• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

احتساب عدالت،شہباز شریف کیخلاف آمدن سے زائد اثاثوں کا مقدمہ بھی بن گیا،جیل میں تفتیش کی اجازت

لاہور (نمائندہ جنگ، اے پی پی ) احتساب عدالت نے شہباز شریف کیخلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات کیلئے نیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے جیل میں تفتیش کی اجازت دیدی۔جبکہ پیراگون سوسائٹی کیس میں گرفتار خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 14 روز ہ توسیع کردی۔ خواجہ سعد رفیق نے پیشی کے بعد میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ احتساب کے نام پر انتقام زیادہ دیر نہیں چلے گا، پاکستان نالائقوں کے حوالے کرنیوالے پچھتا رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس کی تحقیقات کیلئے نیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے جیل میں تفتیش کی اجازت دے دی۔ نیب نے شہباز شریف سے جیل میں تفتیش کیلئے درخواست دی تھی جس میں موقف اپنایا گیا کہ شہباز شریف کے اثاثے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے اور اسی معاملے پر شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کیخلاف تحقیقات جاری ہیں۔ نیب نے دعویٰ کیا کہ شہباز شریف کے اثاثوں کی تفصیلات حاصل کر لی ہیں، موصول ریکارڈ میں 1997ء سے 2004ء تک کے تمام اکائونٹس کی تفصیلات شامل ہیں جبکہ نیب کو 2007ء سے 2018ء تک کے اکائونٹس اور جائیداد کا ریکارڈ بھی مل چکا ہے۔ریکارڈ میں شہباز شریف کی ظاہر کردہ جائیداد، اکائونٹس اور زیر استعمال گاڑیوں کی تفصیلات شامل ہیں۔ شہباز شریف کیخلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی انکوائری 28اکتوبر 2018ء سے چل رہی ہے۔احتساب عدالت کے جج نجم الحسن نے نیب کی درخواست منطور کرتے ہوئے جیل میں تفتیش کی اجازت دی۔ دوسری جانب احتساب عدالت نے پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماء خواجہ سعد رفیق اور انکے بھائی سلمان رفیق کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کردی اورملزمان کو دوبارہ 19جنوری کو پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ لاہور کی احتساب عدالت کے جج نجم الحسن نے خواجہ برادران کے خلاف کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں نیب نے خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کو سخت سکیورٹی میں عدالت میں پیش کیا۔دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ پیراگون کا ریکارڈ حاصل کیا جس سے 2ارب سے زائد کی رقوم منتقل ہوئیں، غفران اور کبیر نامی 2افراد کو اربوں روپے منتقل ہوئے اور غفران خواجہ سلمان رفیق کے بیٹے جبکہ کبیر ندیم ضیا کا بیٹا ہے۔نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ خواجہ سعد رفیق کے بینک اکاؤنٹ سے متعلق سوال وجواب ہوئے، جن گھروں کی تفصیلات دیں گئیں ان سے متعلق تفتیش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ خواجہ برادران کی جانب سے کہا گیا کہ 20کنال پر مشتمل پلاٹس پیراگون سے ملے اور خواجہ برادان کے پلاٹس کے درمیان سے نالہ گزرنا تھا۔اس موقع پر کمرہ عدالت میں پیراگون سٹی کا نقشہ بھی پیش کیا گیا، نقشے میں خواجہ برادران کی ملکیت میں موجود زمین عدالت کو دکھائی گئی۔نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ پیراگون کے 12سے 13اکاؤنٹس سے متعلق تفتیش جاری ہے، غفران خواجہ سلمان رفیق کا بیٹا ہے اس سے بھی تفتیش درکار ہے، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ غفران کا بینک اکاؤنٹ ہے؟نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ غفران اس وقت کم عمر تھا جب پیسے منتقل ہوئے۔جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ جب اس کا اکاونٹ ہی نہیں تو پیسے کیسے منتقل ہوئے؟نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ پیراگون سے جو ریکارڈ حاصل ہوا اس سے یہ معلومات ملیں، پیراگون سٹی کے اکاؤنٹس سے مشکوک ٹرانزیکشنز کی گئیں، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کو کسی نے کہا کہ مشکوک ٹرانزیکشن ہو رہی ہیں؟نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے 3 مرتبہ بتایا گیا کہ مشکوک ٹرانزیکشنز ہورہی ہیں جبکہ ایم ایس ایگزٹیو بلڈرز سے متعلق بھی تفتیش جاری ہیں جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ آپ یہ بتائیں کہ کتنے لوگوں کو نوٹس کر چکے ہیں؟نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ اب تک 30 سے زائد افراد کو نوٹسز کیے ہیں جن سے تفتیش کرنی ہے۔خواجہ برادران کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آج جتنی باتیں کی گئی ہیں سب پرانی ہیں، شام لاٹ کی زمین سے کوئی تعلق نہیں ہے، کہتے ہیں پیراگون سے زمین لی ہے تو کراس چیک کے ذریعے تبدیل کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے موکل کا تمام ڈیٹا نیب کے پاس موجود ہے، ہم کلیئر ہیں، مزید ریمانڈ کی ضرورت نہیں۔جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ آج غفران اور کبیر والی نئی بات سامنے آئی ہے جس میں اکاؤنٹس سامنے آئے ہیں ۔نیب پراسیکیوٹر نے خواجہ برادران کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کی جس پر ملزمان کے وکلا نے مخالفت کی تاہم عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا جو کچھ دیر بعد سنایا گیا۔عدالت نے دونوں بھائیوں کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا منظور کرتے ہوئے انہیں مزید 14روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔ احتساب عدالت نے خواجہ برادران کو 19جنوری کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔احتساب عدالت میں خواجہ برادران کی پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف تمام راستے کنٹینر لگا کر بند کر دیئے گئے اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ۔ عدالت میں پیشی کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پاکستان نالائقوں کے حوالے کردیا گیا ہے اور ان کو حکمران بنانے والے خود پچھتا رہے ہیں۔انہوںنے کہا کہ ملک میں انصاف اور احتساب کے نام پر انتقام ہورہا ہے جو زیادہ دیر نہیں چلے گا۔ یہ وقت بدلے اور بہت جلد بدلے گا۔خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ منی بجٹ آرہا ہے جو مہنگائی کا طوفان لا رہا ہے۔

تازہ ترین