• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنگ ستمبر 1965ء: دشمن کا قبضہ میں لیا گیا سازوسامان

’’1965ء کی جنگ میں پاکستان کے ہاتھوں بھارت کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا تھا یہاں تک کہ پاکستان نے صرف دو دن میں بھارت کے 35 طیارے تباہ کردیئے تھے‘‘۔ یہ الفاظ کسی محب وطن پاکستانی یا پھر کسی ریٹائرڈ پاکستانی فوجی افسر کے نہیں ہیں بلکہ بھارتی فوج میں اعلیٰ ترین عہدے سے ریٹائر ہونے والے ائیرمارشل بھرت کمار کے ہیں، جو کہ ان کی کتاب ’’دی ڈیولزآف دی ہیمالین ایگل، دی فرسٹ انڈو پاک وار‘‘ میں درج ہیں ۔یہ چند جملے گواہ ہیں کہ نصف صدی بعد ہی سہی لیکن بھارت یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوگیا ہے کہ ستمبر 1965ء کی جنگ کا فاتح پاکستان تھا۔

6ستمبر1965ء ایک ایسی حقیقت ہے، جسے بھارت سمیت کوئی نہیں جھٹلا سکتا۔ پاکستان نے دشمن کے مقابلے میں اسلحے اور عسکری قوت میں نمایاں کمی کے باوجود اس پر سبقت حاصل کی۔ اس جنگ میں پاکستان کو کم سے کم اور بھارت کو زیادہ سے زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑا۔ اس جنگ میں پاک افواج نے جہاں دشمن کو شکست سے دوچار کیا، وہیں اس کے جنگی سازوسامان کو تباہ کرنے کے علاوہ قبضے میں بھی لیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق 17روزہ جنگ میں پاک افواج کے جانبازوں نے بھارت کے130جنگی جہازوں کو مار گرایا،516ٹینک تباہ کیے اور7ہزار بھارتی فوجی ہلاک کیے جبکہ 800 فوجیوں کو قیدی بنایا۔ اس کے علاوہ درست حالت میں18ٹینک، سینکڑوں توپیں، ہزاروں فوجی گاڑیاں اور بہت سا دیگر جنگی سامان قبضے میں لیا۔ یہ جنگی سازو سامان آج بھی پاک افواج کی تحویل میںہے، جن میں سے چند کا ذکر ذیل میں کیا جارہا ہے۔

بھارتی طیارہ

اگر آپ پی ایف میوزیم کراچی کا دورہ کریں تو وہاں بھارتیGnat طیارہ کھڑا نظر آئے گا، جو صرف ایک جنگی جہاز ہی نہیں بلکہ 1965ء کی جنگ میں پاکستانی فتح کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس لڑاکا طیارے کی ساخت اور اسے قبضے میں لینے سے متعلق تفصیلات بھی ساتھ درج ہیں۔

دشمن کا یہ طیارہ 3ستمبر 1965ء کو پاکستان کے قبضے میں آیا تھا اور اس واقعہ نے دشمن کو متنبہ کردیا تھا کہ پاک افواج کے جذبہ ایمانی کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ سرگودھا سے اڑنے والے پاکستانی طیاروں اور لاہور کے قریب دیکھے گئے بھارتی جہازوں کے درمیان ایک فضائی جھڑپ کے بعد واپسی کے لیے کوشاں بھارتی نیٹ طیارے کو پاکستانی پائلٹ حکیم اللہ نے سرینڈر کرنے پر مجبور کیا۔ حکیم اللہ اس وقت پاک فضائیہ کا ایف اسٹار فائٹر104اڑا رہے تھے۔ پائلٹ حکیم اللہ نے جب بھارتی طیارے کو پاکستانی علاقے میں اڑتے ہوئے دیکھا تو انھوں نے اسے وائرلیس پر پیغام بھیجا کہ وہ نیچے کی پٹی پر اپنا جہاز فوراً اتاردےورنہ وہ اسے اڑا دیں گے۔ اس کے بعد دشمن طیارے کا پائلٹ اپنے طیارے سمیت سرینڈر ہونے پر مجبور ہوگیا۔ سرینڈرکرنے والے بھارتی طیارے کو پسرور کے قریب ایک ویران پڑی ایئر فیلڈ کے قریب اتروایا گیا۔ نیٹ طیارے کو قبضے میں لیتے ہوئے بھارتی پائلٹ اسکواڈرن لیڈر برج پال سنگھ سکند کو گرفتار کرلیا گیا ۔

