آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قصہ تو پرانا ہے لیکن آج کے حالات میں بھی نیا لگتا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب خواجہ حسن نظامی نے ایک معمولی علمی اختلاف کی وجہ سے علامہ محمد اقبالؒ کے خلاف ایک قلمی ہنگامہ برپا کر دیا اور پھر اس اختلاف کو ایک مذہبی گستاخی ثابت کرنے کی کوشش کی۔ علامہ اقبالؒ کا قصور صرف اتنا تھا کہ انہوں نے فارسی زبان میں ’’اسرار خودی‘‘ کے نام سے ایک مثنوی لکھی تھی اور اس میں انہوں نے مسلمانوں کو اپنی خودی بیدار کرنے کا پیغام دیا تھا۔ مثنوی کے دیباچے میں فارسی کے مشہور شاعر حافظ شیرازی پر کچھ تنقید کی گئی تھی جو علامہ اقبالؒ کے خیال میں روایت پسند اور وجودی تصوف کے حامی تھے۔ خواجہ حسن نظامی کو یہ تنقید پسند نہ آئی اور انہوں نے اپنے دوست علامہ اقبالؒ کو ناصرف صوفیا کا مخالف بلکہ ایک گمراہ مسلمان قرار دینا شروع کر دیا۔ دونوں میں قلمی جنگ شروع ہو گئی لیکن پھر اکبر الٰہ آبادی درمیان میں آئے اور خواجہ حسن نظامی سے کہا؎
اے خواجہ حسن! کرو نہ اقبال کو رَد!
قومی رکنوں کے ہیں نگہباں وہ بھی
تم محو ہو حسن کی تجلی میں، اگر
ہیں دشمن فتنہ رقیباں وہ بھی
یہ قصہ اس ناچیز نے 21اپریل کو لاہور میں علامہ اقبالؒ کے یوم وفات پر منعقد ہونے والی مجلس میں بیان کیا جس کی صدارت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کر رہے تھے اور اس مجلس کا اہتمام جناب

عارف نظامی نے کیا تھا۔ میں نے قصہ بیان کرنے کے بعد واضح کیا کہ خواجہ حسن نظامی اور عارف نظامی کا آپس میں کوئی رشتہ نہیں خواجہ حسن نظامی نے اقبالؒ کو ستایا تھا اور عارف نظامی اپنے عظیم والد حمید نظامی کی طرح نئی نسل میں فکر اقبال کو پھیلانے کے لئے کوشاں ہیں۔ یہ قصہ بیان کرنے کا مقصد صرف یہ بتانا تھا کہ اختلاف رائے کو کفر اور اسلام کی جنگ بنانے کی روایت پاکستان بننے سے پہلے بھی موجود تھی اور پاکستان بننے کے بعد بھی موجود ہے۔ میں نے اس مجلس کو یہ بھی بتایا کہ 1926ء میں علامہ اقبالؒ نے لاہور شہر سے پنجاب اسمبلی کا الیکشن لڑا تو لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سر شادی لال نے ایک بیرسٹر ملک محمد دین کو اقبال کے مقابلے پر کھڑے ہونے کی ترغیب دی۔ ایک مسلم نشست پر ہونے والے الیکشن میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد دس ہزار سے زیادہ نہ تھی لیکن ملک محمد دین نے اس الیکشن کو ’’اسرار خودی‘‘ کی بنیاد پر وہابی اور بریلوی کی لڑائی بنانے کی کوشش کی۔ الیکشن کے دن ملک محمد دین کے کئی حامی جعلی ووٹ ڈالتے ہوئے پکڑے گئے۔ علامہ اقبالؒ ساڑھے پانچ ہزار ووٹ لے کر جیت گئے اور ملک محمد دین کو اڑھائی ہزار ووٹ ملے۔ اس الیکشن میں علامہ اقبالؒ کے ساتھ جو گستاخیاں ہوئیں اُن کا ذکر جسٹس (ر) جاوید اقبال نے اپنی کتاب ’’زندہ رود‘‘ میں حفیظ جالندھری کے حوالے سے کیا ہے اور بتایا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران سیاسی مخالفین شاعر مشرق کے سامنے آ کر اپنی دھوتی اُٹھا دیا کرتے تھے اور حفیظ جالندھری یہ کہہ کر شاعر مشرق کو تسلی دیا کرتے تھے کہ فکر نہ کریں اُن کے پاس جو تھا وہ انہوں نے دکھا دیا جیت آپ کی ہو گی۔ علامہ اقبالؒ جیت تو گئے لیکن پھر دوبارہ انہوں نے الیکشن نہیں لڑا اور مغربی جمہوریت کے مقابلے پر روحانی جمہوریت کا تصور پیش کیا جس میں الیکشن لڑنے والے کی اصل طاقت اُس کی دولت اور وسائل نہیں بلکہ اُس کی قابلیت اور کردار ہو۔
یہی بات اس مجلس میں احمد جاوید صاحب، جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال صاحبہ، ضیاء شاہد صاحب اور سجاد میر صاحب نے کی کہ ہمیں وہ پاکستان چاہئے جو اقبالؒ اور قائد اعظم ؒ کے نظریات کے مطابق ہو۔ بانیان پاکستان جمہوریت پر یقین رکھتے تھے اور شخصی آزادیوں کے حامی تھے لہٰذا علامہ اقبالؒ کی یاد میں منعقد ہونے والی اس مجلس میں مجھے یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہ ہوئی کہ وہ شہر جہاں علامہ اقبالؒ دفن ہیں اُس شہر میں پشتون بھائی اپنے دل کی بات سنانے آتے ہیں تو اُنہیں روکا جاتا ہے۔ ہم ان سے اختلاف کر سکتے ہیں یہ جو نعرے لگاتے ہیں اُنہیں مسترد بھی کر سکتے ہیں لیکن اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کر سکتے کہ اگر پاکستان میں لوگوں کو جبری طور پر غائب نہ کیا جا رہا ہوتا تو یہ قابلِ اعتراض نعرے پیدا نہ ہوتے۔ اگر آج یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈے کیلئے جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو محض ایک جواز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تو پھر ریاستی ادارے مل کر آئین کی دفعہ دس کی خلاف ورزی کو کیوں نہیں روکتے؟ دفعہ دس کے تحت ہر گرفتار شہری کو حراست میں لئے جانے کے بعد 24گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش کرنا ضروری ہے۔ آئین کی دفعہ دس کی خلاف ورزی پر احتجاج کو روکنے کی کوشش دفعہ سولہ کی خلاف ورزی ہے جو شہریوں کو پُرامن اجتماع کا حق دیتی ہے اور پُرامن شہریوں کی آواز کو دبانا دفعہ انیس کی خلاف ورزی ہے جو آزادیٔ اظہار کا حق دیتی ہے۔ میں نے چیف جسٹس کی صدارت میں منعقد ہونے والی مجلس کو یہ بھی بتایا کہ دفعہ دس اور دفعہ انیس کی خلاف ورزی کو روکنے کے لئے پارلیمنٹ نے کچھ نہیں کیا اب لوگ عدلیہ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ آج ووٹ کو عزت دینے کی بات ہوتی ہے تو ووٹ کے ساتھ ساتھ ووٹر اور آئین کو بھی عزت ملنی چاہئے اگر آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی پر ہم لوگ خاموش رہیں گے تو یہ اقبالؒ اور قائد اعظمؒ کے نظریات سے روگردانی ہو گی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے خطاب میں بڑے دبنگ انداز میں آئین کی پاسداری کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ آج اس ملک میں کچھ لوگ جوڈیشل مارشل لا کی باتیں کرتے ہیں لیکن سپریم کورٹ کے سترہ جج مارشل لا نہیں لگنے دیں گے۔ جس وقت میاں ثاقب نثار یہ باتیں کر رہے تھے تو مریم نواز اسٹیج پر بیٹھے ہوئے کچھ صحافیوں کو چیف جسٹس کے پروٹوکول کے متعلق پیغامات بھیج رہی تھیں اور ایسا ہی ایک پیغام مجھے بھی دکھایا گیا۔ یہ مجلس ختم ہوئی تو بہت سے حاضرین نے ایوانِ اقبال کے ہال سے نکلتے ہوئے چیف جسٹس کو گھیر لیا۔ کوئی اپنی فریاد سنا رہا تھا، کوئی اُن کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہا تھا اور ایک بزرگ نے تو ان کے سامنے تقریر شروع کر دی۔ پولیس اور رینجرز کے چند جوان چیف جسٹس کے آگے پیچھے ضرور نظر آ رہے تھے لیکن اُنہوں نے کسی کو دھکا مارا نہ اسلحے کی نوک پر پیچھے ہٹایا۔ کیا کسی اور وی آئی پی شخصیت کو عام لوگ اس طرح گھیرا ڈال سکتے ہیں؟ چیف جسٹس صاحب بار بار کہہ چکے ہیں کہ وہ صرف قانون پر عملدرآمد کرانے والے ہیں قانون بنانے والے نہیں ہیں۔ لوگوں کو اُن سے زیادہ توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہئیں لیکن کم از کم مجھے یہ توقع ضرور ہے کہ اگر پاکستان میں جگہ جگہ آئین کی دفعہ دس، سولہ اور انیس کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور ووٹ کو عزت دینے کے دعویدار حکومت میں ہونے کے باوجود کچھ نہیں کر پا رہے تو کم از کم عدلیہ کو یہ معاملہ سلجھانا چاہئے۔
آج کے دور میں صرف باتوں سے من موہ لینا اتنا آسان نہیں، کچھ کرنا بھی پڑتا ہے۔ اقبال نے کہا تھا ؎
اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتار کا یہ غازی تو بنا کردار کا غازی بن نہ سکا
اقبالؒ کے دیس میں اختلاف رائے پھر جرم بن چکی۔ حقوق کا مطالبہ کرنے والے بھی تلخ نوائی کر رہے ہیں اور اس پر غصہ کھا کر غداری کے الزام لگانے والوں کو بھی حالات کی نزاکت کا احساس نہیں۔ اس وقت کسی اکبر الٰہ آبادی کی ضرورت ہے جو خواجہ حسن نظامی اور علامہ اقبالؒ کو ایک دوسرے پر فتوے لگانے سے روکے اور صرف گفتار کا غازی نہ بنے بلکہ کردار کا غازی بن کر آئین پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد کرائے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں