آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 15؍ربیع الاوّل 1441ھ 13؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ربیع الاول اور ہمارا طرز عمل

تحریر:محمد سجاد رضوی۔۔ہیلی فیکس
کائنات کی سب سے بڑی نعمت جس مہینے میں عطا کی گئی اسے ماہِ ربیع الاول کے نام سے جانا جاتا ہے۔ "پہلی بہار" اس کا مطلب ہے اور واقعی اس بہار والے مہینے میں رحمت خداوندی کی ایسی بہار اس دنیا نے پائی کہ شرق و غرب جگمگا اٹھے، شش جہات میں اجالے پھیلے، فضل و کرمِ ربانی کی ایسی رم جھم رم جھم برکھا برسی کہ ظاہر و باطن کی دنیا پاکیزگی کا لباس پہن کر چمکنے لگی، عرب کی سرزمیں پر روشنی بکھیرنے والا ماہِ تمام ' پوری کائنات کے لئے نویدِ مسرت لے کر آیا اور اس کے جلووں کی تابانی سے کفر و شرک کی ظلمتیں کافور ہوئیں۔دردو آلام کے ماروں کو سہارا ملا، ظلم و ستم میں جکڑی انسانیت کو قرار آیا ، دلوں کی بستی آباد ہوئی اور روحوں کو تسکین ملی، ستارے جھک جھک کے دیدار کی خاطر بے تاب ہوئے، نبضِ ہستی ٹھہر سی گئی، انتظار کے لمحے رخصت ہوئے اور حبیب خدا حضرتِ محمد مصطفیٰ ﷺ متولد ہوئے، "صل علیٰ ' صل علیٰ" کے نغمات سے فضائیں معمور ہوئیں اور خوشبوئے وجود سے ہوائیں مخمور ہوئیں۔
سلام اے آمنہ کے لال ' اے محبوب سبحانی
سلام اے فخر موجودات ' فخر نوعِ انسانی
سلام اے آتشیں زنجیرِ باطل توڑنے والے
سلام اے خاک کے ٹوٹے ہوئے دل جوڑنے والے
سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں

فقیری کی
یہ 12 ربیع الاول کا خوبصورت ترین دن ہے جس نے کائنات کو ابدی پیغامِ رحمت عطا کیا اور دستورِ الہٰی کی تنزیل کے خدوخال آشکارا ہوئے یعنی ہدایت، دائمیہھدایت کا سورج چمک اٹھا۔ اسی محبوبﷺ کی تشریف آوری کو رب ذوالجلال نے فضلِ عظیم اور نعمت عظمیٰ کے طور پر ارشاد فرمایا، اور ان کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ' ان کی اتباع میں اپنی محبت کا نور رکھا، ان کی سیرت پاک کو پوری کائنات کے لئے اسوۂ حسنہ بنادیا اور ختم نبوت و رسالت کا تاج پہنا کر ' خالقِ کائنات نے رحمتِ کائنات پر اپنے دین کی تکمیل فرما دی۔ پس سارے انبیاء و رسل علیھم السلام کے خصائل محمودہ و اوصاف چنیدہ کو ذاتِ مصطفیٰ کریمﷺ میں اس طرح جمع کردیا کہ جمال و کمال اور اخلاق و شمائل میں یکتا و یگانہ محبوب ' صف انبیاء علیہم السلام کا امام ہے اور سارے پیغمبر اس کے مقتدی ہونے پر شاداں و مسرور ہیں۔
حسن یوسف ،دم عیسیٰ، یدِ بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند ' تو تنہا داری
یعنی اے محبوب بے مثال’ اوج و کمال اور رفعت و منزلت میں سے جو مرتبہ و مقام سابقہ انبیاء کو ایک جماعت کے طور پر ملا رب تعالی نے ان خوبیوں کا مجموعہ بنا کر تجھے کائناتِ ارضی و سماوی کی زینت اور رحمت بنا دیا۔ آج جب کہ ہم ان کے میلاد شریف کے جشن منا رہے ہیں اور محافل کا اہتمام ہو رہا ہے، کیوں نہ غرض و غائت بعثت کو اپنا کر خیر الامم ہونے ثبوت دیں اور تلاوتِ قرآن، تعلم قرآن اور تدبر قرآن کے ذریعے سینوں کا تزکیہ حاصل کریں تاکہ حکمت و معرفت ہمارا مقدر بنے اور دین و دنیا کی فلاح سے امت کا ستارہ عروج پائے۔ ایسے عظیم الشان موقع پر جب رسوم و رواج اور ذاتی مفادات کی آڑ میں شرع سے نابلد، مفہوم محبت سے ناآشنا، حقیر دولتِ دنیا کے پجاری، عقل و خرد سے عاری اور سیرت نبوی کے جلووں سے ناواقف "عشق فروش" ، مذہبی اداکار و فنکار، دیکھتا ہوں کہ اہلِ ایماں کی سادگی سے فائدہ اٹھا رہےہھیں ' تو لرز جاتا ہوں کہ کس منہ سے بروزِ حشر اس شافعِ محشر کا سامنا ہوگا۔ جشن سرکارِ دو عالمﷺ ضرور منائیے مگر "مذہبی تاجروں اور مسخروں " کے ساتھ نہیں، بلکہ علماء و حقیقی صوفیاء اور اہل محبت کے ساتھ۔

یورپ سے سے مزید