• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سب آنکھ کا دھوکہ ہے... چوراہا… حسن نثار

صبح بلکہ اس سے بھی پہلے آنکھ کھل گئی ۔ وال کلاک پر نظر پڑی تو تین بج رہے تھے میں نے دوبارہ سونے کی کوشش کی تو نتیجہ میں چند کروٹوں کے سوا کچھ نہ ملا۔ لائٹ جلا کر بالکنی میں گیا تو دھند اور گہر سے گھپ اور گھنے اندھیرے نے استقبال کیا کہ مسلسل بارش نے بے موسمی دھند پیدا کر دی ہے ۔ پرندے بھی سو رہے تھے میں بیزار ہو کر کمرے میں واپس آگیا اور پھر سٹڈی سے ایک کتاب اٹھا لایا ۔ کچھ دیر پڑھنے کی کوشش کی لیکن موڈ نہیں بنا تو آخری آپشن اور چوائس کے طور پر ٹی وی اون کر دیا تو ایک جھٹکا سا لگا…
”ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے
اس ملک کو رکھنا مرے بچو سنبھال کے “
تقریباً پچاس پچپن سال پرانی فلم ”بیداری “ کا گانا چل رہا تھا جو اپنے وقت کے میگا سٹار اور برصغیر سینما کی تاریخ کے ہینڈسم ترین اداکار سنتوش کمار پر پکچرائز کیا گیا تھا
اس کے بعد اک اور جھٹکا …
”یہ ناز یہ انداز یہ جادو یہ ادائیں
سب مل کے تری مست جوانی کو سجائیں“
درپن اور مسرت نذیر تھے فلم تھی اپنے زمانے کی بلاک بسٹر ” گلفام“ اور درپن اپنی جوانی کے عروج پر اک ایسا ہیرو کہ خوبرو کا لفظ اس کے نام کا حصہ بن چکا تھا اس زمانہ کے شوبز میگزین ” خوبرو درپن“ کے علاوہ کچھ نہ لکھتے ۔ہندو پاک کی سینما ہسٹری میں درپن سے زیادہ رنگین اور حسین آنکھیں نہ پہلے کسی کو نصیب ہوئیں نہ بعد میں ،
تیسرا گیت شرع ہوا تو دل بیٹھ گیا …
”میرے خیالوں پر چھائی ہے اک صورت متوالی سی
نازک سی شرمیلی سی معصوم سی بھولی بھالی سی
رہتی ہے وہ دور کہیں اتہ پتہ معلوم نہیں
کو کو کورینا …کوکوکو رینا“
کروڑوں نہیں تو لاکھوں لوگ آج بھی گواہی دینگے کہ فلم ”ارمان “کا یہ گیت گاتا ہوا وحید مراد اپنے وقت کی یوتھ کے اعصاب پر سوار ہو گیا تھا اور اسی فلم کا اک اور گیت ” اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر تم ،تمہارے بنا ہم بھلا کیا جئیں گے “ زبان زد عام تھا اور وحید مراد پورے ملک میں کریز کا درجہ اختیار کر چکا تھا ۔
اگلا گیت شاید ”امراؤ جان ادا “ کا تھا جو ان گنت دلوں کی رانی پر فلمایا گیا …”جو بچا تھا وہ لٹانے کیلئے آئے ہیں ، آخری گیت سنانے کیلئے آئے ہیں “
میں نے گھبرا کر ٹی وی بند کر دیا اور سوچنے لگا کہ یہ سب اور بہت سے دوسرے اپنے اپنے وقت میں سٹارڈم کی انتہاؤں پر تھے ۔ سدھیر اک ایسا نام تھا جس کے بغیر ایکشن فلم کا تصور ہی ممکن نہ تھا ۔ پھر اکمل اور مظہر شاہ کی جوڑی جو دیہی عوام میں جنون کا مقام حاصل کر چکی تھی ۔ اکمل کو ” پنجابی فلموں کا دلیپ کمار “ کہا اور لکھا جاتا جبکہ مظہر شاہ پنجابی فلم میں ”بڑھک“ کا موجد تھا ۔ اس کے بولے ہوئے مکالمے محاورے بن چکے تھے ۔ اکمل اور مظہر شاہ ہیرو اور ولن ، خیر اور شر کی علامتیں بن کر سکرین پر نمودار ہوتے تو لوگ سانس لینا بھول جاتے ۔
مردانہ وجاہت کے شہکار اداکار محمد علی کی اک اپنی ہی دنیا تھی ۔ ایکشن اور رومانٹک فلموں میں یکساں موزوں اور مقبول ریڈیو کا تربیت یافتہ، ڈائیلاگ ڈلیوری پر مکمل عبور اور گرفت ، جہاں رکتا ٹریفک رک جاتی اور لوگ پلکیں جھپکنا بھول جاتے ۔ میرے کیریئر کا آغاز تھا جب میں نے محمد علی کا انٹرویو کیا اور سرخی لگائی ۔
”کوچہ کوچہ گلی گلی … زیبا زیبا علی علی “
اور اس سرخی میں قطعاً کوئی مبالغہ نہ تھا کہ صبیحہ سنتوس کی جوڑی کے بعد یہ دوسری جوڑی تھی جسے اتنی پذیرائی اور مقبولیت نصیب ہوئی ۔ ابھی کل کی بات ہے کہ یہ نام اور چہرے ہر روز اخباروں میں دکھائی دیتے، شہر میں جگہ جگہ ان کے قد آدم پوسٹرز، ہورڈنگز نظر آتے، ریڈیو سے ان پر فلمائے گئے گیت سنائی دیتے اور پھر ان کے پلے بیک سنگرز سلیم رضا، منیر حسین، شرافت علی، مجیب عالم، احمد رشدی، مہدی حسن اپنی اپنی جگہ بہت بڑے سٹارز تھے … تھے … تھے اور صرف تھے ۔
پھر سب کچھ قصہ پارینہ بن گیا ۔ ایک اک کرکے رخصت ہوئے اور آج ان میں سے اکثر کا کسی کو نام تک معلوم نہیں یا پھر یاد نہیں کہ یہی زندگی ہے جس سے بڑا دھوکہ اس سلسلہ ہائے کائنات میں آج تک ایجاد نہیں ہوا کچھ تو مر کے مرے کچھ زندگیوں میں ہی مر گئے ۔ ابھی چند روز پہلے میں نے ماڈل ٹاؤن کی تین دکانوں سے نور جہاں کے پرانے گیتوں کی سی ڈیز مانگیں تو تینوں کا ایک سا جواب سن کر میں ششدر رہ گیا۔
”پرانے کیا اور نئے کیا، ہم نور جہاں رکھتے ہی نہیں کیونکہ ”ڈیمانڈ“ ہی کوئی نہیں ، سال چھ مہینے کے بعد کوئی آپ جیسا پوچھ لے تو پوچھ لے لیکن آپ کوشش کریں حسن صاحب ! ہال روڈ سے آپ کو نور جہاں یقینا مل جائے گی “
یہی کچھ سوچتا ہوا میں سٹڈی میں گیا اور شاعری والے شیلف کے آگے کھڑا ہوا تو اک اور اذیت ناک تجربہ میرا منتظر تھا میں صرف ان کی بات کروں گا جن کے ساتھ میرا ذاتی تعلق تھا ۔ منیر نیازی کی کلیات ، عدیم ہاشمی کی ”ترکش “ افتخار نسیم کا مجموعہ ، قتیل شفائی کی آب بیتی ” گھنگھرو ٹوٹ گئے “۔ ظہیر کاشمیری کی کلیات احمد ندیم قاسمی کے مجموعے، احمد فراز کے دیوان، حبیب جالب کی کلیات، کلیات عدم، اقبال ساجد کی شاعری، احمد راہی کا کلام …”کہاں ہو تم ذرا آواز دو ہم یاد کرتے ہیں “
کیسے کیسے چراغ تھے جو اک اک کرکے بجھ گئے
کیسے کیسے پھول تھے جو باری باری بکھر گئے
کیسی کیسی آوازیں تھیں جو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاموش ہو گئیں
کیسے کیسے چہرے تھے جو تراب کا نقاب اوڑھ کر چھپ گئے
وہ جو شاعری اور مشاعروں کی جان تھے … بیجان ہو گئے
ہر قسم کے سٹارڈم کا انجام ؟ چند مٹھی مٹی وہ بھی اگر نصیب ہو جائے
رہے نام اللہ کا
سب آنکھ کا دھوکہ ہے روانی تو نہیں ہے
دریا میں فقط ریت ہے پانی تو نہیں ہے
زندگی کا بظاہر بہتا دریا …بہت بڑا دھوکہ ہے !
تازہ ترین