آپ آف لائن ہیں
بدھ 8؍ شعبان المعظم 1439ھ 25؍ اپریل2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
x
اب آئی اُڑن کار

دنیا کی پہلی اُڑن کار چند روز قبل جنیوا میں منعقدہ ایک موٹر شو میں نمائش کے لیے پیش کی گئی ۔ڈچ فرم پال دی انٹر نیشنل کے مطابق 6 لاکھ ڈالر مالیت کی پرسنل ایئر لینڈ وہیکل لبرٹی سڑکوں اور فضا میں 180 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے سفر

کر سکتی ہے ۔ماہرین کے مطابق دو انجنوں پر مشتمل کار موٹر بائیک اور ہیلی کاپٹر کی درمیانی شکل کی ایک ہائی برڈ ہے ۔ یہ تین پہیوں کے ذریعے اڑنے والی کار ہے ،جس میں دو افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے جب کہ اسے یورپ اور برطانیہ دونوں جگہ سڑکوں اور فضا میں اڑنے کے لیے لائسنس دیا جاچکا ہے۔ 

x
Advertisement

یہ کارکاربن فائر، ٹیٹانیم اور المونیم کی آمیزش سے تیار کی گئی ہے، جس کا وزن 680 کلو گرام (1500 پائونڈز) ہے۔ اسے فضا میں بلند ہونے کے لیے 540 فیٹ (165 میٹر) رن وے جب کہ اترنے کے لیے صرف 100 فیٹ (30 میٹر) ہموار جگہ کی ضرورت ہوگی۔

اس اُڑن کار میں وہی سسٹم استعمال کیا گیا ہے جو کہ ایک موٹر بائیک کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ،جس کا انحصار ڈرائیور پر ہوتا ہے۔ پال ،وی لبرٹی کاروں کی اسمبل اکتوبر میں شروع ہوگئی تھی۔ نیدرلینڈ میں قائم اُڑن کار بنانے والی کمپنی دنیا کی پہلی کار اپنے کسٹمر کو اگلے سال ڈیلیو ر کرے گی ۔کمپنی کے سی ای او ابرٹ ڈنگ مینس کے مطابق فلموں میں بہت سے مواقعے پر اُڑنے والی کاریں نظر آتی ہیں ،اب یہ کارخریداروں کے لیے اگلے سال مارکیٹ میں دستیاب ہوں گی ۔

اب آئی اُڑن کار

کمپنی کو اُمید ہے کہ 2019 ء تک 50 سے 100 سے کاریں فروخت کے لیے پیش کی جائیں گی ،جب کہ 2020 ء تک پیداواری صلاحیت کئی گنا بڑھ جائے گی ۔ کمپنی کا آئندہ سال اُڑن کار کا ایک سستا ماڈل بھی متعارف کر ے گی ۔

کمپنی نے کار کو اس طرح ڈیزائن کیا ہے کہ ایک بٹن کو دبانے پر اس کے پروں کو سمیٹا جاسکے گا ،جو کہ کار کے اوپر چمگاڈرکے بازوئوں کی مانند نصب ہوں گے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کار ہیلی کاپٹر نہیں ہے ،جس کے پروں کو ایک انجن کی طاقت سے جلا یا جائے بلکہ یہ ایک جائرو پلین ہے ،جس کے پر ہوا کے دبائو سے عمودی محور کے گرد گھومتے ہیں۔ 

اس کی خاص بات یہ ہے کہ اگر دونوں انجن بند کردیئے جائیں تو اس کے پر پھر بھی گھومتے رہیں گے۔ ڈنگ مینس کے مطابق اس کے روٹر کو انجن سے کوئی طاقت نہیں دی جاتی، دراصل یہ ایک پیرا شوٹ ہے ،جو کہ ہر وقت دستیاب ہوتا ہے۔ اڑنے والی کار کے مختلف ماڈلز چیک ریپبلک، سلواکیہ، جاپان، چین اور امریکامیں تیار کئے جاچکے ہیں۔ پال وی لبرٹی کو ایک ڈرائیونگ لائسنس اور ایک پائلٹ لائسنس حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اُڑن کار کی تیاری کے لیے اس کے پرزوں کا آرڈر دیا جاچکا ہے ،جب کہ پہلی کار کے لیے تمام پرزے حاصل کئے جاچکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق پہلی کار کسٹمر کے حوالے کیے جانے سے قبل اسے کم سے کم 150 گھنٹے پرواز مکمل کرنی ہوگی اور کولون، جرمنی میں قائم یورپین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ای اے ایس اے) سے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے کئی فٹنس ٹیسٹ دینے پڑیں گے۔ یہ مرحلہ مکمل ہونے کے بعد اسے امریکا میں ایف اے آر 27 ریگولیشنز کے تحت سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی اجازت ملے گی۔ پال وی فلائنگ کار میں 100 ہارس پاور کے دو انجن نصب کئے گئے ہیں، جس میں بغیر سیسہ والا عام پیٹرول استعمال ہوتا ہے۔ 

اب آئی اُڑن کار

کار میں نصب کئے گئے ٹینک میں 27 گیلن پیٹرول کی گنجائش ہے ،جس کے ذریعے یہ 11,500 فیٹ تک کی بلندی پر 400 سے 500 کلو میٹر تک سفر کرسکے گی۔ سڑک پر یہ پیٹرول 1200 کلو میٹر تک کے سفر کے لیے کافی ہے۔ اس کی انتہائی رفتار 170 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے، جب کہ یہ ابتدائی 8 سیکنڈز میں صفر سے 95 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار پکڑ لیتی ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال فرم کے چیف مارکیٹنگ آفیسر مارکس ہیس نے کہا تھا کہ کمپنی اُڑن کاریں تیار کرنے کی جو منصوبہ بندی کررہی ہے اس کی تیاری میں تقریباً 100 سال درکار ہوں گے۔ 

تاہم اگلے سال ہی جینوا موٹر شو میں پال وی فلائنگ کار کی نمائش کا سہرا کمپنی کے تحقیقی ماہرین اور سائنس دانوں کو جاتا ہے جنہوں نے دن رات کی محنت سے دنیا کی پہلی اُڑن کار تیار کرلی ہے۔

قبل ازیں گزشتہ سال اپریل میں سلواکیہ کی ایک فرم نے موناکو میں منعقدہ سپرکاروں کی نمائش کے لیے منعقدہ ایونٹ ’’فرنچ ریویرا‘‘ میں اُڑن کاروں کے دو ماڈلز متعارف کرائے تھے جن کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ یہ 260 کلو میٹر کی رفتار سے سفر اور پرواز کرسکے گی۔ 12 سے 15 لاکھ یورو قیمت والی 6 میٹر لمبی یہ کار 2020 میں پہلے کسٹمر کے حوالے کی جائے گی۔ علاوہ ازیں آسڑیا کے دارالحکومت ویانا میں سلواکیہ کے ماہرین بھی ایک اڑن کار کا ماڈل متعارف کراچکے ہیں۔ 

اسٹیل اور فائبر سے تیار کی گئی اس فلائنگ کار کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ سڑک پر 124 میل فی گھنٹہ (190 کلو میٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے سفر جب کہ فضا میں 544 میل (875 کلو میٹر) فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرسکتی ہے۔ اس ہائبرڈ وہیکل کو بھی جلد مارکیٹ میں پیش کئے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس سے قبل 2014 میں بھی آسڑیا میں ایروموبل نے اُڑن کار کا ایک ماڈل پیش کیا تھا۔ سلواکیہ کی اس فرم کا دعویٰ تھاکہ ایروموبل فلائنگ کار ایک مرتبہ پیٹرول بھرنے کے بعد 430 میل (692 کلو میٹر) تک پرواز کرسکتی ہے۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں