں میں سے ایک خامی یہ ہے کہ جب تفتیشی افسر کی جانب سے کیس کی صحیح نگرانی نہ ہو رہی ہو، جبکہ دوسری خامی کا تعلق وسائل کی کمی سے ہے۔ جب ایک مرتبہ ایف آئی آر جمع ہو جائے تو تفتیشی افسر دباؤ میں آ جاتا ہے اور اسے نتیجہ نکال کر جرم کا خاتمہ کرنا ہوتا ہے، تاہم تفتیشی افسر یہ چاہتا ہے کہ مشتبہ شخص جرم قبول کر لے تاکہ اسے مزید شواہد اکٹھے نہ کرنے پڑیں اور اسی لیے جب وہ ثبوتوں کو جانچنے لگتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ وہ ان ثبوتوں میں سے صرف ایسی معلومات اکھٹا کرے جس سے ان کے خود سے تیار کردہ کیس کو تقویت ملے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک تفتیشی افسر کیس کو بنا بھی سکتا ہے اور ختم بھی کر سکتا ہے۔ فوجداری کیس کی تحقیق کے دوران دونوں فریق کیس کو اپنے حق میں کرنے کیلئے تفتیشی افسر کو خطیر رقم دینے کیلئے تیار ہوتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان یہ جنگ اس وقت تک چلتی رہتی ہے جب تک تحقیقات مکمل ہو کر کیس عدالت میں پیش نہیں ہو جاتا۔ بہت سے فوجداری کیس دوران تفتیش ہی اعتبار کھو بیٹھتے ہیں۔ بہرکیف، یہ تفتیشی افسر کی جانب سے دانستہ اقدام بھی ہو سکتا ہے یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ تفتیشی افسر کو معلومات ہی نہ ہوں کہ کن شواہد کو اکٹھا کرنا ہے اور کن شواہد کی ضرورت نہیں ہے۔ لہٰذا، اس بات کی فوری ضرورت ہے کہ پولیس اسٹیشن میں کسی کو قانونی تقاضوں کے بارے میں مکمل معلومات ہوں، جنہیں جمع کردہ ثبوتوں کی روشنی میں استعمال کیا جا سکے، تاہم اس کا ایک ہی حل ہے کہ ہر پولیس اسٹیشن میں پولیس کا ایک وکیل موجود ہو، جس کا تعلق عدالتی شعبے سے ہو، تاکہ پولیس وکیل کی موجودگی میں فوجداری کیس کو قانونی طریقے سے ڈیل کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ پولیس کا وکیل تفتیشی افسر کی رہنمائی بھی کر سکتا ہے، تاہم ثبوت نہ ہونے کی بناء پر کیس کا خاتمہ رہائی دینے پر نہیں ہونی چاہئے۔
موجودہ صورتحال میں فوجداری کیس میں پولیس ثبوت جمع کرتی ہے اس مرحلے پر وکیل استغاثہ ثبوتوں کیساتھ اس کارروائی میں شریک نہیں ہوتا، لیکن جب ایک مرتبہ تفتیش مکمل ہوجائے تو صرف اس وقت کیس کو وکیل استغاثہ کے سپرد کیا جاتا ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ آیا کیس مقدمہ چلانے کے لائق بھی ہے یا نہیں۔ اس مرحلے پر جب وکیل استغاثہ کو فائل ملتی ہے تو نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے جسے وہ صحیح نہیں کر سکتا۔ وکیل استغاثہ صرف یہ منتخب کرتا ہے کہ مقدمہ چلانا ہے یا نہیں لیکن وہ تفتیشی افسر کو دوبارہ تفتیش کیلئے نہیں کہہ سکتے، لیکن اگر وہ مقدمہ چلانے کیلئے راضی ہو جائے تو وہ فائل کو عدالت میں بھیج دیتا ہے، لیکن اگر ثبوت نہیں ہے یا پھر تفتیش کے دوران قانونی ضابطوں کو زیر غور نہیں رکھا گیا تو اس شخص کو بری کر کے کیس ختم کر دیا جاتا ہے۔ عدالت ثبوتوں کو دیکھتی ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھتی کہ کتنا بھیانک جرم سرزد ہوا ہے۔ تاہم ہر پولیس اسٹیشن میں ایک پراسیکیوٹنگ سولیسٹیر ڈپارٹمنٹ کی تجویز دی گئی ہے اور اس شعبہ کی تشکیل سے پولیس آرڈر 2002 میں ترمیم ہونی چاہئے۔ برطانیہ میں یہ شعبہ موجود ہے اور ہمیں پاکستان میں بھی اس سطح تک پہنچنا ہے تاکہ پولیس اور پراسیکیوشن ڈپارٹمنٹ میں رابطہ ہو سکے اور مختاراں مائی کیس کی طرح ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر کوئی خطرناک مجرم بری نہ ہونے پائے۔
تازہ ترین