پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمٰن نے جنگ جیو گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کو حکومت کی انتقامی کارروائی قرار دے دیا۔
شیری رحمٰن نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اُس وقت بھی آزادیِ صحافت کے ساتھ کھڑی تھی جب مشرف نے جیو پر پابندیاں لگائیں اور موجودہ حکومت کی زیادتیوں کیخلاف بھی صحافیوں کے شانہ بہ شانہ کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی روایات کو برقرار رکھا ہے، نومبر 2007 میں جب سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد میڈیا پر پابندیاں لگیں، تو سابق وزیراعظم شہید بے نظیر بھٹو جنگ اور جیو نیوز کے دفتر پہنچیں اور انتظامیہ کے ساتھ ملاقات میں اظہارِ یکجہتی کیا۔
آج ایک مرتبہ پھر جیو نیوز حکومت کے نشانے پر ہے تو پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما سینیٹر شیری رحمان، راشد ربانی اور وقار مہدی کراچی میں جیو نیوز کے دفتر پہنچے اور جنگ جیو نیوز نیٹ ورک کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کو انتقامی کارروائی قرار دیا۔
سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتی ہے، گیارہ سال پہلے آج ہی کے دن جب میڈیا پر قدغن لگانے کی کوشش ہوئی تو انہوں نے وزیرِ اطلاعات کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