• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:خالد پرویز…برمنگھم
(حصہ دوم)
8ذی الحجہ سے 12ذالحجہ کے دن حج کے ایام کہلاتے ہیں۔ یہی دن اس سارے سفر کا حاصل ہیں۔ 8ذی الحجہ کی صبح پہلے غسل کریں یا وضو کرکے احرام باندھ لیں اگر ہوسکے تو حرم شریف میں جاکر بیت اللہ کا طواف کریں اور طواف کی دو رکعت پڑھ کر احرام کی نیت سے دو رکعت نماز نفل پڑھیں اور حج کی نیت یوں کریں۔ترجمہ:ـ اے اللہ میں حج کی نیت کرتا ہوں اس کو میرے لئے آسان کردے اور مجھ سے قبول کرے اور اس میں میری مدد فرما اس میں میرے لئے برکت ڈال، نیت کی میں نے حج کی اور احرام باندھا اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لئے۔
اس کے بعد تین مرتبہ قدرے بلند آواز تلبیہ پڑھیں اور آہستہ آواز سے درودشریف پڑھیں اب آپ پر ایک بار پھر سے احرام کی پابندیاں لازم ہوگئیں۔ اب آپ اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے ذوق وشوق سے تلبیہ کثرت سے پڑھتے رہیئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کو آپ کے یہ کلمات بہت پسند ہیں۔ جتنی کثرت سے حاجی اس کو پڑھے گا اللہ کی رحمت اتنی اس کے قریب ہوگی۔ منیٰ روانگی کی تیاری ایک دن پہلے سے ہی کر رکھیں۔ غیر ضروری سامان ساتھ نہ لے جائیں۔ البتہ چھتری، چٹائی یا چادر، پانی کی بوتل، پھل یا کھانے کی دیگر اشیاء ساتھ رکھ لیں۔ معلم کے دیئے ہوئے شناختی کارڈ اور برسلیٹ سنبھال کر رکھیں اور ان کے بغیر کبھی اپنی جگہ سے باہر نہ نکلیں، حجاج کے بے پناہ ہجوم میں یا دوران سفر بچھڑ جانے کی صورت میں اگر شناختی کارڈ پاس نہ ہوا یا مکتب نمبر یاد نہ ہوا تو آپ کو مشکل اور دشواری پیش آسکتی ہے۔ اس طرح جب چھ اور سات ذی الحجہ کو دنیا کے کونے کونے سے حجاج اکرام حرم شریف میں پہنچتے ہیں تو 20سے 30لاکھ انسانوں کے اجتماع کی وجہ سے حرم میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ملتی۔ اگر نماز کیلئے نیچے جگہ نہ ملے تو آپ مسجد حرام کی دوسری منزل پر تشریف لے جائیں یا پھر چھت پر بھی تشریف لے جاسکتے ہیں۔ آٹھویں ذی الحجہ سے پہلے کوئی حاجی منیٰ نہ جائے اکثر معلم اپنی سہولت کی خاطر آٹھویں رات کو ہی ناواقف حاجیوں کو منیٰ بھیج دیتے ہیں جو سنت کے خلاف ہے۔ آٹھ ذی الحجہ کی صبح کو معلم کی طرف سے فراہم کردہ بسوں پر آپ منیٰ کو روانہ ہوں گے۔ مکہ مکرمہ سے منیٰ کا فاصلہ تقریباً ساڑھے پانچ کلو میٹر ہے۔ پیدل جانے والے تقریباً گھنٹہ ڈیڑھ میں منیٰ پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن بسوں میں ٹریفک جام کی وجہ سے تین سے زیادہ گھنٹے بھی لگ سکتے ہیں۔ منیٰ پہنچ کر آپ کو معلوم نے خیمہ میں یا جہاں بھی قیام کی جگہ کا انتظام کیا ہے۔ وہاں آپ آرام کریں یہاں کے مناسک حج میں آپ نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء تک چار اور نویں ذالحجہ کی صبح کی نماز منیٰ میں ادا کرنی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی پانچ نمازیں منیٰ میں ادا فرمائی تھیں۔ منیٰ کا قیام اور یہ دن اور راتیں عبادت کے دن اور راتیں ہیں۔ ان کا ہر لمحہ رب کریم کے دربار میں گریہ زاری میں بسر ہونا چاہیے۔ اپنے گناہوں پر پشیماں ہوں، استغفار پڑھتے رہیں اور درودشریف کی کثرت رکھیں۔ 9ذی الحجہ حج کا دوسرا دن ہے۔ صبح سورج نکلنے کے بعد یہاں سے عرفات کو چلنا ہوگا۔ بسوں پر سوار ہوتے وقت انتہائی صبر وضبط اور نظم ونسق کا خیال رکھنا چاہیے۔ بوڑھوں، کمزوروں، عورتوں اور بیماروں کا دھیان وخیال رکھیں۔ دھکم پیل اور کھینچا تانی کرکے دوسروں کو تکلیف دے کر آپ گناہ کے مرتکب ہوں گے۔ یوم عرفہ مغفرت کا دن ہے۔ عرفات کی طرف جاتے ہوئے تلبیہ پڑھتے جائیں اور خشوع وخصوع کے ساتھ دعائیں مانگتےجائیں۔ عرفات پہنچ کر اپنے خیمے میں ہی قیام کریں۔ وقوف عرفات کا وقت زوال آفتاب سے شروع ہوجاتا ہے۔ نماز سے فارغ ہوکر وقوف میں مصروف ہوجائیں۔ ممکن ہوسکے تو قبلہ رخ کھڑے ہوکر مغرب تک وقوف کریں اگر پورا وقت کھڑے رہنا مشکل ہو تو جتنی دیر کھڑے رہنے کی طاقت ہو کھڑے رہئے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی حجتہ الوداع کے موقع کے موقع پر میدان عرفات میں کھڑے ہوکر قبلہ رو ہوکر دعا کے لئے دونوں ہاتھ سینہ مبارک تک اٹھائے۔ غروب آفتاب تک دعا وذکر الٰہی میں مصروف رہے اور فرمایا کہ اس دن کی سب سے بہتر چیز دعا ہےخوب خشوع وخضوع اور عاجزی وزاری کے ساتھ دعا مانگنی چاہیئے کیونکہ یہ دعا کی قبولیت کا دن ہے۔ بندوں کی عاجزی پر اللہ فرشتوں سے فخر کرتا ہے اس دن شیطان سب سے زیادہ ذلیل ہوتا ہے۔ اس دن اللہ بندوں کو سب سے زیادہ جہنم کی آگ سے نجات دیتا ہے۔ ہر حاجی کو چاہیے کہ اس دن اس متبرک جگہ میں خوب گڑ گڑا کر دعائیں مانگے۔ گریہ وزاری کے ساتھ استغفار کرے، عرفات کے یہ چند گھنٹے سارے حج کا نچوڑ ہیں۔ ان کو ضائع نہ کیجئے۔ خوب دل لگا کر تلاوت قرآن پاک،ذکر الٰہی، توبہ استغفار اور تکبیر وتہلیل میں مشغول رہیں۔ درودشریف کثرت سے پڑھیں۔ تلبیہ بار بار کہیں۔ یقین کامل کو اپنے دل میں پیدا کرکے پہلے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیے اور مغفرت بے حساب کی دعا کریں۔ دنیا اور آخرت کی اپنی سب ضرورتیں مانگیئے۔ خوب پھوٹ پھوٹ کر رویئے اپنے ماں باپ اور عزیز واقارب کیلئے بھی دعا کیجئے کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے۔حاجی بخشا جاتا ہے اور جس کیلئے حاجی دعا مانگے وہ بھی بخشا جاتا ہے۔ جب سورج غروب ہوجائے تو عرفات سے مزدلفہ روانگی ہوگی مزدلفہ منیٰ اور عرفات کے درمیان ایک میدان ہے۔ جو منیٰ سے تین میل اور عرفات سے بھی تین میل کے فاصلے پر ہے۔ آپ ایک بار پھر اپنے معلم کی بسوں پر بیٹھ کر مزدلفہ کو روانہ ہوں گے۔ چونکہ اس وقت انسانوں ، بسوں، گاڑیوں کا ایک سمندر مزدلفہ کی طرف رواں دواں ہوتا ہے۔ اس لئے تین میل کا فاصلہ بھی کافی وقت لے لیتا ہے۔ اس کے باوجود راستے میں آپ مغرب کی نماز پڑھیں۔ آج زندگی میں پہلی بار مغرب کی نماز اس وقت ادا نہ کرنے کا حکم ہے۔ جب عشاء کا وقت ہوجائے تو مغرب اور عشاء دونوں نمازیں ایک ہی وقت میں ایک ہی اذان اور ایک اقامت کے ساتھ اس طرح پڑھیں کہ پہلے مغرب کے فرض اور پھر عشاء کے فرض سنتیں اور وتر بعد میں پڑھیں یہ نماز آپ اکیلے بھی پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن جماعت سے پڑھنا افضل ہے۔ یہ رات آپ نے اس میدان میں گزارنی ہے اس لئے مناسب جگہ دیکھ کر اپنی چادر یا چٹائی بچھالیں۔ مزدلفہ میں وضو اور استنجے کے لئے غسل خانے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بنے ہوئے ہیں۔ چونکہ حجاج کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے اس لئے ہوسکتا ہے کہ آپ کو اپنی باری کے لئے لمبی قطار میں انتظار کرنا پڑھے۔ بہر حال یہ رحمت اور بخشش کی رات ہے۔ خوب جی بھر کر دعائیں مانگیں۔ رات کے دوران اس میدان سے ستر کنکریاں پاک وصاف اٹھا کر کسی لفافے میں رکھ لیں کنکریاں چنے اور لوبیہ کے دانے کے برابر ہوں یا پھر کھجور کی گٹھلی کے برابر اس سے بڑی نہ ہوں۔ بڑے پتھر کو توڑ کر چھوٹی کنکریاں بنانا مکروہ ہے سات کنکریاں دس ذی الحجہ کو بڑے شیطان کو مارنی ہیں اور باقی گیارہوں سے تیرہویں تک روزانہ 21 کنکریاں مارنی ہوں گی۔ فجر کی نماز پڑھنے کے بعد تھوڑی دیر وقوف کریں تکبیر وتہلیل پڑھیں۔ درود شریف پڑھیں اور دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر اللہ سے اپنی حاجتوں کے لئے دعا کریں مزدلفہ میں وقوف کا وقت فجر کے طلوع ہونے سے خوب روشنی ہوجاتے تک ہے۔ بسیں ایک بار پھر آپ کو مزدلفہ سے لیکر منیٰ کی طرف روانہ ہوں گی۔ اگرچہ یہ تین میل کا سفر ہے لیکن ٹریفک کے بے پناہ ہجوم کی وجہ سے اس سفر میں تین سے چار گھنٹے بھی لگ سکتے ہیں۔ اگر آپ تندرست وصحت مند ہیں تو بہتر ہوگا کہ بجائے بس پر بیٹھنے کے آپ پیدل منیٰ جائیں۔ منیٰ پہنچ کر سیدھے حجرہ عقبہ( بڑے شیطان) کے پاس جائیں اور رمی کریں یعنی سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری مارتے وقت بسم اللہ، اللہ اکبر کہتے جائیں اور اس وقت لبیک کہنا بند کردیں۔ دس تاریخ کو صرف حجرہ عقبہ کی رمی ہوتی ہے رمی کرنا واجب ہے اس کے چھوڑنے سے دم واجب ہوتا ہے۔ مسنون وقت دسویں تاریخ کی رمی کا سورج نکلنے سے زوال تک ہے۔ زوال سے غروب تک مباح اور غروب کے بعد مکروہ ہے۔ البتہ عورتیں، مریض اور کمزور لوگ اگر دسویں کی صبح سویرے بھی رش اور ہجوم سے بچنے کی خاطر رمی کرلیں تو ان کے لئے جائز ہے کمزور عورتیں اور بیمار شخص کسی دوسرے کو بھی اپنا وکیل بناسکتےہیں۔ جو ان کی طرف سے کنکریاں مارسکتا ہے۔ کنکریاں مارتے ہوئے اگر کسی نے ساتوں کنکریاں اکٹھی ہی پھینک دیں تو وہ ایک کنکری پھینکنے میں شمار ہوں گی۔ اور آپ پر واجب ہوگا کہ چھ کنکریاں اور جدا جدا کرکے پھینکیں۔ مناسک حج کی ادائیگی میں کنکریاں مارنے کا یہ مرحلہ کٹھن اور مشکل ہوتا ہےلاکھوں انسانوں کے ہجوم میں اپنے ہوش وحواس قائم رکھنے اور صبر وتحمل سے کام لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسانوں کے اس زبردست ریلے میں جس قدر ہوسکے اپنے آپ کو گرنے سے بچائیں کوئی چیز اٹھانے کے لئے نیچے ہر گز نہ جھکیں وگرنہ کچل جانے کا ڈر ہے۔ رمی کو جاتےہوئے رشتہ دار ، دوست واحباب رش وہجوم میں اکثر ایک دوسرے سے بچھڑ جاتے ہیں اس لئے بہتر ہوگا کہ کسی مناسب جگہ کو میٹنگ پوائنٹ بنالیں۔ بچھڑنے کی صورت سبھی وہاں آکر انتظار کریں۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو خصوصا بزرگوں، کمزوروں، عورتوں کو دشواری اور مشکل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اور ہر ایک کو اپنے معلم اور کیمپ نمبر کا بھی علم ہونا چاہئے۔ رمی سے فارغ ہوکر قربانی دینی ہوتی ہے۔ قربانی کے بعد سر منڈوائیں یا بال کٹوائیں۔ لیکن سر منڈوانا افضل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے سر منڈوانے والوں کے تین بار اور بال کٹوانے والوں کے لئے ایک مغفرت کی دعا کی ہے۔عورتیں اپنی چوٹی کا سرا دو تین انگلی کے برابر کٹوادیں۔ بال کٹوانے کے بعد احرام کھول دیں اور روز مرہ کا لباس پہن لیں۔ پھر طواف زیارت کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے جائیں۔ طواف زیارت حج کا ایک رکن ہے۔ اس کے بغیر حج پورانہیں ہوتا۔طواف زیارت کے مکمل ہوتے ہی آپ مکمل طورپر احرام کی پابندیوں سے فارغ ہوگئے۔ اسکے بعد پھر مکہ مکرمہ سے منیٰ واپس آجائیں۔ اب دو رات اور دو دن منیٰ میں مزید قیام کرنا ہے۔ گیارہ ، بارہ ، تیرہ ذی الحجہ کو ’’ایام رمی‘‘ بھی کہتے ہیں۔ یعنی ان دنوں میں کرنے کے لئے ہی منیٰ میں قیام کرنا ہے۔ رمی کرنا واجب ہے اور منیٰ سے باہر رات گزارنا منع ہے۔ گیارہ ذی الحجہ کو تین جمروں کی رمی کرنا ہے ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد رمی کے لئے جائیں۔ آج رمی کا وقت زوال آفتاب سے شروع ہوکر غروب آفتاب تک ہے۔ اس کے بعد مکروہ ہے۔ بارہ ذالحجہ کو بھی تینوں جمرات (شیطانوں) کی زوال کے بعد رمی کرنا ہے۔ بارہویں کی رمی کے بعد عموماً حاجی مکہ مکرمہ روانہ ہوجاتے ہیں۔ لیکن آپ کو اختیار ہے تیرہ کی رمی کیلئے رک سکتے ہیں۔بارہویں کو مکہ مکرمہ روانہ ہونے والوں کے لئے لازمی ہے کہ وہ سورج غروب ہونے سے پہلے منیٰ سے نکل جائیں۔ وگرنہ اگلے روز کی رمی کے لئے رکنا پڑے گا۔ رمی سے فارغ ہوکر مکہ مکرمہ لوٹنے پر آپ کے حج کے تمام ارکان پورے ہوگئے۔ صرف طواف وداع رہ گیا ہے۔ حج آپ کو مبارک ہو اس رب کریم کا شکر ادا کیجئے۔ جس نے اتنی بڑی نعمت اور سعادت سے آپ کو نوازاہے۔
تازہ ترین