کراچی (نیوز ڈیسک) ابن صفی کو کون نہیں جانتا۔ معروف جاسوسی دنیا اور عمران سیریز کے خالق نے آج سے 63؍ سال قبل اپنے ناول ’’جنگل کی آگ‘‘ میں بتایا تھا کہ کس طرح شہر کے بھکاری اچانک غائب ہو جاتے تھے جنہیں جیرالڈ شاستری نامی کردار ایک مشین میں ڈال کر بندروں میں تبدیل کر دیتا تھا۔ کہنے کی حد تک تو یہ بات عجیب اور ناقابل یقین معلوم ہوتی ہے لیکن اب امریکا کے معروف سائنسدان گورڈن گیلپ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا میں بندر اور انسان کے ملاپ سے ایک نئی مخلوق بنائی گئی تھی۔ مادہ چمپانزی کے رحم میں نامعلوم شخص کا نطفہ ڈالا گیا اور اس کامیاب حمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کو ’’ہیومنزی‘‘ (یعنی چمپانزی اور ہیومن کی نسل) کہا گیا۔ سائنس میگزین کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1920ء کی دہائی میں کیے جانے والے اس تجربے کے حوالے سے ایسا کوئی بیان پہلے سامنے نہیں آیا تھا تاہم ارتقائی نفسیات کے ماہر معروف سائنسدان گورڈن جے گیلپ کے انکشافات نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اپنے انٹرویو میں پروفیسر گورڈن کا کہنا ہے کہ ہائبرڈ مخلوق کی پیدائش کا تجربہ فلوریڈا میں جانوروں کی ریسرچ لیبارٹری میں کیا گیا تھا۔ دی سن کو دیئے گئے انٹرویو میں پروفیسر گورڈن کہتے ہیں کہ فلوریڈا کے اورنج پارک میں 1920ء کی دہائی میں بندروں پر تحقیق کا ایک جدید مرکز قائم کیا گیا تھا جس میں ایک مادہ چمپانزی (بندروں کی ایک قسم) کے رحم میں ایک نامعلوم شخص کا نطفہ شامل کیا گیا۔ پروفیسر کا کہنا تھا کہ تجربہ نہ صرف کامیاب رہا بلکہ حمل کے نتیجے میں ایک بچہ بھی پیدا ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات میں بہت کم منطق نظر آتی ہے کہ بندر اور انسان کے ملاپ سے کوئی مخلوق پیدا ہوئی ہوگی اور اس بات کے کئی دلائل موجود ہیں کہ بچہ پیدا نہیں ہوا ہوگا، لیکن معروف اور مقبول سائنسدان کی جانب سے اس طرح کا بیان سامنے آنے کے بعد ماہرین حیران و پریشان نظر آتے ہیں۔ مبینہ بریک تھرو کی اہمیت اپنی جگہ لیکن پروفیسر گورڈن گیلپ، جو اب یونیورسٹی آف البانی میں محقق ہیں، کہتے ہیں کہ ان کے استاد نے اس تجربے کے مستند ہونے کی تصدیق کی ہے۔ تاہم انہوں نے اپنے استاد کا نام نہیں بتایا۔ گورڈن گیلپ کہتے ہیں کہ تجربے کے چند دن بعد ہی سائنسدانوں کی ٹیم کو اپنے اخلاقی جرم کا احساس ہوگیا جس کے بعد تمام تر مشاورت کے بعد انہوں نے ہیومنزی کو بے ایذا موت دیدی۔ تاہم، اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے تو یہ دیکھنا ہے کہ ان کے دعوے میں وزن ہے یا نہیں۔ جس ادارے کا ذکر پروفیسر گورڈن نے کیا ہے آج اس کا نام تبدیل ہو کر یرکز نیشنل پرائمیٹ ریسرچ سینٹر ہو چکا ہے اور یہ 1920ء نہیں بلکہ 1930ء کی دہائی میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کے خالق رابرٹ یرکز نے 1920ء کی دہائی میں مختلف ناموں سے اپنی نجی لیبارٹری قائم کی تھی جو یال لیبارٹریز آ پرائیمٹ بایولوجی اور انتھروپوائیڈ بریڈنگ اینڈ ایکسپریمنٹ اسٹیشن کے نام سے مشہور تھیں۔ شاید پروفیسر گورڈن اسی لیبارٹری کا ذکر کر رہے تھے کیونکہ اورنج پارک میں یہی لیبارٹی قائم کی گئی تھی۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ بندر اور انسان کے ملاپ سے کوئی مخلوق پیدا کرنے کا انکشاف کیا گیا ہے۔ اس سے قبل 2009ء میں ایک دستاویزی فلم بھی سامنے آئی تھی۔