آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لڑکپن میں ایک پیشہ ور نجومی نے کاغذپر الٹی سیدھی لکیریں کھینچ کر میرا زائچہ بنایا اور پیش گوئی کی کہ میں93سال کی طویل عمر پائوں گا۔۔۔ بشرطیکہ اس سے پہلے فوت نہ ہو گیا۔ بڑا ’’پہنچا ہوا‘‘ نجومی تھا۔ ایسے ہی ایک نجومی نےکوئی 6 ماہ پہلے 2018کے انتخابات کےبارے میں بقول خود سو فیصد درست پیش گوئیاں کیںجنہیں اپنی ذات تک محدود رکھنا مفاد عامہ کے منافی ہوگا اس لئے قارئین کی دلچسپی کیلئے پیش کر رہا ہوں۔ نجومی نے بتایا کہ الیکشن بالکل صاف و شفاف ہوں گے۔ بیلٹ پیپر صاف ستھرے ہوں گے۔ ان پر امیدواروں کے انتخابی نشانات شفافیت کی علامت ہوں گے۔ مہریں بھی ٹھیک ٹھاک ہوں گی۔ ٹھپے لگانے والوں کو اجازت ہو گی وہ جس نشان پر چاہیں ٹھپہ لگا دیں لیکن مداخلت معاف‘ جسے پیا چاہے اس پر ٹھپہ لگائیں تو بڑی مہربانی ہو گی۔ نہ لگائے تو نتائج کے ذمہ دار خود ہوں گے۔ سیاسی پارٹیاں ووٹروں کی دل ’’پشوری‘‘ کرنے اور دنیا کو دکھانے کے لئے انتخابی منشور پیش کریں گی جن میں عوام کے دلدردور کرنے کیلئے ایسے ایسے وعدے کئے جائیں گے کہ ووٹروعدے کرنے والوں کے ہاتھ چومنے کے لئے بے تاب ہو جائیں گے تاہم وہ منشور سے زیادہ امیدواروں کے ’تیور‘ دیکھ کر ووٹ دیں گے کہ منشور تو 25 جولائی کے بعد داخل دفتر ہو جائے گا۔ امیدواروں اور ان کے جاں نثاروں نے ان کی

’’خدمت‘‘ کے لئے اس کے بعد بھی یہیں رہنا ہے۔ ہر حلقے سے ایک ہی امیدوار جیتے گا۔ باقی سب ہار جائیں گے۔ جو جیتے گا وہ پانچ سال تک نظر نہیں آئےگا۔ اپنے حلقے میں ہی نہیں اسمبلی میںبھی گیا تو بولے گا نہیں۔ البتہ تنخواہ ضرور وصول کرے گا کہ آخر عوام کی نمائندگی کے لئے اس نے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہے۔ کارکردگی تو دکھانی ہے۔ جو ہارے گا وہ ووٹ نہ ڈالنے والوں کی ’’مزاج پرسی‘‘ کے لئے ایک بار تو ضرور ان کے پاس آئے گا۔ عوام کے اکثرمحبوب لیڈر انتخابی مہم میں اپنا انتخابی ایجنڈا بتا کر لوگوں کا قیمتی وقت ضائع نہیں کریں گے۔ ساری توجہ مخالفین کو نیچا دکھانے پر دیں گے۔ ان پر ایسے ایسے الزامات لگائیں گے کہ سننے والے کو چھٹی کا دودھ یاد آجائے۔ اس سے بھی تسلی نہ ہو تو ایسی ایسی گالیاں دیں گے جو کسی لغت میں نہیں ملیں گی۔ الیکشن کمیشن کا انتخابی ضابطہ اخلاق دھرا کا دھرا رہ جائے گا اور عوام کا’’اخلاق‘‘ بلند کرنے کے لئے سب وشتم اور دشنام طرازی کے نئے ریکارڈ قائم کئے جائیں گے۔ جو پارٹیاں الیکشن ہار جائینگی وہ نگران حکومت، الیکشن کمیشن، پریزائیڈنگ افسروں، سیکورٹی فورسز اور نجانے کس کس پر دھاندلی کے الزامات لگا کر 1947سے چلی آنے والی ’’اسلاف‘‘ کی روایت کو تازہ کریں گی۔ جیتنے والے ہارنے والوں کے سینوں پر مونگ دلنے کے لئے اس طرح جشن منائینگے جیسے کشمیر فتح کرکے آئے ہوں یا ورلڈ کپ جیتا ہو۔ میرا نجومی کہتا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران سیاسی پارٹیاں ویسے تو ایک دوسرے پر بڑھ چڑھ کر کیچڑ اچھالیں گی مگر دوسروں کے الیکٹ ایبلز کے لئے اپنی محبت کی کھڑکیاں، دروازے، سب کھلے رکھیں گی، جو جہاں ملا سینے سےلگائیں گی اور اپنے ساتھ لے اڑیں گی یہ الیکٹ ایبلز جو ہوا کا رخ پہچاننے کا طویل تجربہ رکھتے ہیں، ہوا کے ساتھ چلنے میں ذرا سی بھی دیر نہیں لگائیںگے۔ یوں ہر طرف لوٹوں کی بہار آجائے گی۔ ان میں سے اکثر ہار جائیں گے اورا ن کی جگہ نئے الیکٹ ایبلز آجائیں گے۔ویسے تو شیر، تیر یا کوئی بھی جیت سکتا ہے مگر ہوا کا رخ بتاتا ہے کہ شیر یا تیر پیچھے رہ گیا تو بلا آگے نکل جائے گا اور جیپ پر سوار ہو کر وزیراعظم ہائوس پہنچ جائے گا جسے آگے چل کر اسکول کالج یا یونیورسٹی بنا دے گا اور اپنے لئے ’’نیا‘‘ وزیراعظم ہائوس بنوا لے گا۔ جو نئے پاکستان کی پہچان ہو گا۔ نجومی کا دعویٰ ہے کہ انتخابات میں جو ہارے گا وہ پچھتائے گا اور جو جیتے گا وہ بھی پچھتائے گا ہارنے والا اس لئے پچھتائے گا کہ اسے کچھ ’’کرنے‘‘ کا موقع نہیں مل سکا اور جیتنے والا اس لئے پچھتائے گا کہ موقع ملنے کے باوجود وہ کچھ کر نہیں سکے گا کیونکہ اسے خزانہ خالی ملے گا۔ صرف قرضے ملیں گے اور قرض خواہ۔
جو حکومت کررہے تھے انہیں دوبارہ اقتدار مل گیا تو وہ اپنا کام وہیں سے شروع کریں گے جہاں چھوڑا تھا اور وہی کچھ کریں گے جو کررہے تھے، جو حکومت سے باہر تھے انہیں حکومت مل گئی تو وہ بھی وہی کچھ کریں گے جو پچھلی حکومت کر رہی تھی۔ یعنی کچھ نہیں کریں گے عوام کو بہت کچھ کرنے کی طفل تسلیاں دیتے رہیں گے۔
اپنی ناکامیوں کا ملبہ پچھلی حکومت پر گراتے رہیں گے کہتے پھریں گے کہ سابق حکمرانوں نے ملک کو تباہ کر دیا ہے، خزانہ خالی ہے قوم کا بچہ بچہ سوا لاکھ روپے کا مقروض ہے روپے کی قیمت گر گئی ہے، مہنگائی کا طوفان آچکا ہے بے روزگاری عروج پر ہے۔ مسائل کا ایک دلدل ہے جس میں حکومت پھنس گئی ہے۔ برے حالات پر قابو پانے اور نیا پاکستان بنانے کے لئے ہمیں پانچ سال تو لگیں گے اس دوران قوم چندہ دے تاکہ پہلے تو ہم قرض اتاریں پھر ملک سنواریں چندے کے ساتھ وہ گیس بجلی اور دوسری لازمی سروسز کی قیمتیں بڑھائیں گے۔ ٹیکسوں میں اضافہ کریں گے عالمی مالیاتی اداروں سے ان کی من مانی شرائط پر مزید قرضے لیں گے۔ عوام کی نظروں سے مخالفین کو گرانے کے لئے مزید گالیاں دیں گے اس سے بھی کام نہ چلا تو سرکاری اختیارات کے استعمال سے ان کا ناطقہ بند کریں گے۔ کرپشن اور قانون شکنی کے مقدمات بنائیں گے، نیب اور عدالتوں کا کام بڑھائیں گے ہو سکتا ہے کہ اس ’’مصروفیت‘‘ کے باعث پانچ سال کی مدت بھی پوری نہ کر سکیں کیونکہ جس طرح انہوں نے دوسروں کو آرام سے حکومت نہیں کرنے دی نہ کام کرنے دیا اسی طرح دوسرے بھی انہیں آسانی سے کام کرنے دیں گے نہ حکومت۔ لیکن کر لی تو اس عزت کے ساتھ واپس نہیں جائیں گے جس کے ساتھ آئے تھے۔ سیاسی عدم استحکام میں مزید اضافہ ہو گا ایک نیا بحران جنم لے گا اور عوام کے مسائل جوں کے توں رہیں گے۔ پھر کوئی اور ’’نجات دہندہ‘‘ آئے گا اور نئے نعروں اور دعوئوں کے ساتھ لوگوں کو اپنے پیچھے لگا لے گا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں