• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گھو گھو گھوڑے یا گونگے پہلوان...گریبان …منوبھائی

ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال2011ء کے دوران پاکستان کی قومی اسمبلی کے342ارکان سے 272ارکان نے اسمبلی کے کسی اجلاس میں کسی بھی موضوع پر کسی بحث میں حصہ لینے اور زبان کھولنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی اور صرف168ارکان نے قومی اسمبلی کے کسی اجلاس میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ان 168ارکان میں اکتالیس خواتین ہیں جنہوں نے اس معاملے میں اپنے مرد ساتھیوں سے بہتر کارکردگی اور قومی معاملات میں دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے۔ قومی اسمبلی کے ایوان کی77خاتون ارکان میں سے53نے ایوان کی کارروائی میں عملی طور پر حصہ لیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے 88 فیصد ارکان کارروائی میں حصہ لینے کے معاملے میں اول نمبر پر رہے جبکہ جمعیت علمائے اسلام کے پچاس فیصد ،پاکستان پیپلز پارٹی کے چالیس فیصد ارکان، پی ایم ایل کیو کے 33فیصد ارکان اور پی ایم ایل فنکشنل کے بیس فیصد ارکان نے اسمبلی کی کارروائی میں حصہ لیا۔ قومی اسمبلی کی مصروفیات میں حصہ لینے کے سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ کے ساٹھ فیصد ارکان نے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے اپنی سیاسی جماعت کو ایم کیو ایم کے بعد دوسرے نمبر کی پارٹی ثابت کیا۔
سال2011ء کے دوران قومی اسمبلی میں ارکان کی حاضری کا اوسط بہت کم رہا صرف 63سے73یہ اوسط حاضری رہی، قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ حاضری وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی رہی جو صرف ایک اجلاس میں شریک ہونے سے قاصر رہے ۔جب قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد اسمبلی کے چھ اجلاس سے غائب رہیں۔ سپیکر محترمہ فہمیدہ مرزا نے قومی اسمبلی کے صرف انیس فیصد اجلاس کی صدارت فرمائی جبکہ ڈپٹی سپیکر فضل کریم کنڈی نے 45فیصد نشستوں کی صدارت کی۔ اے این پی کے اسفند یار ولی نے محدودے چند اجلاس میں شرکت کی۔ مرتضیٰ جتوئی آف نیشنل پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کے صرف نو اجلاس میں شرکت کی اور قومی اسمبلی نے پارلیمانی سال کے دوران 35اجلاسوں میں اپنے پارلیمانی فرائض سرانجام دئیے جن میں عوام کی اہمیت کی 35 تحریکیں منظور کی گئیں جبکہ 23تحریکوں پر کوئی عمل یا فیصلہ نہ ہوسکا۔ پچھلے کئی سالوں کے مقابلے میں یہ پہلا پارلیمانی سال تھا کہ جس میں حکومتی پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی کے بعض ناراض ارکان اسمبلی نے کھلم کھلا حزب اختلاف کا ساتھ دیا۔ اس سال اسمبلی سے نوواک آؤٹ سٹیج کئے گئے۔ پی پی پی کے واحد رکن اسمبلی ناصر شاہ تھے جنہوں واک آؤٹ میں اپوزیشن کا ساتھ دیا۔غیر سرکاری فلاحی تنظیموں کی ایک بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے کہ انتخابی جمہوری اداروں ،قومی ،صوبائی اسمبلی اور سینٹ کے اندر ہونے والی کارروائی اور کارگزاری زیادہ سے زیادہ وضاحت کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کی جائے تاکہ وہ اندازہ لگا سکیں کہ ان کے منتخب کردہ ارکان کیا کردار ادا کررہے ہیں۔ خاص طور پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے وقفہ سوالات کو ٹیلی ویژن کیمروں کی مدد سے پوری قوم کے سامنے پیش کیا جائے جس کے ذریعے حکمرانوں کی کردہ کاریاں اور ناکردہ کاریاں دونوں لوگوں اور بالغ ووٹروں کے سامنے آتی رہیں۔
پورے پارلیمانی سال کے دوران342ارکان قومی اسمبلی میں سے274ارکان کے منہ کھولنے اور زبان ہلانے سے گریز یا پرہیز کی خبر سے یاد آتا ہے کہ چند سال پہلے ہمارے ایک کالم نگار ساتھی حسن نثار نے پورے پارلیمانی سال کے دوران خاموشی، بے زبانی اور عدم دلچسپی کا ثبوت دینے والے ارکان اسمبلی کو ازراہ تفنن”گھوگھو گھوڑے“ لکھا تھا۔ ”گھو گھو“ پنجابی میں فاختہ نما پرندے کو کہا جاتا ہے اور چھوٹے بچوں کے لئے کھلونے تیار کرنے والے خانہ بدوش گھرانوں کی خواتین”گھو گھو گھوڑے“ کے عنوان سے کھلونے فروخت کرتی ہیں۔ حسن نثار کی استعمال شدہ اس ترکیب کے خلاف اس وقت کی قومی اسمبلی میں ہنگامہ ہوگیا اور اسمبلی میں ان کے خلاف تحریک استحقاق پیش کردی گئی ۔ ارکان اسمبلی کو اس ترکیب میں”گھوڑے“ کی موجودگی پر کوئی اعتراض نہیں تھا کیونکہ ”ہارس ٹریڈنگ“ کا کاروبار شدت سے جاری تھا۔”ہارس“ انگریزی کا لفظ ہے اور انگریزی میں گندی گالی بھی دے دی جائے تو کچھ لوگوں کے لئے قابل برداشت ہوتی ہے۔ پریشانی تو”گھو گھو“ سے تھی۔
حالیہ سیاسی موسم کے تقاضوں کو پیش نظر رکھا جائے تو بعض سیاسی حلقے مطالعہ کرسکتے ہیں کہ جن ارکان قومی اسمبلی نے پورے پارلیمانی سال کے دوران خاموش رہنے کو ترجیح دی ہے ان کے مارچ 2012ء میں سینٹ کے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کردی جائے مگر پہلے حساب لگالیا جائے کہ اس پابندی سے نقصان صرف اور صرف پاکستان پیپلز پارٹی کا ہی ہوگا کوئی دوسری سیاسی جماعت منفی طور پر متاثر نہیں ہوگی۔
تازہ ترین