آج پھر ایک سے زیادہ موضوعات کیونکہ ان میں سے کسی ایک کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا سو سب سے پہلے موم کی طرح پگھل چکا لیبیا کا مرد آہن معمر قذافی جس کا پستول بھی”طلائی تھا“ اور جو گن ڈاؤن کئے جانے سے پہلے” گولی مت مارنا“ کی اپیلیں کرتا رہا۔ یہ کتنا بڑا المیہ اور کیسا بھیانک تضاد ہے کہ اپنے ہی ہم وطنوں کے ہاتھوں انتہائی تکلیف دہ، توہین آمیز اور عبرتناک انجام سے دو چار ہونے والے معمر قذافی کی موت پر پاکستانی تو اداس ہیں لیکن اس کے اپنے ہم وطن لیبیا کے عوام جشن منارہے ہیں۔ ہمیں سوچنا چاہئے کہ ٹیڑھ اورکجی کہاں ہے؟ خلافت عثمانیہ کو ختم کرنے والے مصطفی کمال کو ترکوں نے اپنا باپ یعنی”اتا ترک“ قرار دیا اور نجات پر جشن منائے لیکن برصغیر کے مسلمان” تحریک خلافت“ جیسی بے نتیجہ اور نقصان دہ تحریک چلارہے تھے۔ سوائے ذاتی تباہی کے کچھ بھی ہاتھ نہ آیا اور آج یہ تحریک کسی کو یاد بھی نہیں۔
اور کیا ہم نے کبھی ٹھنڈے دل سے غور کیا کہ عمرمختار سے لے کرملا عمر تک، حسنی مبارک سے معمرقذافی تک، عیدی امین سے صدام حسین تک بے پناہ طاقت اور بے تحاشہ دولت کے جنون میں مبتلا ان سب میں کتنی شدید مماثلتیں اور مشابہتیں ہیں؟
بے شک متشدد اور مہم جویانہ زندگیوں کا انجام بھی عام طور پر متشدد اور مہم جویانہ ہی ہوتا ہے کہ جو گولی سے آتا ہے وہ عموما گولی سے ہی جاتا ہے لیکن پھر بھی یہ”مائنڈ سیٹ“ عالم اسلام سے خارج ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ عوام سڑکوں پر آہی گئے تھے تو قذافی صاحب کو چاہئے تھا کہ اقتدار اور عوام کو آخری سلام کرکے باوقار و باعزت طریقہ سے رخصت ہوجاتے لیکن آپ نے اپنے ہی عوام کو”غلیظ کاکروچ“ اور”کیڑے مکوڑے“ قرار دے ڈالا حالانکہ صدام اینڈ کمپنی کا تازہ تازہ انجام بھی سامنے تھا پھر یہی کاکروچ اور کیڑے مکوڑے نہ صرف قذافی کی خواب گاہوں میں ناچتے نظر آئے بلکہ انہی میں سے ایک اٹھارہ سالہ کمزور اور گمنام کاکروچ نے”گرین بک“ کے منصف کو موت کے گھاٹ اتاردیا۔ انہی کیڑوں مکوڑوں نے اپنے ”عظیم لیڈر“ کو ڈرینج پائپ میں سے ڈھونڈ نکالا اور لاش گھسیٹ گھسیٹ کر اپنی بیالیس سالہ بھڑاس نکالتے رہے کہ عوام کو اتنا انبارمل خود ان کے حکمران ہی کرتے ہیں تو میں سوچتا ہوں کہ یہ سب صرف ہمارا مقدر ہی کیوں ہے کہ اقتدار میں آنے کے طریقے بھی غلط اور جانے کے طریقے بھی غلط جبکہ دوسری طرف ہماری حریف دنیا ہے عموماً عام سے لیکن ذہین، محنتی ، اپنے عوام سے مخلص لوگ اک پراسیس سے گز ر کر اقتدار میں آتے ہیں اور اپنی ٹرمیں یا ٹرم پوری کرکے جواں عمری میں ہی ہنستے کھیلتے رخصت ہوجاتے ہیں۔ نہ یہ اقتدار کو جن جپھا ڈالنے کی بدبودار حرکتیں کرتے ہیں، نہ انہیں منوں بلکہ ٹنوں سونا جمع کرنے کا جنون ہوتا ہے، نہ خبط عظمت میں مبتلا ہونے کی بیماری، نہ ان کی بیگمات کے کمروں سے ہزاروں جوڑے جوتے برآمد ہوتے ہیں تو آخر یہ اتنا بڑا فرق اور زمین و آسمان جتنا لمبا فاصلہ کیوں ہے؟ ہمارے صدام حسین اور معمرقذافی ہی ”کھڈوں“ اور ڈرینج پائپوں“ سے کیوں برآمد ہوتے ہیں؟ اور ہمارے ہی رضا شاہ پہلویوں اور عیدی امینوں پر زمین تنگ کیوں ہوتی ہے؟ پھانسیاں اور جلا وطنیاں بھی انہیں کا مقدر کیوں تو اس کی بنیادی وجہ یہ کہ یہ سب مختلف قسم کے ”مہم جو“ ہوتے ہیں… یہ سیاستدان نہیں” فارچون ہنٹرز“ ہوتے ہیں۔اسی لئے نہ ان میں سے کوئی”مغرب“ کے ساتھ مناسب اور متوازن طریقہ سے ڈیل کر سکتا ہے نہ اپنے عوام کو ذلیل کرنے سے باز رہ سکتا ہے یعنی وہی عوام کو”کاکروچ“ سمجھنے والا رویہ۔ مغرب کے ساتھ معاملہ کرنے میں دو مجنونانہ انتہائیں کہ یا بالکل لیٹ گئے یا لمبی لمبی بڑھکیں یا بغیر تیاری کے اوچھی حرکتیں اور عوام کو”اثاثہ“ سمجھنے کا تو تصور بھی موجود نہیں کہ کہیں تیل کو اثاثہ سمجھا جاتا ہے تو کہیں ایٹم بم کو اثاثہ مانا جاتا ہے…… نتیجہ ؟اندر بھی رسوائی اور باہر بھی ذلت۔
اب چلتے ہی مونس الٰہی کے باعزت بری ہونے کی طرف کہ اس نوجوان نے جتنی استقامت، دلیری اور خود اعتمادی کے ساتھ سات ماہ سے زیادہ عرصہ اعصاب شکن حالات کا سامنا کیا وہ اس کے روشن ترین سیاسی مستقبل کی بھرپور گواہی ہے۔ دائیں بازو کے لئے اپنے بازو اور دسترخوان ہمیشہ کھلے رکھنے والے چودھری ظہور الٰہی شہید کے نواسے نے نانا کے نام اور روایات کی لاج رکھ لی کہ شہید مچھ جیل میں بھی پورے قد سے کھڑا رہا اور نواسا یہاں ڈٹا رہا۔ سب سے قابل غور بات یہ ہے کہ جب مونس الٰہی کی ڈھنڈیا پڑی تو وہ بیرون ملک تھا۔ چاہتا تو اوروں کی طرح وہاں دبک کے بیٹھا رہتا لیکن وہ خود اپنی مرضی سے رضاکارانہ طور پر واپس آیا اور خود کو یہ کہتے ہوئے قانون کے حوالے کردیا کہ”مجھے اپنی عدلیہ پراعتماد ہے“۔ بے شک اسے اپنے آپ پر بھی اعتماد تھا…… بہرحال مختصراً یہ کہ ہماری سیاست کو یہ دلیر، پراعتماد نوجوان سیاستدان مبارک ہو جو اپنے نانا کی روایت پر مضبوطی سے قائم رہا۔
اور اب آخر پر اک اپیل
گلوکارہ سائرہ نسیم اک حادثہ کے بعد ہسپتال میں ہیں ان کی صحتیابی کے لئے دعا کیجئے۔ میں نے کبھی انہیں دیکھا نہیں لیکن ان کی ایک نعت …سبحان اللہ سبحان اللہ
”شاہ مدینہ…شاہ مدینہ
یثرب کے والی
سارے نبی تیرے در کے سوالی…شاہ مدینہ“
یہ نعت اک پرانی بلیک اینڈ وائٹ فلم”نور اسلام“ سے ہے اور لازوال پرجمال اور باکمال ہے اوریجنل کے ساتھ سائرہ نسیم کی آواز میں بھی بے مثال۔
اللہ اس آواز کو سلامت رکھے۔