آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر21؍رمضان المبارک 1440ھ27؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خواتین کے عالمی دن پر جہاں سارے ملک میں تقریبات کا سلسلہ جاری تھا وہاں ایک تقریب کا د عوت نامہ ہمیں بھی موصول ہو گیا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نگہت صدیقی جو ایک نہایت محنتی اورذمہ دار آفیسر ہیں ان کا فرمانا تھا کہ اس موقع پر ایک سیمینار الیکشن کمیشن میں ہونا قرار پایا ہے اور اس میں آپ کی شمولیت لازم ہے۔ سیمینار کے موقع پر الیکشن کمیشن کا ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ صحافی، سول سوسائٹی کے نمائندے ، خواجہ سرائوں کی تنظیموں کے سرگرم ارکان، معذور افراد کی تنظیمیں، ڈی اے آئی تعبیرکی انتظامیہ ، معروف صحافی ،نادرا کے نمائندے، غیر ملکی مندوب ، خواتین کے حقوق کی جنگ لڑنے والی پرعزم خواتین وہاںموجود تھیں۔ سیمینار کی صدارت چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا خان نے کی، سیکرٹری الیکشن کمیشن اور الیکشن کمیشن کے معزز ممبران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ نیشنل کمیشن آن اسٹیٹس آف وویمن کی سیکرٹری ثمینہ حسن نے ایک پریزینٹیشن میں اپنے مطالبات پیش کئے ۔ اپنی گفتگو میں انہوں نے ان تجاویز کا بھی ذکر کیا جن کی مدد سے خواتین کی الیکشن کے عمل میں شرکت کو بہتر اور فعال بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی نصف آبادی الیکشن کے حقوق کے حوالے سے جن مشکلات سے دوچار ہے اس کے حوالے سے یہ سیمینار خصوصی حیثیت کا

حامل تھا۔ بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں خواتین کے ووٹ ڈالنے پر ابھی بھی قدغنیں ہیں۔ کہیں شناختی کارڈ کی رسائی ممکن نہیں۔ کہیں خواتین کے لئے پولنگ کی سہولت ہی میسر نہیں۔ کہیں مرد آبادی فیصلہ کر بیٹھتی ہے کہ خواتین ووٹ نہیں ڈالیں گی۔ کہیں خواتین امیدوار کو انتخابی مہم چلانے کی سہولت میسر نہیں۔ کہیں خوف ہے کہیں ہراس ہے۔ کہیں سیاسی جماعتوں کی بے اعتنائی ہے، کہیں سسٹم ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ کہیں دیگر عوامل الیکشن کے عمل میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ اس طرح ملک کی نصف آبادی الیکشن کے عمل میں اس طرح شریک ہونے سے قاصر رہتی ہے جس طرح کی شرکت کاجمہوری معاشرہ تقاضا کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خواجہ سرائوں کے لئے علیحدہ پولنگ بوتھ نہیں ہیں۔ انکے لئے الیکشن میں کھڑا ہونا بھی اتنا سہل نہیں ہے۔ تضحیک اور تمسخر کی روایتوں سے کس طرح جان چھڑا کر ان کو معاشرے میں باعزت مقام دیا جائے۔ ان کے جمہوری حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ اس حوالے سے معذور افراد کی صورت حال بہت مخدوش ہے۔ انکے درست اعداد و شمار ہی موجود نہیں ہیں۔ بے شمار ایسے ہیں جن کو شناختی کارڈ میسر نہیں ہے۔ کچھ ایسے ہیں جن کے پاس وہیل چیئر کے نشان والا نیا شناختی کارڈ ہی نہیں۔ بہت سارے لوگوں کو پولنگ اسٹیشن تک رسائی کی سہولت میسر نہیں ہے۔ سیمینار میں معذور افراد کے لئے پوسٹل بیلٹ کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ اس سے صورت حال میں بہتری ممکن ہے۔ لیکن اگر پوسٹل بیلٹ پر اتفاق رائے نہ ہوسکا تو۔ الیکشن کمیشن کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ انکے ووٹ کے حصول کو کس طرح یقینی بنایا جائے۔ معذور افراد کو پولنگ اسٹیشن تک لے جانے کے لئے کیا ٹرانسپورٹ موجود ہے؟کیا نابینا افراد کے لئے بریل میں بیلٹ پیپر شائع کئےگئے ہیں؟ کتنے معذور افراد کے شناختی کارڈ بنے ہیں اور کتنے لوگ اس دور میں بھی اس سہولت سے محروم ہیں؟ کیا معذور افراد کے ساتھ کسی مددگار کو پولنگ بوتھ میں جانے کی اجازت ہو گی؟ کیا پولنگ کا عملہ معذور افراد کی مدد کرنے کو تیار ہو گا؟ کیا اس سلسلے میں پولنگ کے عملے کو کسی بھی قسم کی ٹریننگ دی گئی ؟کیا تمام پولنگ بوتھ میں وہیل چیئر پہنچنے کا انتظام کیا گیا ہے؟ کیا قوت سماعت و گویائی سے محروم افراد کے لئے ووٹ ڈالنے کا طریقہ سائن لینگویج میں دستیاب ہے؟ ذہنی معذور افراد کے لئے الیکشن کمیشن کا کیا حکم ہے؟ کیا سیکورٹی اسٹاف کو یہ پتہ ہے کہ نابینا افراد کی سفید چھڑی ہتھیار کے زمرے میں نہیں آتی؟ کیا کسی چینل پر قوت سماعت و گویائی سے محروم افراد کے لئے اشاروں کی زبان میں نتائج بتانے کا انتظام کیا گیا ہے؟ سیمینار میں چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا خان نے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ الیکشن کمیشن تمام خواتین اور پسماندہ گروپس کو الیکشن کے عمل میں شریک کرنے کے لئے سر گرم عمل ہے اور خواتین ووٹرز کی تعداد میں اضافے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ سچی بات تو یہ کہ الیکشن کمیشن سے ہمارا پرانا ناطہ ہے۔ ہر دفعہ الیکشن سے پہلے بہت بلند و بانگ دعوے کئے جاتے ہیں۔ خواتین کے حقوق کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔ معاشرے کے پسماندہ طبقوں کو جمہوری دھارے میں لانے کا عزم کیا جاتا ہے۔ معذور افراد کے ووٹ کاسٹ کروانے کے لئےتشویش کا اظہار کیا جاتا ہے مگر نتیجہ عموماََ صفر رہتا ہے۔جو چیز اس دفعہ منفرد ہے وہ یہ ہے کہ اس دفعہ اس بات پر نہ صرف تحقیق کی جارہی ہے بلکہ ان طبقات سے مشورہ بھی لیا جا رہاہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے جس عزم کا اظہار کیا ہے اور جس دلچسپی سے اس تمام گفتگو کو سنا ہے اس سے خوش آئند کل کی امید رکھنی چاہئے۔ توقع رکھنی چاہئے کہ اب جب الیکشن ہوں گے تو خواتین کو انکے جمہوری حق سے روکنے میں بیشتر رکاوٹیں ختم ہو چکی ہو نگیں۔ معاشرے کے پسماندہ طبقوں کو ان کاجمہوری حق ملے گا۔ معذور افرد کے ووٹ ڈالنے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہو گی۔ خواجہ سرائوں کے اس جمہوری حق کا تمسخر نہیں اڑایا جائے گا۔ ہر الیکشن میں بہت سے پاکستانی بے پناہ رکاوٹوں کی وجہ سے اس جمہوری حق سے محروم رہتے ہیں۔ ان محروموں میں زیادہ تر تعداد خواتین کی ہوتی ہے۔ ان کے ووٹ کو یقینی بنانا الیکشن کمیشن کا فرض ہے۔ جو گفتگو اس سیمینار میں ہوئی ، جو تجاویز سامنے آئیں، جن طبقات کو اس سیمینار میں بہت احترام سے نمائندگی ملی اگر اسی طرح ان کی نمائندگی انتخابات کے موقع پر ہوئی تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا جمہوری مستقبل بہت روشن ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں