آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار17؍ ربیع الثانی 1441ھ 15؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

امریکا میں فروغ اردو اور تہذیب و ثقافت کی نمائندہ تنظیم النور انٹرنیشنل (ڈیلس) کی جانب سے گزشتہ دنوں عالمی مشاعرے کا انعقاد ہوا ۔یہ مشاعرہ فن ایشیا کے خوبصورت ہال میں منعقد ہوا، جہاں دنیائے اردو سے تعلق رکھنے والے عالمی شعراء کے ساتھ ڈیلس کے میزبان شعراء نے بھی اپنا کلام سنایا ۔النور انٹرنیشنل نے اس تقریب کو ’’جشن ِ شعرائے ڈیلس‘‘ کے نام سے منسوب کیا۔ شعراء میں (بھارت سے ) لتا حیا (پاکستان سے) عباس تابش، رحمٰن فارس، شکیل جاذب (نیویارک سے ) خالدعرفان ، پروفیسر حماد خان (ہیوسٹن سے) عقیل اشرف نے اپنا کلام سنایا ۔

مشاعرے میں ترنم اور تحت اللفظ میں جذباتی ، رومانی، سماجی اور طنزو مزاح سے بھرپور شاعری سے سامعین نے لطف اٹھا یا ۔مشاعرے کی صدارت دنیائے اردو کی معروف شخصیت ، شاعر، ادیب، اقبال حیدر نے کی ۔ جب کہ امریکا میں مقیم معروف کمیونٹی رہنما اظہر عزیز مہمان خصوصی تھے ۔معروف شاعرہ اور ایک کتاب کی مصنفہ ڈاکٹر شمسہ قریشی نے اس مشاعرے کے انعقاد کے سلسلے میں بھرپور تعاون کیااور اسٹیج پر موجود رہ کر تمام مہمانوں کا استقبال کیا ۔ڈیلس میں مقیم ریڈیو ، ٹی وی کی دل کش شخصیت شازیہ خان نے دل آویز انداز میں مشاعرے کو آگے بڑھایا۔

جب کہ دوسرے دور میں مشاعرے کی میزبانی ڈاکٹر نور امروہوی نے کی۔ النور انٹرنیشنل (ڈیلس) کے زیراہتمام ہونے والے مشاعرے اس اعتبار سے بھی منفرد ہوتے ہیں کہ ان کے انتظام میں حاضرین کی دلچسپی کا خاص طور سے خیال رکھاجاتا ہے ۔ اس سال بھی ایک’’ لکڑی کی توپ‘‘ کے ذریعے شاعروں اور مہمانوں پر گل پاشی کی گئی ، یہ منظراتنا دل فریب تھا کہ سامعین کے ساتھ شعرائے کرام بھی محظوظ ہوتے رہے ۔

اس کے ساتھ ہی میزبان اور مہمان شعرائے کرام کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے ہر شاعر کو ان کی تصویر، دیدہ زیب فریم اور ان کے ایک شعر کی مصوری کے ساتھ پیش کی گئی ۔ڈیلس کے میزبان شعراء میں آصف نتھانی ، اعجاز شیخ، پرومود راجپوت، فرحان سید ، ناہید شاد، زہرہ چشتی ، ڈاکٹر شمسہ قریشی، ڈاکٹر عامر سلیمان، سعید قریشی، مسعود قاضی ، یونس اعجازاور صدر مشاعرہ اقبال حیدر کے ساتھ میزبان مشاعرہ ڈاکٹرنور امروہوی نے بھی اپنا کلام سنایا۔

رات آٹھ بجے شروع ہونے والا یہ مشاعرہ رات دو بجے ختم ہوا ۔بعدازاں مہمانوں کی تواضع پر تکلف ضیافت سے کی گئی ۔یہ مشاعرہ اپنی کامیابی، انفرادیت اور ثقافتی اقدار کے حوالے سے مدتوں یاد رکھا جائے گا جس میں امریکا میں انگریزی تعلیم پانے والے بچوں نے بھی اردو میں اظہارِ خیال کیا ۔

آخر میں حاضرین نے مشاعرے کے آرگنائزر ڈاکٹر نور امروہوی، ڈاکٹرشمسہ قریشی ، شوکت محمد اور عرفان علی کو مبارک باد پیش کی ، جن کی شبانہ روز محنت سے مشاعروں اور ثقافتی پروگراموں کے ذریعہ امریکا میں اردو کا چراغ روشن ہے ۔ 

بلادی سے مزید