آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
لوڈ ویڈنگ: بڑی عید پر جیو کا بڑی فلم کا تحفہ!!

شادی بیاہ کی رسوم دن بہ دن مشکل ترین ہوتی جارہی ہیں، جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے،نت نئی رسمیں شادی بیاہ کا حصہ بنتی جارہی ہیں اور اس موقع پر پانی کی طرح پیسہ بھی لٹایا جاتا ہے، ناراض اور روٹھے ہوئے رشتے داروں کو منانے کی تکلیف دہ صورتِ حال سے گزرنا پڑتا ہے۔ شادی ہال کی بکنگ،میوزیکل پروگرام کا انعقاد،رسم ڈھولک،رسمِ مہندی، مہنگاترین عروسی جوڑا،فوٹو شوٹ،چار پانچ کیمروں سے ویڈیوز بنائی جانے لگی‘دُلہا دُلہن ماڈلنگ کرتے دِکھائی دینے لگے، شادی کو عجیب تماشہ بنادیا گیا۔ یہ تمام صورتِ حال اور مشکلات کو تین سپر ہٹ فلموں کے ہدایت کار نبیل قریشی اور پروڈیوسر فضا علی مرزا نے عیدالاضحیٰ پر جیو فلمز کے اشتراک سے ریلیز ہونے والی اپنی نئی فلم ’’لوڈ ویڈنگ‘‘دل چسپ انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ان کی فلموں کا نام ہمیشہ ہی مختلف اور منفرد ہوتا ہے۔ یہ وہی نبیل قریشی ہیں‘جو جیو سے مقبول ترین سیاسی مزاحیہ پروگرام ’’بی این این‘‘پروڈیوس کرتے تھے اور خوب کمالات دِکھاتے تھے،اسی دوران جب ’’بی این این ‘‘کی ٹیم میں اختلافات نے جنم لیا، تو نبیل قریشی نے جیو ٹی وی سے تین ماہ کی چھٹی منظور کروائی اور فضا علی مرزا کے ساتھ مل کر ایک فیچر فلم ’’نامعلوم افراد‘‘کی پلاننگ کی۔ نومبر 2013سے جیو نیٹ ورک سے چھٹی لے کر نبیل قریشی ایسے گئے کہ پھر وہ ایک منجھے ہوئے اور کام یاب ہدایت کار کے روپ میں سامنے آئے۔ اُن کی ہدایت میں بننے والی فلم ’’نامعلوم افراد‘‘نے پاکستان فلم انڈسٹری کو ایک نیا اَنگ نیا روپ اور نیا انداز دیا۔ اس فلم میں شامل آئٹم سونگ ’’بلی‘‘نے ٹیلی وژن ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دِکھانے والی اداکارہ مہوش حیات کو راتوں رات فلموں کی ایک بڑی اسٹار بنادیا۔ حیرت انگیز طورپر ’’نامعلوم افراد‘‘کی ٹیم بالکل نئی تھی اور نوجوانوں پر مشتمل تھی، لیکن باکس آفس پر اس فلم نے ایسی دُھوم مچائی کہ ہر طرف نبیل قریشی اور فضا علی مرزا کے چرچے ہونے لگے۔ فلم کا ہیرو ،فلم کی ہیروئن،فلم کا ہدایت کار،اور پروڈیوسر سب نئے تھے، لیکن سب کی کاوشیں رنگ لائیں۔ فلم بینوں نے اس نئی ٹیم کو خوش آمدید کہا اور اُس کا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ فضا علی مرزا اور نبیل قریشی نے سپر ہٹ اور کام یاب فلموں کی ہیٹ ٹِرک مکمل کی۔