آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ24؍ ربیع الاوّل 1441ھ 22؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ڈکٹیٹر ایڈولف ہٹلر جسے جرمن قوم کی اکثریت اپنا اصول پرست اور عظیم قائد مانتی ہے وہیں لاکھوں جرمنوں سمیت اقوام عالم کی ایک بڑی تعداد ہٹلر کو دوسری جنگ عظیم چھیڑنے اور انسانیت کے خلاف سفاکانہ چالوں کے باعث برے نام سے یاد کرتی ہے۔ یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ نازی فوجیوں کے ذریعے لاکھوں یہودیوں کی نسل کشی کا حکم ہو یا جرمنی کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا جرم، خمیازہ چار دہائیوں تک جرمن قوم کو ہی بھگتنا پڑا۔

گوربا چوف کیمونسٹ روسی قوم کا آخری لیڈر تھا جس نے کیمونزم کے نام پر آمریت برپا رکھی، اس کی رجعت پسند اور طاقت کے نشے میں بنائی گئی غیر اصولی پالیسیز نے روس کو پندرہ ریاستوں میں ٹکڑے ٹکڑے کیا بلکہ روس کی فوجی طاقت کے گھمنڈ کو بھی ریزہ ریزہ کردیا، گوربا چوف کے مزدور دشمن فیصلوں نے قدرے خوشحال روسی عوام کو غربت کی لیکر سے ایسا نیچے پھینکا کہ آج تک روس عالمی سطح پر فوجی و معاشی میدان میں اپنا کھویا مقام نہیں حاصل کر سکا۔

مودی کے مقبوضہ کشمیر میں معصوم کشمیریوں پر مظالم اور کرفیو کے ذریعے قید و بند کے فیصلے کو 71روز ہو چکے ہیں، بدقسمتی سے مسلم امہ اور اقوام عالم کا خواب غفلت کا شکار ہونا ایک بڑے المیے کا پیش خیمہ ثابت ہونے جارہا ہے۔

گو پاکستان اپنی حد اور قد کے مطابق بلکہ اس سے بھی بڑھ کر متنازع ترین اقدام کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لئے سفارتی، سیاسی اور اخلاقی کوششیں کر رہا ہے لیکن جنگ نہیں چاہتا۔

پاکستان کو سفارتی کوششوں سے دنیا بھر میں یہ انسانی معاملہ مودی کی انسان دشمنی کے طور پر ابھرا اور دنیا بھر میں بسنے والے بھارتیوں کے لئے باعث شرم ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی، امریکی ایوانوں سمیت دنیا بھر میں کشمیریوں پر آئی مشکل کا ذکر ہو رہا ہے، پاکستان سمیت برطانیہ سے یورپ تک مظاہرے بھی ہو رہے ہیں۔

صدافسوس کہ عملی طور پر صاف نظر آتا ہے کہ مودی پر خون سوار ہے اور وہ احساس سے عاری اور کسی کی سننے کو تیار نہیں۔ یہ کہاوت زمینی حقائق کا آئینہ ہے کہ ’’فیصلے غلط نہیں ہوتے بلکہ اس کے نتیجے غلط ہوتے ہیں‘‘۔

بھارت کی انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کا بانی کارکن مودی نامی شخص جو دراصل انتہا پسندی کے نعرے کے بل بوتے پر دوسری مرتبہ بھاری اکثریت سے بھارت کا وزیراعظم منتخب ہوا ہے، بھارت کے اندر اور باہر بلکہ اقوام عالم کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے، کشمیری کرفیو توڑ رہے ہیں اور صورتحال کبھی بھی بدترین بد امنی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

دیکھا جائے تو بھارت کی 29ریاستوں اور وفاق کے زیرِانتظام 9یونین اسٹیٹس میں کم وبیش 20سے زائد علیحدگی پسند تحریکیں چل رہی ہیں، کشمیر سمیت بعض ریاستوں میں سے کئی ایک کا اسٹیٹس آرٹیکل 370کا ہے جس کامطلب نیم خودمختاری اور خصوصی آزادانہ حیثیت ہے تاہم مودی کی مقبوضہ کشمیر کی آرٹیکل370کے تحت خصوصی حیثیت کے خاتمے کے اقدام نے بھارت کی مضبوط فیڈریشن کے خواب کو چکنا چور کر دیا ہے کیونکہ باقی نو ریاستیں بھی بھارت کے ظالمانہ اور غیر منصفانہ اقدامات کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہیں، ریاست ناگالینڈ میں مسیحی اکثریت علیحدگی کی تحریک کےتحت اپنا جھنڈا و ترانہ تیار کر چکی ہے، چھوٹی ذات کے ہندوبھی کئی ریاستوں میں نکسل تحریک سے اپنی آزادی کی جدوجہد کررہے ہیں.

آسام کی یو ایل ایف اے، تری پورا، تامل اور خالصتان تحریکیں بھارت سے علیحدگی کا علم اٹھائے ہوئے ہیں، اہم بات یہ ہے کہ برطانیہ میں آئندہ سال پوری دنیا میں بسنے والے سکھوں کا بھارت سے علیحدگی کے معاملے پر ریفرنڈم بھی ہونے جا رہا ہے۔

بھارت کو ’’ہندوتوا‘‘ کے نعرے کے تحت انتہاپسند ملک بنانے کی شرمناک سازش نے بھارت کی عدالت عظمیٰ کو بھی اس قدر دبائو کا شکار کیا ہے کہ وہ کرفیو کو کالعدم قرار دینے کے فیصلہ کی ہمت تک نہیں کر سکی۔

امریکہ اور بھارت دنیا کے نقشے پر دو ایسے منفرد ملک ہیں جہاں ہر مذہب، زبان، رنگ، نسل اور قوم کے نمائندہ افراد آباد ہیں تاہم امریکہ اور بھارت میں فرق یہ ہے کہ دنیا بھر سے امریکہ آئے افراد خود کو صرف امریکی کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں کیونکہ وہاں شخصی آزادی، معاشی خوشحالی، خود مختاری اور امن و انصاف میسر ہے جبکہ بھارت مختلف مذاہب، نسل، رنگ اور زبانوں کی بنیاد پر تقسیم نظر آتا۔

سب سے بڑا ہندو مذہب خود چار درجوں میں تقسیم ہے۔ حالات کی سنگینی کو سنگ دل مودی سمجھنا چاہتا ہے اور نہ کسی کی سننے کو تیار ہے ایسے میں امریکی صدر ٹرمپ دونوں ملکوں کے درمیان اس تنازع کو حل کرانے کیلئے ثالثی کےدعوے کو عملی شکل دے کر ایشیا سمیت پوری دنیا کو ایک بڑی جنگ سے بچا سکتے ہیں۔ ب

ھارتی وزیراعظم نے کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم بند نہ کئے تو یہ جرائم بھارت کو انتہا پسند اور دہشت گرد قرار دلوانے کے لئے کافی ہیں جبکہ غربت اور حصے بخرے اس کا مستقبل ہوگا۔ تلخ زمینی حقائق بتارہے ہیں کہ تاریخ مودی کو ہٹلر یا گوربا چوف نہیں بلکہ Modi the Butcherکےنام سے ہی یاد رکھے گی۔