• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کھوئی ہوئی آوازیں...چوراہا …حسن نثار

میں کیا اور میری شاعری کیا لیکن آج آپ کومیرے دوبہت ہی پرانے شعر برداشت کرنا ہوں گے کیونکہ اس کے بغیر گزارہ ہی ممکن نہیں۔
ہونی کیا اور انہونی کیا
جو ہونا ہو، ہو جاتا ہے
جو ملنا ہے، مل کے رہے گا
جو کھونا ہو، کھو جانا ہے
یہ شعر ان زمانوں کی یادگار ہیں جب میرے اندر کا شاعر پورے شباب پر تھا۔ میری شاعری سن کر ڈاکٹر عزیز الحق مرحوم و مغفور نے کہا تھا:
"A star is born"
میں شرمسارہوں کہ ڈاکٹرصاحب کی پیشین گوئی پر پورا نہیں اترا اور میری شاعری کو ماہناموں کی صحافت اور پھرکالم نگاری کھا گئی کہ اعلیٰ شاعری کے لئے جیسا ”ظرف“ درکار تھا… مجھے نصیب نہ ہوسکا لیکن بدنصیبی کی اس داستان میں یہ خاکسار تنہا نہیں۔ کسی کو کچھ کھا گیا،کسی کو کچھ کھا گیا جیسے میری شاعری کو کالم نگاری کھا گئی اور حفیظ احمد مرحو م کی شاعری کو ”فلم نگاری“ کھا گئی۔
شاعری کے خاموش، چپ چاپ، گمنام ”گاڈ فادر“ ڈاکٹر ریاض مجید کا شعری ایمان تھا، ایمانداری کے ساتھ شعری ٹیلنٹ کی تلاش اور اسے پروموٹ کرنا۔ ریاض مجید (ان دنوں ڈاکٹریٹ نہیں کی تھی) نے اک شعری مجموعہ مرتب کیا جس کا عنوان تھا… ”نئی آوازیں“ ٹائٹل مصو ر کیا۔ اسلم کمال نے اور اس مجموعہ میں، میں بھی شامل تھا کہ اس وقت میری عمر بمشکل 21 سال ہوگی اور یہ 1972 کی بات ہے۔ اس انیتھالوجی میں میرے علاوہ افتخار نسیم مرحوم، تنویر جیلانی مرحوم ، حزیں لدھیانوی مرحوم، انور محمودخالد، افضل احسن، خالد شریف، شفقت بٹالوی، خود ڈاکٹر ریاض مجید، سلیم بے تاب مرحوم اور حفیظ احمد شامل تھے۔ یہ سب ”لائل پوریئے“ تھے۔ افتخار نسیم پچھلے دنوں امریکہ میں چل بسے۔ سلیم بے تاب بھی بھری جوانی میں ٹریفک حادثہ کی بھینٹ چڑھ گیا اور اس کا یہ شعر آج بھی زبان زد عام ہے۔
میں نے تو یونہی راکھ میں پھیری تھیں انگلیاں
دیکھا جو غور سے تری تصویر بن گئی
تنویر جیلانی کو بھی جوانی راس نہ آئی لیکن سقوط ِ ڈھاکہ پر اس کا یہ شعر اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا۔
گلی گلی میں ہوا میری ہار کا اعلان
یہ کون جانے کہ میں تو بساط پر ہی نہ تھا
یہ فقط ایک شعر نہیں بلکہ ہم جیسی قوموں کی مکمل کہانی ہے جہاں عوام اور نام نہاد اشرافیہ بالکل مخالف و متضاد سمتوں میں رواں دواں ہوتے ہیں بہرحال مختصراً یہ کہ اس مجموعہ کے کچھ شاعروں کو موت کھا گئی… کچھ کوزندگی اور کچھ کو ان کے ذاتی فیصلے جیسے حفیظ احمد جو بلا کا شاعر تھا، شاعری سے وفا کرتا تو وہ اسے انتہا تک پہنچا دیتی لیکن حفیظ مرحوم نے فلم رائٹنگ کیلئے خود کو وقف کردیا کہ اس دور میں یہ کام خاصا گلیمرس اور نفع بخش تھا۔ سب سے پہلے حفیظ مرحوم کے چند شعر دیکھئے…
عدو کے ہاتھ سے لکھا ہوا مقدر ہوں
میں سر سے پاؤں تلک زہر کا سمندر ہوں
کھلی کتاب تھی دنیا نہ پڑھ سکے ہم ہی
نظر چراتے رہے ہیں ہر ایک باب سے ہم
لوگوں کی نگاہوں میں نہ آ میرا کہا مان
یوں خود کو تماشا نہ بنا میرا کہا مان
کون اچھا ہے، برا ہے کون، ان باتوں کو چھوڑ
زندہ رہنا ہے اگر تو خیر و شر کو بھول جا
ٹھہرے ہوئے پانی سے بہت کھیل چکا ہوں
بہکی ہوئی اک موج پہ اب میری نظر ہے
حفیظ احمدمرحوم کی لکھی ہوئی فلم ”ظلم دا بدلہ“ اپنے وقت کی سپرہٹ پنجابی فلم تھی جو حفیظ کی شدید خواہش کے باوجود میں نہ دیکھ سکا۔ حفیظ نے اس کے علاوہ بھی بہت سی کامیاب فلمیں لکھیں لیکن وہ خود کو فلم انڈسٹری میں ٹھیک سے ایڈجسٹ نہ کرسکا۔ چند سال پہلے وہ دنیا سے رخصت ہوا تو میں ملک سے باہر تھا۔ کافی عرصہ بعد معلوم ہوا کہ اسے گو دنیا چھوڑے کئی مہینے ہوچکے۔
میں اسے جب ملتا یہی کہتا کہ یار! تم نہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے ۔فلم کے لئے شاعری چھوڑی لیکن نہ فلم کے رہے نہ علم کے۔ جواباً وہ مجھے طعنہ دیتا کہ ”تم نے صحافت کے لئے شاعری چھوڑ کر کون سی توپ چلا لی ہے؟ ہم دونوں کا ”کیس“ ایک سا ہے سو کم از کم تم تو طعنے نہ دیا کرو“
کل اتفاقاً کیبل پر ”ظلم دا بدلہ“ دکھائی دی تو میں ٹھٹھک گیا۔ یہ عنایت حسین بھٹی کی پروڈکشن تھی۔ کیفی ہیرو تھا جس کے دوست کا رول منورظریف نبھا رہا تھا۔ فلم کی پوری کاسٹ میں سے سوائے اسد بخاری اور عالیہ کے شاید کوئی بھی زندہ نہیں۔ ایک فلم ٹی وی سکرین پرچل رہی تھی اور دوسری میرے خیالوں میں جس کا یہ سین چپک کر رہ گیا۔
حفیظ پوچھتا ہے
”تم نے ابھی تک ”ظلم دابدلہ“ نہیں دیکھی؟“
”نہیں“ … میں جواب دیتاہوں
”وجہ؟“ … وہ رعب سے پوچھتا ہے ا ور میں وعدہ کرتا ہوں کہ”جب بھی موقعہ ملا میں یہ فلم ضرو ر دیکھوں گا اور پھر تمہیں اپنی رائے سے بھی آگاہ کروں گا۔“
میں نے فلم دیکھ لی ہے لیکن افسوس اس کے مصنف کو اپنی رائے سے آگاہ نہیں کرسکتا۔
ہونی کیا اور انہونی کیا
جو ہونا ہو، ہو جاتا ہے
جو ملنا ہے، مل کے رہے گا
جو کھونا ہو، کھو جانا ہے
جیسے 1972 میں ریاض مجید کے مرتب کردہ مجموعہ ”نئی آوازیں“کی بیشتر آوازیں نجانے کہاں کھو گئی ہیں!
تازہ ترین