16اکتوبر 2014کو ’’نامعلوم افراد‘‘ریلیز ہوئی، بعدازاں ستمبر 2016کو ’’ایکٹر اِن لا‘‘اور 2ستمبر 2017کو عیدالاضحیٰ کے موقع پر ’’نامعلوم افراد2‘‘ریلیز ہوکر دنیا بھر میں باکس آفس پر بزنس کے نئے ریکارڈز قائم کیے اور اب 2018میں عیدالاضحی کے موقع پر جیو فلمز کے اشتراک سے ایک سماجی ،رومینٹک،مزاحیہ،اور شرارتوں سے بھرپور فلم ’’لوڈ ویڈنگ‘‘کی صورت میں تہذیبی،روایتی،ثقافتی،اور سماجی دھماکہ کرنے آرہے ہیں۔ دراصل نبیل قریشی اور فضا علی مرزا دو نہیں بلکہ گیارہ ہیں۔ یہ دونوں مل کر پہلے فلم بنانے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور پھر سر جوڑ کر اِسکرپٹ لکھنے بیٹھ جاتے ہیں، جب اِسکرپٹ مکمل ہوجاتا ہے، تو فلم کی شوٹنگ کے لیے ریکی کے لیے مختلف ممالک اور پاکستان کے شہروں کا رُخ کرتے ہیں۔صرف پانچ برس میں اِن دونوں نے پاکستان فلم انڈسٹری سے وابستہ بڑی شخصیات کو بتادیا بلکہ کام کرکے دِکھادیا کہ انسان میں جذبہ،جنون کے ساتھ کام کرنے کی سچی لگن ہو تو فلم بین بڑی تعداد میں سینمائوں کا رُخ کرکے اہم کام یابی دِلواتے ہیں۔ نہایت قلیل عرصے میں نبیل قریشی کا شمار صفِ اول کے ہدایت کاروں میں ہونے لگا ہے،کیوں کہ جب سے انہوں نے کام شروع کیا ہے، ابھی تک اُن کی کوئی فلم ناکام نہیں ہوئی ہے۔ دوسری جانب قدم قدم پر اُن کا ساتھ نبھایا ہے، ان کی قریبی دوست، فضا علی مرزا نے، جو نہ صرف فلم لکھنے میں اِن کا ہاتھ بٹاتی ہیں ،بلکہ فلم سازی پر سرمایہ بھی لگاتی ہیں۔ اِن دونوں شخصیات میں کمال کی کیمسٹری ہے ۔

گزشتہ دنوں ہم نے ’’فلم والا پروڈکشن ‘‘کے آفس میں فلم ’’لوڈ ویڈنگ‘‘کے ہدایت کار اور پروڈیوسر سے ان کی نئی فلم کے بارے میں گفتگو کی۔ہم نے پوچھا کہ ایک خاتون پروڈیوسر کی حیثیت سے اس بار آپ کو سخت مقابلے کا سامنا ہے،اس سلسلے میں آپ نے کیا تیاریاں کررکھی ہیں؟اس سوال کے جواب میں فضا علی مرزا نے بتایا کہ میرے سامنے جو خاتون پروڈیوسر ہیں، اُن کی دوسری فلم ہے، جب کہ میری ریلیز ہونے والی چوتھی فلم ہے۔ اس لحاظ سے میں تجربے میں اُن سے آگے ہوں اور میں بہت پُر اعتماد ہوں کہ میری فلم نمبر ون آئے گی ،کیوں کہ عیدالاضحی پر ریلیز ہونے والی تینوں فلموں میں ’’لوڈ ویڈنگ‘‘اپنے نام کی طرح سب سے مختلف اور دل چسپ ہے۔ ہم نے ہمیشہ اپنی فلموں کے نام دل چسپ اور منفرد رکھے ہیں، جب ہم نے ’’نامعلوم افراد‘‘کے نام سے ایک مزاحیہ فلم بنائی تھی تو سب حیران رہ گئے تھے، اُس کے بعد ’’ایکٹر اِن لا‘‘بھی فلم کا دل چسپ نام تھا ،جس میں بھارت کے منجھے ہوئے اداکار ’’اوم پُوری‘‘نے وکیل کا کردار ادا کیا تھا ۔ ہماری پُوری ٹیم آج بھی اُن کو بہت یاد کرتی ہے، کیوں کہ وہ اب اس دُنیا میں نہیں ہیں ۔اپنی نئی آنے والی فلم ’’لوڈ ویڈنگ‘‘کے بارے میں کیے گئے سوال کے جواب میں فلم کے ڈائریکٹر نبیل قریشی نے بتایا کہ یہ ایک ہنستی، مُسکراتی،گنگناتی،گُدگُداتی اور رومانس سے بھرپور فلم ہے۔ یہ ہماری پچھلی تینوں فلموں سے بالکل الگ ہے ۔اس فلم میں ہم نے کوشش کی ہے کہ شادی بیاہ میں جو غیر ضروری رسوم پر بے پناہ سرمایہ خرچ کیا جاتا ہے، اُس کی عکاسی کی جائے۔ ہمارے معاشرے میں شادی اتنی دُھوم دھام سے کی جاتی ہے اور اُس پر جو دولت لُٹائی جاتی ہے، اُس سے کئی غریب لڑکیوں کے ہاتھ پیلے ہوسکتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر دل چُھولینے والی رَسموں کے بجائے دِکھاوا بہت زیادہ ہوگیا ہے، جوکہ غیر ضروری ہے۔ والدین زندگی بھر کی کمائی بچوں کی شادی پر لگادیتے ہیں اورکچھ والدین اپنی لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم یہ سوچ کر نہیں دِلواتے کہ انہیں پرائے گھر جانا ہے ۔ یہ سب کچھ ’’لوڈویڈنگ‘‘میں  ہوگا۔ ہم نے 45دن تک پاکستان کے خوب صورت شہروں میں اِس کی شوٹنگ کی ہے، جن میں لاہور،کراچی،وزیر آباد،سیالکوٹ اور پنجاب کے چھوٹے چھوٹے گائوں شامل ہیں۔ ہم نے اِس فلم میں حقیقی پنجاب کو پینٹ کیا ہے،ماضی میں جو فلموں میں پنجاب کے کلچر کو تباہ کیا گیا، ہم نے اُس سے بالکل الگ کام کیا ہے۔ ’’لوڈ ویڈنگ‘‘پاکستان اور پاکستانیوں کی کہانی ہے۔ اِسی لیے بیرون ملک شوٹنگ کے بجائے اپنے ملک کو ترجیح دی۔ ہم اپنے یونٹ کے ساتھ گائوں گائوں پہنچے، ایسی جگہ بھی گئے ، جہاں فن کاروں کے رہنے کے لیے مناسب ہوٹل بھی نہیں تھے، لیکن پُوری ٹیم میں کام کرنے کی سچی لگن تھی، تو بہت ساری چیزیں دل چسپ اور دل کش فلم بند ہوگئیں ۔فلم کے ہر کردار اور سین میں پنجاب کی مٹی کی خوشبو محسوس کی جائے گی ۔ سارے کردا راپنی ثقافت اور تہذیب میں رَچے بسے ہوئے ہیں۔‘‘ آپ دونوں کسی رائٹر سے فلم کیوں نہیں لکھواتے ؟اس سوال کے جواب میں کہا کہ ہمیں خود ایسے فلم لکھنے والے کی تلاش ہے، جو ہماری سوچ کے مطابق کوئی اچھی فلم لکھ دے، تاکہ ہم اپنے دوسرے کاموں پر زیادہ فوکس کرسکیں۔ اس لیے مجبوری میں خود ہی فلم لکھنا پڑتی ہے۔ فلم کے نمایاں فن کاروں میں کون کون ہیں؟ اس بارے میں نبیل قریشی نے بتایا کہ ہمیشہ کی طرح ہماری چوتھی فلم میں بھی فہد مصطفیٰ ہیرو ہیں اور اُن کے ساتھ مہوش حیات بہ طور ہیروئن جلوہ گر ہوں گی۔ یہ جوڑی ہماری گزشتہ فلم ’’ایکٹر اِن لا‘‘میں بھی بے حد پسند کی گئی تھی۔ دیگر فن کاروں میں ٹیلی وژن کی منجھی ہوئی اداکارہ ثمینہ احمد والدہ کے روپ میں، جب کہ فائزہ حسن گھر کی لاڈلی بہن کے کردار میں نظر آئیں گی ۔ نامور کمپیئر اور اداکارنور الحسن اور مزاحیہ فن کار قیصر پیا بھی دل چسپ روپ میں جلوہ افروز ہوں گے ۔ ہم نے کوشش کی ہے کہ جن علاقوں میں فلم شوٹ کی جائے، وہاں کے مقامی فن کاروں کو زیادہ سے زیادہ مواقع دیں۔ ہماری فلموں میں زندگی کے چھوٹے چھوٹے کردار بھی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔‘‘ چوتھی فلم میں بھی فہد مصطفیٰ‘اس کی کوئی خاص وجہ ہے؟ جواب میں پروڈیوسر فضا علی مرزا نے بتایا کہ جس دن ہم نے اپنی نئی فلم میں کسی اور فن کار کو ہیرو کاسٹ کرلیا، تب بھی لوگ طرح طرح کی باتیں کریں گے کہ فہد کو کیوں نہیں لیا۔‘‘ اس بار فہد، عید پر ریلیز ہونے والی دوسری فلم میں بھی جلوہ گر ہورہے ہیں؟ جواب میں نبیل قریشی نے بتایا کہ خوشی کی بات ہے کہ جس ہیرو کو ہم نے  اِنٹروڈیوس کروایا، اب اُس کی مانگ میں زبردست اضافہ ہورہا ہے ۔’’جوانی پھر نہیں آنی2‘‘میں وہ 4ہیرو کے ساتھ آرہے ہیں، جب کہ ہماری فلم میں لیڈنگ رول میں نظر آئیں گے۔ اس عید پر اگر 2فلمیں ریلیز کی جاتیں تو زیادہ بہتر تھا، تیسری فلم کا کوئی شیڈول نہیں تھا، وہ لوگ چلتی ٹرین میں سوار ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے تینوں فلموں کا بزنس متاثر ہوگا ۔‘‘

آپ کی فلموں کی مسلسل کام یابی کی بڑی وجہ کیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں نبیل قریشی نے بتایا کہ ہماری فلمیں!! لوگوں سے جُڑی ہوتی ہیں، ہر ایک کو فلم دیکھتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے، جیسے یہ اُس کی اپنی کہانی ہے۔‘‘ فلم کی موسیقی کے بارے میں کچھ بتائیں؟ ہماری سب سے زیادہ توجہ کہانی کے بعد فلم کی موسیقی پر ہوتی ہے۔ ہماری گزشتہ فلموں کے گانے بے حد مقبول ہوئے۔ اس بار بھی فلم کا میوزک شانی نے دیا ہے۔ فلم میں سماعتوں میں رَس گھولنے والے پانچ گانے شامل کیے گئے ہیں، جس میں فلم بینوں کو خوب صورت اور دل کش اعضاء کی شاعری بھی دیکھنے کو ملے گی۔نامور کوریو گرافر نگاہ حسین نے اپنی اُنگلیوں کے اِشاروں پر فن کاروں کو نچوایا ہے۔ فلم میں دِلوں پہ راج کرنے والی ہیروئن مہوش حیات‘ ’’میرَب ‘‘کے روپ میں جلوہ گر ہوں گی، جب کہ فہد مصطفیٰ اُن کے دل کے راجا ‘یعنی ’’راجا‘‘ کے کردار میں نظر آئیں گے ۔‘‘آپ کی تینوں فلمیں کسی اور میڈیا گروپ کے ساتھ ریلیز کی گئیں، اس بار جیو فلمز کے ساتھ ریلیز کرنے کے فیصلے کی وجہ کیا تھی ؟جواب میں فضا علی مرزا نے بتایا کہ جیو سے ہماری ایسوسی ایشن بہت پُرانی ہے۔ ہم نے پہلی بار ’’فلم والا پروڈکشن‘‘کے تحت جو کام کیا تھا، وہ بھی جیو سے آن ایئر گیا اور یہ تو سب جانتے ہیں کہ نبیل قریشی تو جیو سے باقاعدہ منسلک رہے ہیں۔ اس مرتبہ جیو کے ساتھ مارکیٹ میں اِس لیے آرہے ہیں کہ جیو کی مارکیٹنگ باقی سب سے الگ ہوتی ہے، وہ فلم کو کہیں سے کہیں پہنچادیتے ہیں ۔اس بار ایک اور خاص بات یہ ہے کہ ہماری فلم کو دُنیا بھر میں کو ’’زِی انٹرنیشنل اسٹوڈیو‘‘ریلیز کررہا ہے اور یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں