آپ آف لائن ہیں
جمعہ23؍ذی الحج 1441ھ14؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مسئلہ کشمیر کے موضوع پر تقریب کا انعقاد

قونصل خانہ پاکستان میں کشمیر کی حق خود ارادیت کے حوالے سے گزشتہ دنوں تقریب کا اہتمام کیا گیا،جس کے مہمان خصوصی اسلامی تعاون تنظیم میں پاکستان کے نمائندہ رضوان سعید شیخ اور قونصل جنرل خالد مجید تھے۔تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا۔تقریب سے ڈپٹی قونصلر شائق بھٹو نے وزیراعظم کا ،جبکہ قونصل ویلفیئر ماجد حسین میمن نے وزیر خارجہ کا پیغام پڑھ کر سنایا، قونصلر فوزیہ خان نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔

اوآئی سی کےرضوان سعید شیخ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج پوری دنیا میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کا دن کو منانے کا مقصد اس بات کو یاد دلانا ہے کہ اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم اور عالمی برادری نے کشمیر کے حق خودارادیت پر جو قرادار پاس کی تھی اس پر عمل کروانے کے لیے بھارت پر زور دیا جائے۔

کشمیریوں کے پاس یہ حق ہے کہ وہ اپنا فیصلہ خود کریں کہ وہ کس طرح سے اپنی زندگی گزارنا چاہتے ہیں،ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا کے پانچ اگست 2019 ء کے عمل سے کشمیر کا مسئلہ بھرپور طریقے سے عالمی سطح پر اجاگر ہوا اور عالمی اخباروں نے کشمیر کے مسئلے کو اپنے اخبارات کی شہہ سرخیوں میں اجاگر کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قونصل جنرل خالد مجید کا کہنا تھا کہ ہم کشمیریوں کی سفارتی، اخلاقی اور ثقافتی حمایت جاری رکھیں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کے نمائندے کی طرف سے کشمیری عوام کو یقین ہونا چاہیے کہ ہم کشمیریوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے، ہر فورم پر مسئلےکو اجاگر کریں گے۔اس موقعے پر انہوں نے صحافی برادری کا کشمیر کے حوالے سے خدمات پر شکریہ ادا کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مسعود پوری کا کہنا تھا کہ ہم کشمیر کے لئے ہر پلیٹ فارم پر آواز بلند کرتے رہیں گے اور ہم اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اب کچھ عملی اقدام کیے جائیں تاکہ کشمیر کا مسئلہ یو این او کی قرارداروں کے مطابق حل ہوسکے۔

تقریب سے اوورسیز کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سردار اشفاق خان نےکہاکہ کشمیری اپنے گھروں میں محصور ہیں، اب بات قرارداروں سے آگے بڑھ چکی ہے۔اگر اب اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے عملی اقدامات نا کئے تو بھرپور نقصان ہو سکتا ہے۔

بلادی سے مزید