بھارتی ٹینک

ستمبر 1965ء کی جنگ کے دوران، بھارتی جنرل کو اپنی بکتر بند ڈویژن پر بڑا فخر تھا۔ اس ڈویژن میں بھارتی جنرل کی اپنی ٹینک رجمنٹ، سولہویں کیولری بھی تھی، جسے اس نے ” فخرِ ہند“ کا خطاب دیا ہوا تھا۔ اسی ٹینک ڈویژن کی طاقت کے نشے میں بھارت خود کو ٹینکوں کی جنگ کا ماہر کہا کرتا تھا۔یہی وجہ تھی کہ دشمن اپنے فرسٹ آرمڈ ڈویژن ’’فخرِ ہند‘‘ کی ٹینک رجمنٹ کی پوری قوت کے ساتھ سیالکوٹ پر حملہ آور ہوا۔

دشمن پُرامید تھا کہ وہ گوجرانوالہ سے ہوتا ہوا لاہور کے عقب میں جی ٹی روڈ پر پہنچنے میں کامیاب ہوجائے گا لیکن ہمارے ایک انفینٹری بریگیڈ نے 3 دن تک فخرِ ہند کی ٹینک رجمنٹ کو چونڈہ ریلوے اسٹیشن کے اس طرف آگے نہ بڑھنے دیا اور دشمن کے لاہور پہنچنے کا خواب چکنا چور بنادیا۔ جنگ کے دوران قبضے میں لئے جانے والے بھارتی ٹینک ’’فخرِ ہند‘‘ کی پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں نمائش کی گئی۔ پاکستان کے قبضے میں آنے والا AMX-13 ٹینک سیالکوٹ کے پرانے قلعے میں موجود ہے جبکہ کچھ بھارتی ٹینک لاہور کے آرمی میوزیم میں بھی موجود ہیں۔

میجر جنرل نرنجن پرساد، سرکاری جیپ

1965ء کی جنگ میں بھارت کی بزدلی کا ایک اور ثبوت بھارتی میجر نرنجن پرساد ( جی او سی15ویں انڈین انفنٹری ڈویژن) کی پاکستان میں موجود سرکاری جیپ ہے۔ دشمن سے چھینی گئی یہ سرکاری جیپ 18بلوچ رجمنٹ (جسے اب 3سندھ کہتے ہیں) کے کوارٹر گارڈ میں کھڑی ہے۔ اسے8ستمبر کے روز18بلوچ رجمنٹ کے جوانوں نے واہگہ سیکٹر (لاہور) میں بی آر بی نہر پار کرکے اپنے قبضے میں لیا تھا۔ اس جیپ کو بھارتی میجر اپنی جان بچانےکی خاطر چھوڑ کر بھاگ نکلا تھا۔میجر جنرل کی بزدلی کی داستان بھارتی وزیر دفاع وائے بی چون خود اپنی کتاب میں یوں لکھتے ہیں، ’’میجر جنرل نرنجن پرساد آپریشنل کمانڈ کا بہت برا ریکارڈ رکھتے تھے۔ تاہم 1965ء کے آپریشنز اور اس کے بعد راجوڑی میں انفینٹری ڈویژن کی کمان کے دوران انہیں انتہائی ناقص پایا گیا‘‘۔

مارٹر گولہ

گزشتہ برس چونڈہ کے مقام پر53سال بعد ایک بھارتی ساختہ مارٹر گولہ برآمد ہوا۔ تحقیق کے بعد حکام اس نتیجے پر پہنچے کہ زنگ آلود اور ناکارہ مارٹر گولہ بھارتی ساختہ ہے، جو 1965ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑی جانے والی جنگ کے دوران بھارت کی جانب سے داغا گیا تھا مگراللہ کے حکم سے پھٹ نہ سکا۔

تازہ ترین