آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 21؍ ذوالحجہ 1440ھ23؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تمام والدین کی خواہش ہوتی ہےکہ ان کے بچے بڑے ہوکر بہترین انسان بنیں۔ لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ یہ ایک انتہائی محنت طلب عمل ہے، جو والدین سے ان کا وقت، توانائی اور کئی چیزوں کی قربانی مانگتا ہے۔ بچوں کی اچھی پرورش کرنا اور انھیں ایک ذمہ دار شہری بنانا جوئے شیرلانے کے مترادف ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ والدین چھوٹی عمر سے ہی بچوں کو ان اقدار سے روشناس کرائیں، جنھیں وہ اپنے بچوں میں دیکھنا چاہتے ہیں۔اس سلسلے میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ آپ بچوں میں مثبت خصوصیات اور ذاتی و معاشرتی اقدار اُبھارنےکیلئے کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں۔

بہتر انسان بننے کی ترغیب

یہ بہت اہم ہے کہ آپ بچوں کو بتائیں کہ انھیں خود کو بہتر انسان بنانے کی جستجو ہروقت جاری رکھنی ہے۔ آپ بچوں کو ان کی اچھائیاں بتائیں اور شخصیت کے مثبت پہلو تلاش کرنے اور انھیں مزید تراشنے میں ان کی مدد کریں۔ آپ بچوں سے پوچھیں کہ انھیں اپنی کون سی بات پسند ہے؟ اس سوال کے جواب میں آپ یہ دیکھیں کہ بچوں کا جواب ظاہری دِکھاوے سے بڑھ کر اپنی شخصیت کا عکاس ہونا چاہیے۔ والدین کو بچوں کے ساتھ یہ بات بھی کرنی چاہیے کہ وہ خود کو کن شعبوں میں مزید بہتر دیکھنے کے خواہاں ہیں۔ کیا وہ مزید بہتر ہاکی کے کھلاڑی بننا چاہتے ہیں یا پھر وہ اپنے اسکول کے ان بچوں کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنے کے خواہاں ہیں جو انھیں بات بات پر تنگ کرتے ہیں۔ ان کے جوابات جاننے کے بعد، آپ انھیں بتائیں کہ وہ ایسا کس طرح کرسکتے ہیں۔

اپنے بچوں کے ساتھ باضابطہ گفتگو کے سیشن رکھیں، جس میں آپ انھیں یہ بتائیں کہ ہر کسی کی شخصیت کے کچھ مضبوط اور کچھ کمزور پہلو ہوتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنے لیے ترجیحات کا تعین کرتے ہوئے اپنی کمزوریوں پر قابو پائیں کیونکہ بہرحال ہر شخص ہر کام میں بہترین نہیں ہوسکتا۔

تعریف کا مختلف انداز

اکثر والدین یہ سوچتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے لیے ’’تم کیا غضب کے خوبصورت بچے ہو‘‘ جیسے تعریفی جملے ادا کرکے ان کی شخصیت کو پروان چڑھاتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ باتیں جو آپ کے بچوں کے بس میں نہیں ہیں، ان پر بچوں کی تعریف کرنے کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا۔ اس کے بجائے آپ ان کے لیے ’’ناشتے کے بعد برش کرکے آپ اچھا کام کرتے ہیں‘‘ یا ’’مجھے یہ بہت اچھا لگا کہ آج آپ نے میرے کہنے سے پہلے ہی اپنے بالوں کو کنگھاکرلیا، زبردست‘‘ جیسے تعریفی جملے ادا کریں۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ آپ کو نتائج کی بنیاد پر بچوں کی تعریف نہیں کرنی چاہیے مثلاً:’’مجھے فخر ہے کہ آپ نے اسپیلنگ ٹیسٹ میں 100نمبر لیے ہیں‘‘۔ اس طرح آپ کا بچہ یہ سوچے گا کہ کسی بھی طریقے سے زیادہ نمبرز لینا ہی اہم ہے۔ ایسی تعریف کے منفی نتائج سامنے آسکتے ہیں، جیسے آپ کا بچہ اچھے نمبرز لینے کیلئے ’نقل‘ کا سوچ سکتا ہے۔ نتائج کے بجائے آپ اپنے بچوں کی کوششوں کی تعریف کریں مثلاً:’’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کی زبردست محنت رنگ لے آئی ہے۔ محنت جاری رکھیں‘‘۔

جب آپ اپنے بچوں کی پسند پر ان کی تعریف کریں گے تو وہ ان چیزوں پر توجہ رکھیں گے جو کرنا ان کے بس میں ہے، جیسے بہتر نتائج کیلئے محنت اور کوشش کرنا اور اپنے رویے کو مثبت رکھنا۔

مل کر اہداف مقرر کریں

بچوں کیلئے ایک صحت مند سرگرمی یہ ہے کہ وہ مسلسل نئے اہداف مقرر کرتے رہیں۔ یہ اہداف کچھ اس طرح ہوسکتے ہیں:’’میں تیراکی سیکھنا چاہتا ہوں‘‘، ’’میں اسکول میں دو نئے دوست بنانا چاہتا ہوں‘‘۔ آپ اپنے بچوں کی صحت مندانہ اہداف تلاش کرنے میں مدد کریں۔ اہداف چیلنجنگ لیکن قابلِ حصول ہونے چاہئیں۔ اگر آپ کا کوئی بچہ اپنے لیے سخت اہداف مقرر کررہا ہے تو دراصل وہ ناکامی کو دعوت دے رہا ہے۔ لیکن بہت آسان اہداف بھی نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ آسان اہداف سے بچوں کی شخصیت میں کوئی بہتری نہیں آئے گی۔ آپ حقیقت پسندانہ اہداف مقرر کرنے میں ان کی رہنمائی کرسکتے ہیں اور مشورے دے سکتے ہیں۔

کارکردگی پر بات کریں

اہم یہ نہیں ہے کہ آپ کا بچہ کسی ایونٹ میں کامیاب ہو بلکہ وہ اس ایونٹ سے جو سیکھتا ہے، وہ زیادہ اہم ہے۔ آپ اپنے بچوں کے ساتھ روزانہ کے تجربات پر بات کریں اور اسکو ل میں کارکردگی سے لے کر کھیل کے میدان میں کسی دوست سے گفتگو تک، آپ ان کے روزانہ کے ہر واقعے کو زندگی کا سبق بنا دیں۔ اگر آپ کے بچے نے آج اسکول میں فٹبال کھیلی ہے تو اس سے پوچھیں کہ اس نے کہاں اچھی کارکردگی دِکھائی اور کس شعبے میں اسے مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح وہ آپ کے ساتھ نہ صرف اپنی کامیابی کا جشن منائے گا بلکہ ان چیزوں پر بھی نظر رکھے گا، جن میں اسے مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

اپنے مسائل خود حل کرنے کی عادت ڈالیں

والدین چاہتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے مسائل حل کریں لیکن تھوڑی سی پریشانی یا مشکل کے آثار نظر آتے ہی بچوں کی مدد کو پہنچ جانا ان کی خدمت نہیں ہے۔ اگر آپ کا بچہ کہتا ہے کہ اسے ملنے والا سائنس کا ہوم ورک بہت مشکل ہے یا اسے یہ تشویش لاحق ہے کہ وہ اپنا کام وقت پر مکمل نہیں کرپائے گا، تو ایسے میں اس سے پوچھیں کہ ’’آپ اس سلسلے میں کیا کرنا چاہتے ہیں؟‘‘ اس سوال کے ذریعے آپ دراصل اسے یہ احساس دِلائیں گے کہ اس کے پاس مسئلے کو حل کرنے کیلئے بہت ساری چوائسز دستیاب ہیں۔ جو بچے اپنے مسائل خود حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ خود کو بااختیار محسوس کرتے ہیں اور سامنے آنے والا ہر مسئلہ خود میں بہتری لانے کا موقع ثابت ہوتا ہے۔

تعلیم سے مزید