رمضان المبارک کا آخری عشرہ اور عید ننھیال میں گزارنے کے لئے فیملی شہر سے باہر، بیشتر سٹاف بھی چھٹی پر، بیلی پور کا خوبصورت، سر سبز اور خوشبودار سناٹا، مکمل اور چند روز پر محیط تنہائی جسے کبھی کوئل کی کوک، کبھی مور کی ہوک، کبھی کبوتروں کی غٹر غوں اور کبھی میرے بیٹے حاتم کے فیورٹ گھوڑے ”تھنڈر“ کی ہنہناہٹ چکنا چور کر دیتی یا پھر شیطانی آلے فون کی گھنٹی … صرف عید کے دن ماڈل ٹاؤن قبرستان تک کیلئے گھر سے نکلا جہاں 27سال سے میرے والد مرحوم و مغفور میاں نثار الحق محو خواب ہیں۔ اس کے علاوہ بیشتر وقت سوچوں کی سوئی ایک ہی جگہ اٹکی رہی کہ ہم اس بری طرح برباد، ناکام اور رسوا کیسے ہوئے؟
جب ہم مٹھی بھر تھے تو دنیا مسلمانوں کی مٹھی میں تھی۔ آج ہم ڈیڑھ ارب ہیں اور عربوں سمیت دنیا کے قدموں میں ہیں تو ایسا کیسے ہو گیا؟ یہ ناممکن … ممکن کیسے ہوا؟
کیا ہم نے نمازیں چھوڑ دیں یا روزے ترک کر دیئے؟ ہم حج بھول گئے یا عمرے سے منہ موڑ لیا؟ ہرگز نہیں کہ ہماری عبادتیں تو کہیں زیادہ پر جوش ہو گئیں، ہماری رقت آمیز دعائیں بھی بہت بڑھ گئیں، ہماری تو تمام تر طاقت اور توانائی ظواہر اور دکھاوے کیلئے وقف ہے۔ کیا آج سے دو تین سو سال پہلے اتنے ”شہر اعتکاف“ سجتے ہوں گے؟ حج اور عمرے ادا کرنے والوں کی تعداد کتنی ہو گی؟ کیا ہر گھر کے ہر ٹی وی سیٹ سے مذہبی تعلیم و تدریس و تبلیغ کی مقدس صدائیں اسی طرح بلند ہوتی ہوں گی کہ ماشاء اللہ گلوکار اور اداکار بھی مصروف تبلیغ عوام کو سمجھا رہے ہیں کہ کون سے مسئلہ کا حل کس وظیفہ یا ورد میں ہے۔ مختصراً یہ کہ ایسے معطر و مذہبی ماحول کا تو ماضی میں تصور بھی ممکن نہیں تو پھر کیا ہوا کہ اس دنیا میں ہمارا رول، ہمارا کردار ہم سے چھین کر ہمارے حریفوں کے حوالہ کر دیا گیا۔
شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم کردار سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ہم سے دنیا کی امامت و قیادت والا کردار واپس لے لیا گیا کہ بس اب تم اس قابل ہی نہیں رہ گئے کہ دنیا کو لیڈ کر سکو، انسانوں کی قیادت کر سکو۔
عبادت قائم رہی، قیادت چھن گئی کہ قیادت کا تعلق محض عبادت نہیں اعمال اور کردار کے ساتھ ہوتا ہے۔ کیا کوئی ناصح، کوئی مبلغ، کوئی مجدد، کوئی لیڈر، کوئی شیخ الاسلام ہمیں واپس اس طرف لے جا سکتا ہے جب غیر مسلم مسلمان تاجروں کی تجارت کے انداز پر ہی عش عش کر اٹھتے اور دل کی گہرائیوں سے اس دین کو گلے لگا لیتے لیکن آج ہمارے تاجر کی پہچان کیا ہے؟ چور، جعلساز، جھوٹا، منافع خور ، ذخیرہ اندوز… تب ہمارے لیڈر کیسے ہوتے تھے؟ مثال دیتے ہوئے بھی شرم آتی ہے اور اپنا آپ منافق لگتا ہے کہ ہیں کون اور رشتے کن خلفائے راشدین کے ساتھ جوڑ رہے ہیں، کس عمر بن عبدالعزیز کو ”اپنا“ بتا اور جتا رہے ہیں جبکہ آج ہمارے نصیب میں صداموں، زین العابدینوں، قذافیوں، عیدی امینوں اور حسنی مبارکوں کے علاوہ اور ہے ہی کچھ نہیں… سب چور چکا، عیاش، نااہل، پھوکے، سونے کے پجاری، ڈالر کے غلام، اہرام کی زندہ ممیاں، ہزار ہزار کسٹم میڈ گاڑیوں کے فلیٹ رکھنے والے ، مغرب کے جوا خانوں میں اربوں درہم و دینار لٹانے اور ”بے واچ“ کی بکنیوں کے ساتھ ذاتی جزیروں اور جہازوں میں داد عیش دینے والے … کوئی 40سال سے اقتدار پر قابض، کوئی 75سال سے اور کوئی 300سال سے جبکہ یہاں جمہوریت کے نام پر بدکردار ترین سیاسی اجارہ داریاں، سیاسی جماعتیں کم اور سیاسی مندر زیادہ جہاں زندہ مردہ دیوی دیوتاؤں کے سامنے سجدہ ریز… ناپاک ترین لوگوں کے پیادے اور مہرے اور پھر ہم خود یعنی عوام بھی کیسے ؟
باقی تو چھوڑو کہ ہم جیسے بڈھے طوطے پڑھائے نہیں جا سکتے تو اس ملک کا تقریباً 60فیصد یوتھ ہی اگر صحیح سمت میں سنبھل جائے تو یہ ملک اک ماڈل بن سکتا ہے لیکن انہیں بھی ”ظواہر“ اور ”دکھاوے“ کی عبادتوں تک محدود رکھنے کی فضا ہے کہ یہ اپنی عبادتوں کی روح سے متعارف ہی نہ ہو سکیں تو ہمیں جان لینا چاہئے، سوچنا چاہئے کہ ہمارے آقا سے بڑھ کر عبادت گزار ممکن نہیں اور نہ ان سے بہتر دعا مانگنے والا کبھی اس دھرتی کو نصیب ہوا تو پھر آپ نے خود کو غار حرا تک محدود کیوں نہ رکھا؟ کفار مکہ اور طائف کے اوباشوں کے ظلم کیوں سہے؟ ہجرتوں کے دکھ کیوں اٹھائے؟ غزوات میں زخم کیوں کھائے؟ سنگلاخ زمینوں میں خندقیں کیوں کھودیں؟
کردار اور عمل کے بغیر عبادت گزار کیسا ہوتا ہے؟
سیرت نہ ہو تو عارض و رخسار سب غلط
خوشبو اڑی تو پھول فقط رنگ رہ گیا
آخرت اپنی جگہ اٹل لیکن اس دنیا کے اندر منطقی انداز میں خالق کے ورلڈ آرڈر کا نفاذ بھی مسلمان کی ذمہ داری ہے اور یہ اعمال، کردار، تخلیق، تعمیر، تحقیق، تعلیم کے بغیر ممکن نہیں ورنہ ہانڈی میں ابلتے پانی کی بھاپ سے تھرتھراتے ہوئے ڈھکنے کو دیکھ کر کسی مسلمان کا دھیان بھی بھاپ کی طاقت کی طرف گیا ہوتا اور نیوٹن کی بجائے یہ لازوال سوال کسی نور الٰہی نے اٹھایا ہوتا کہ سیب درخت سے ٹوٹنے کے بعد زمین پرہی کیوں گرا؟ تفکر، تدبر، فراست تو مسلمان کی پہچان تھے لیکن اقبال کو مجبوراً کہنا پڑا
یہ امت خرافات میں کھو گئی
فرمایا … ”عبادت جسم اور عمل روح کی مانند ہے“
رونے والی آنکھوں کے ساتھ ساتھ منطقی انداز میں سوچنے والے دماغوں کی بھی بہت ضرورت ہے۔ دعا او دوا کا رشتہ نہ سمجھنے والے مریض کو شفا نہیں ملتی۔
”خوشبو اڑی تو پھول فقط رنگ رہ گیا“
یہ زمیں بول اٹھی میرے سخن سے یارو
طلوع …ارشاد احمد عارف
ذوالفقار مرزا بولے اور خوب بولے، کسی نے اسے فیلڈ مارشل ایوب خان کے لاڈلے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو سے تشبیہ دی، کوئی درمیان میں شاہ محمود قریشی کو لے آیا اور کچھ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے یار غار اور ہمدم دیرینہ غلام مصطفی کھر کو یاد کرنے لگے مگر ذوالفقار مرزا ان سب سے الگ ہیں شکوہ و شکایت انہیں اپنے ”بھائی“ اور ”دوست“ صدر آصف علی زرداری سے ہو گا اور ہونا چاہئے لیکن کراچی، حیدر آباد کی پریس کانفرنسوں اور مختلف ٹی وی چیلنز پر طویل گفتگوؤں کے دوران ایک بار بھی بھٹو، کھر اور شاہ محمود کی مانند انہوں نے روئے سخن صدر آصف علی زرداری کی طرف نہیں کیا کہ
غیروں سے کہا تم نے، غیروں سے سنا تم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا، کچھ ہم سے سنا ہوتا
صدر آصف علی زرداری اور ان کے دیگر نفس ناطقہ بھی خاموش ہیں۔ مرزا کے بیان سے لاتعلقی ظاہر کی جا رہی ہے، ان کے خیالات کو ذاتی خیالات قرار دیا جا رہا ہے لیکن ان کی رائے کو غلط اور حلفیہ بیان کو خلاف واقعہ کسی نے نہیں کہا، سرکاری ترجمانوں میں کوئی نہیں بولا کہ مرزا جھوٹ بولتا ہے یا بے پر کی اڑاتا ہے۔ یاوہ گوئی کی تہمت رحمان ملک نے بھی نہیں دھری حالانکہ وہی بڑے ہدف ہیں۔ یہی بات سب کو پریشان کرتی ہے مرزا کیوں بھڑکے اور بیان حلفی پر اتر آئے یہ تو وہی جانتے ہیں یا صدر آصف علی زرداری اور رحمان ملک جو اب بھی چھوٹے بھائی کو منانے کے جتن کر رہے ہیں لیکن اس ”اٹ کھڑکے“ اور مرزا کے فرمان و یاس پر عوامی شاعر حبیب جالب یاد آ گئے، برسوں پہلے جالب نے ایک غزل کہی جو مرزا کی موجودہ ذہنی کیفیت کا عکس نظر آتی ہے۔ #
دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے
دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے
خامشی پر ہیں لوگ زیر عتاب
اور ہم نے تو بات بھی کی ہے
مطمئن ہے ضمیر تو اپنا
بات ساری ضمیر کی ہے
پا سکیں گے نہ عمر بھر جس کو
جستجو آج بھی اسی کی ہے
جب مہہ و مہر بجھ گئے جالب#
ہم نے اشکوں سے روشنی کی ہے
ایم کیو ایم نے مرزا کے بیان حلفی کا جواب ایک پریس کانفرنس میں دیا۔ رضا ہارون اور دوسرے لیڈروں کو بات کہنے کا فن آتا ہے ویسے بھی اہل کڑیاں ہیں اور حرف و صوت کی نزاکتوں سے خوب واقف، گرجنے برسنے کے بجائے انہوں نے ملائمت سے بات کی اور شعلے کو شبنم سے بجھانے کا جتن کیا مگر وہ بات کہاں موسوی مدن کی سی۔ مرزا نے حیدر آباد میں مزید پیش قدمی کی اور یہ خدشہ ظاہر کیا کہ جلد یا بدیر وہ قتل ہو جائیں گے۔ کیوں؟ اور کس کے ہاتھوں؟ یہ وہ شائد بدین جا کر بتائیں تاہم قتل کے خدشات کے باوجود وہ اپنا مشن جاری رکھنے کا عزم رکھتے ہیں، لوگ سوال کر رہے ہیں کہ یہ سب باتیں انہیں تین سال بعد کیوں یاد آئیں اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کا خیال انہیں اس وقت کیوں آیا جب صدر آصف علی زرداری نے انہیں سیاست چھوڑنے اور بیرون ملک سفارت کاری کرنے یا بدین میں اپنے زرعی رقبے اور کاروبار پر توجہ دینے کا حتمی مشورہ دیا تاکہ وہ خود سکھی رہیں، ایوان صدر بھی خوش رہے اور راضی رہے ایم کیو ایم بھی؟ مگر کیا ایک صاف گو اور ہر چہ باوا باد پر اترے شخص سے یہ سوالات مناسب ہیں؟ میرے خیال میں نہیں، ہرگز نہیں۔
مرزا چاہتے تو اپنے جگری یار اور ترقی و خوشحالی کے واحد وسیلے کی بات مان کر خاموشی سے بدین جا بیٹھتے لیکن انہوں نے ایک ایسا راستہ اختیار کیا جس میں بقول خود ان کی جان بھی جا سکتی ہے اب وہ گلی گلی نگر نگر پکارتے پھرتے ہیں #
شام غم کو سحر کہوں کیسے؟
”دوستوں“ کو فر یب دوں کیسے؟
دار تک سب پہنچ گئے ہیں یار
دوش پر سر لئے پھروں کیسے؟
عمر بھر ساتھ چلنے والوں کو
یوں سرِ راہ چھوڑ دوں کیسے؟
اب کہاں خوں اسے پلانے کو
اس ستم گر سے اب ملوں کیسے؟
مجھ میں جب تک ہے زندگی باقی
ظلم سے ہار مان لوں کیسے
قاتل مہر و ماہ کو جالب
امن کی روشنی مان لوں کیسے؟
آگے تو جو ہو سو ہو، مرزا صحافیوں سے مزید الجھیں اور ان کے کندہ ناتراش محافظ اخبار نویسوں کے دانت توڑ ڈالیں یا وہ ایوان صدر کی خواہش پر چپ کا روزہ رکھ لیں مگر تین چار روز کا ہنگامہ بے ثمر نہ تھا وہ حیدر آباد کے واقعہ پر معذرت کرتے ہوئے اخبار نویسوں سے بصد افتخار کہہ سکتے ہیں۔
کتنے خاموش تھے، چپ چاپ تھے رستے گلیاں
یہ زمیں بول اٹھی ہے میرے سخن سے یارو