آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اسپین: کاتالونیا کے نائب صدر سمیت کئی وزراء کو قید کی سزا

اسپین: کاتالونیا کے نائب صدر سمیت کئی وزراء کو سزا سنا دی گئی
صوبائی صدر نے اپنے وزیروں کے ساتھ مل کر اسپین سے صوبہ کاتالونیا کو علیحدہ کرنے کا نام نہاد ریفرنڈم کرایا تھا۔

ہسپانوی سپریم کورٹ نے تاریخ کی طویل ترین عدالتی کارروائی کے بعد آج کاتالان علیحدگی پسندوں کو سزائیں سنا دیں۔

اسپین کے صوبہ کاتالونیا کے کاتالان علیحدگی پسندوں نے صوبے کو اسپین سے علیحدہ کرکے الگ ملک بنانے کی تحریک چلا رکھی ہے، یکم اکتوبر 2017 میں صوبائی صدر ”کارلوس پوجدے مونت“ نے اپنے وزیروں کے ساتھ مل کر اسپین سے صوبہ کاتالونیا کو علیحدہ کرنے کا نام نہاد ریفرنڈم کرایا تھا۔

ہسپانوی قانون اور آئین میں صوبائی ریفرنڈم کرانے کی شق موجود ہے لیکن وفاق سے اجازت لینا ضروری ہے۔ ریفرنڈم کرانے کے بعد کاتالونیا کے صدر اسپین سے مفرور ہو گئے تھے اور انہوں نے بیلجیم میں جا کر سیاسی پناہ لے رکھی ہے، لہٰذا آج کے فیصلے میں عدالت نے انہیں سزا نہیں سنائی۔

جن صوبائی عہدیداروں اور وزیروں کو سزائیں سنائی گئی ہیں اُن میں نائب صدر ”جون کیرا 13 سال“ سانچیز 9سال، سیوشرت 9سال، فورکادیل 11سال چھ ماہ، رومیوا 12سال، توروئی 12سال، رول 10سال چھ ماہ، فورن 10سال چھ ماہ، باسا 12سال، موندو 10ماہ، بوراس 10 ماہ، بیلا 10ماہ کو سزائیں سنائی گئی ہیں۔

وفاقی حکومت کی طرف سے کئے گئے مقدمے میں کہا گیا تھا کہ صوبائی حکومتی نمائندوں نے ریفرنڈم وفاق سے اجازت لئے بغیر کرایا ہے اور اس غیر آئینی ریفرنڈم پر آنے والے اخراجات غیر قانونی طریقے سے استعمال ہونے والے سرکاری فنڈز ہیں۔

واضح رہے کہ 2017 میں صوبہ کاتالونیا کے ریفرنڈم میں مظاہروں کے دوران وفاقی حکومت نے دفعہ 155 کا نفاذ کرکے گورنر راج لگایا اور تمام صوبائی اختیارات اپنے پاس رکھ لئے تھے۔

صوبہ کاتالونیا کے حکومتی نمائندوں کے خلاف کیس کی کارروائی 18ماہ سے چل رہی تھی اس اثناء میں تمام ملزم جیل میں بند رہے اور آج انہیں سزائیں سنائی گئیں۔

دوسری طرف علیحدگی پسندوں کے صدر کارلوس پوجدے مونت نے برسلز سے اعلان کیا ہے کہ تمام کاتالان صوبہ کاتالونیا میں زیادہ سے  زیادہ احتجاج کریں اور ان احتجاجی مظاہروں میں تیزی لائیں، صوبہ کاتالونیا کے دارالحکومت بارسلونا میں مظاہروں کا آغاز کر دیا گیا ہے اس حوالے سے انتظامیہ نے بے جا باہر نکلنے سے احتیاط کرنے کی ہدایت کی ہے۔

یاد رہے کہ اسپین کی حکومت نے مفرور صدر کو ملک بدر کرنے اور گرفتاری میں مدد کرنے کے لیے بیلجیم حکومت سے اپیل کی تھی لیکن انہوں نے سیاسی پناہ لئے ہوئے کاتالونیا کے سابق صدر کی گرفتاری یا ملک بدر کرنے کی اپیل نہیں مانی۔

اب جب تک سابق صدر کاتالونیا ”کارلوس پوجدے مونت“گرفتار نہیں ہوتے تب تک ان پر مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید