سال 2020ء کے آغاز پر، جب ہر طرف سالِ نو کے استقبال کا جشن پورے جوش و خروش سے جاری تھا، کیا کسی نے تصوّر بھی کیا تھا کہ محض چند روز بعد ایک انتہائی مہین، انسانی آنکھ سے دکھائی بھی نہ دینے والا وائرس پوری دنیا کو اس طرح تلپٹ کر کے رکھ دے گا۔ ایک اَن دیکھا خوف، مہیب سنّاٹا دِلوں، دماغوں سے گلی کُوچوں تک ایسا قیام، بسرام کرے گا کہ نخلستانوں، ویرانوں، آبادیوں، قبرستانوں میں تمیز مشکل ہو جائے گی۔ پوری دنیا کی توجّہ صرف ایک لفظ ’’کورونا‘‘ ہی پر مرتکز ہو کے رہ جائے گی۔ قیامت سے پہلے قیامت کا منظر ہوگا۔ ہر طرف افراتفری، نفسانفسی کا عالم، لوگ ایک دوسرے سے گلے ملنے، ہاتھ ملانے، حتیٰ کہ بات کرنے تک سے کترائیں گے۔ اولاد، والدین کی لاشیں وصولنے سے انکار کر دے گی۔ والدین اپنے جگر گوشوں کو سینے سے لگانے، چہرہ، پیشانی چُومنے سے ڈریں گے۔ انسان خود اپنا ہاتھ منہ تک لے جانے، آنکھ، ناک، کان چُھونے سے گریز کرنے لگے گا۔ دُنیا کی ساڑھے سات ارب آبادی، گھروں میں محصور ہو کے رہ جائے گی۔
پوری کائنات کی ٹھیکے دار طاقتوں، متکبّر، سرکش حکمرانوں (سُپر پاورز) فرعونوں کا غرور کچھ اس طرح خاک میں ملے گا کہ وہ جو اپنے ایک شہری کو بچانے کی خاطر کسی دوسرے مُلک کے ہر قانون کو تاراج کرنے، لمحوں میں قدموں تلے روندنے کی صلاحیت رکھتے تھے، روزانہ اپنے سیکڑوں شہریوں کو تڑپتا، مرتا دیکھیں گے اور سوائے بےبسی سے ہاتھ ملنے یا اشک بار نگاہوں سے آسمان کی طرف دیکھنے کے کچھ نہ کر پائیں گے۔ کیا اب بھی کسی کو کوئی شک رہ گیا ہے کہ یہ دُنیا کس کی ہے، یہاں بسنے والی حقیر سے حقیر مخلوق سے لے کر اشرف المخلوقات تک کے اجسام کس کے ہیں اور اُن پر مرضی کس کی چلے گی۔ طاقت و حکمرانی، فخر و غرور، رعب و دبدبہ، جاہ و جلال کس کو زیبا ہے۔ اشارے، فیصلے، احکامات کس کے ہوں گے اور کون طے کرے گا کہ اُنہیں کب، کیسے، کس پر، کس طرح نافذ کرنا ہے۔
ربّ ِکعبہ، اُس خالق ِدوجہاں نے تو کہہ رکھا ہے کہ ’’ہاں، اللہ اِس سے ہر گز نہیں شرماتا کہ مچّھر یا اُس سے بھی حقیر تر کسی چیز کی تمثیلیں دے۔ جو لوگ حق بات کو قبول کرنے والے ہیں، وہ اپنی تمثیلوں کو سُن کر جان لیتے ہیں کہ یہ حق ہے، جو اُن کے ربّ کی طرف سے آیا ہے اور جو ماننے والے نہیں ہیں، وہ انہیں سُن کر کہتے ہیں کہ ایسی تمثیلوں سے اللہ کو کیا سروکار، اس طرح اللہ ایک ہی بات سے بُہتوں کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے اور بُہتوں کو راہ ِ راست دِکھا دیتا ہے اور گمراہی میں وہ اُنہی کو مبتلا کرتا ہے، جو فاسق ہیں۔‘‘ (سورۃ البقرہ آیت 26تا 30)۔ دو جہانوں کے رازق، مالک جِن و بشر نے تو تنبیہہ کر دی تھی کہ ’’وہ اس بات پر پوری قدرت رکھتا ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے بھیج دے یا تمہارے پائوں کے نیچے سے (نکال دے) یا تمہیں مختلف ٹولیوں میں بانٹ کر ایک دوسرے سے بِھڑا دے اور ایک دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھا دے۔
دیکھو، ہم کس طرح مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں واضح کر رہے ہیں تاکہ یہ کچھ سمجھ سے کام لیں۔‘‘ (سورۃ الانعام، آیت 65)۔ مالک ِ شرق و غرب نے تو ڈراوا دیا تھا کہ’’ اور ڈرو اُس وبال سے، جو تم میں سے صرف اُن لوگوں پر نہیں پڑے گا، جنہوں نے ظلم کیا ہو گا اور جان رکھو کہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔‘‘ (سورۃ الانفال، آیت 25)۔ قادرِ مطلق نے تو خبردار کر دیا تھا کہ ’’بھلا کیا اُن لوگوں کو اس بات کا ذرا ڈر نہیں کہ اللہ کے عذاب کی کوئی بلا آکر اُن کو لپیٹ لے یا اُن پر قیامت اچانک ٹوٹ پڑے اور اُنہیں پہلے سے احساس بھی نہ ہو۔‘‘ (سورہ یوسف، آیت107)۔ خدائے لم یزل ولایزال، غفّار و قہار نے تو وارننگ دی تھی کہ ’’اور اُس بڑے عذاب سے پہلے بھی ہم اُنہیں کم درجے کے عذاب کا مزہ بھی ضرور چکھائیں گے کہ شاید یہ باز آجائیں۔‘‘ (سورۃالسجدہ، آیت 21) اور یہ کہ ’’کوئی بستی ایسی نہیں ہے، جسے ہم روزِ قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں یا اُسے سخت عذاب نہ دیں۔ یہ بات (تقدیر کی) کتاب میں لکھی جاچُکی ہے۔‘‘ (سورۃ بنی اسرائیل، آیت58)۔
مگر آہ!یہ ازل کا عاقبت نااندیش، نادان، نافرمان، ناشُکرا، اڑیل انسان، جو یہ جانتے بُوجھتے بھی کہ اُس کی بساط و حیثیت پانی کے بلبلے، ایک حقیر ذرّے، پَرکاہ کے برابر بھی نہیں، زمین پر اُسی کرّوفر، اکڑوغرور سے چلتا ہے کہ جس کی باقاعدہ سرزنش کی گئی، سختی سے منع کیا گیا ’’زمین پر اکڑ کر نہ چلو، تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو، نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو۔‘‘ (سورہ بنی اسرائیل، آیت 37) اور ’’لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر، نہ زمین پر اَکڑ کر چل، اللہ کسی خودپسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا۔‘‘(سورہ لقمان، آیت 18)۔ بلکہ بنی نوع انسان کی بدہیئتی اور بدمستی کا تو یہ عالم ہے کہ آج دنیا باقاعدہ حاکم و محکوم، آقا و غلام کے دو واضح درجات و طبقات میں تقسیم ہو چکی ہے۔ جو زورآور ہے، وہ کسی کو بھی پائوں تلے کچلنے کے سارے حقوق، اختیارات رکھتا ہے۔ کس قدر گھمنڈ تھا، اِن عالمی طاقتوں کو اپنی برق رفتار تعمیر و ترقّی، جدید سائنسی ایجادات اور اعلیٰ ترین ٹیکنالوجی کا ۔ کمزور ممالک کو مغلوب و مرعوب رکھنے کے لیے اپنے اجتماع، گٹھ جوڑ کے کیا کیا خُوب صُورت سحرانگیز نام نہیں تراش رکھے انہوں نے۔ یورپی یونین، نیٹو، جی ٹوئنٹی، جی ایٹ، جی سیون ممالک۔
ہم کمزور ریاستیں تو گویا دنیا کے ان ٹھیکے داروں کی اندھی، گونگی ،بہری رعیّت ٹھہریں۔ عراق، افغانستان، ایران، برما سے لے کر شام، لبنان، فلسطین اور دیگر عرب، وسط ایشیائی ریاستوں نیز، کشمیر اور پاکستان تک کا حال ملاحظہ کرلیں۔ ’’ڈومور، ڈومور‘‘ کا کنواں ہے کہ بھرتا ہی نہیں۔ مظلوم فلسطینی کب سے اپنے ہی مُلک میں قرنطینہ(محصور) ہیں۔ 3سالہ زخموں سے چُور چُور اُس شامی بچّے کی جانکاہ آہ و بکا، آخری الفاظ سے دُنیا تو پتا نہیں کانپی یا نہیں، عرشِ الٰہی ضرور لرز اُٹھا ہوگا کہ ’’مَیں جا رہا ہوں، اللہ میاں کو جاکے سب بتائوں گا۔‘‘ اہلِ کشمیر پر ٹوٹنے والے ظلم و ستم کے پہاڑ تو اب مائونٹ ایورسٹ سے جا لگے ہیں۔ گزشتہ سال اگست سے 80 لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل پوری وادی لاک ڈائون ہے (حال ہی میں بھارت کے ایک سینئر صحافی، اروند مشرا کی ایک تحریر سامنے آئی ہے، جس میں اُس نے بڑے دُکھ کے ساتھ لاک ڈائون کےدوران کشمیر کے دورے کی بپتا لکھی ہے، اور بتایا ہے کہ کس طرح ایک کشمیری لڑکی نے اُس کا رستہ روکا اور روتے، بلبلاتے ہوئے ہاتھ اٹھا کے بددُعا دی کہ ’’اے اللہ! جو ہم پر گزر رہی ہے، کسی پر نہ گزرے۔ مگرمولا! بس ایسا کچھ کر دینا کہ پوری دنیا کچھ دِنوں کےلیے اپنے گھروں میں قید ہو جائے، تاکہ انھیں احساس ہوسکے کہ ہم کیسے جی رہے ہیں‘‘)۔ افغانستان میں ایک ڈرون گرتا ہے اور جھوم جھوم کے تلاوت ِ قرآن کرتے معصوم بچّوں سمیت پورا مدرسہ نیست و نابود ہو جاتا ہے۔ نہ جانے کتنے ہی حفاظ و قرّاء شہید ہو جاتے ہیں۔ کبھی شادی کی تقریب کسی ڈرون سے ماتم کدے میں بدل جاتی ہے، تو کبھی کوئی دینی محفل۔ خود پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف نام نہاد عالمی جنگ میں 70,000 کے لگ بھگ قیمتی جانیں گنوائیں ۔
دنیا بھر میں باشرع، باحیا خواتین کے نقاب نوچے جاتے ہیں۔ ایک ڈیڑھ گز کے کپڑے کی اتنی تکلیف کہ اُس پر پابندی کے لیے باقاعدہ سخت قوانین تشکیل دے دیئے گئے۔ نیم برہنہ سڑکوں پر ناچتے پھریں۔ ’’میرا جسم، میری مرضی‘‘ کےنعرےلگائیں۔ شخصی آزادی، جمہوریت، آزادی ٔ اظہار کے نام پر جس قدر گند مچایا جاسکتاہے، مچایا جائے، کوئی مسئلہ نہیں، ہم جنس پرستوں تک کے رائٹس ہیں۔ ہاں اگر کوئی باحیا اپنی مرضی و منشا سے اپنا سر، چہرہ ڈھانپ لے، تو یہ گناہِ عظیم ہوگیا، فوراً مُلکی، ریاستی قوانین حرکت میں آجائیں گے۔ انتہا پسندی، بنیاد پرستی صرف مسلمانوں سے مشروط کر کے کلنک کا ٹیکا بنا دی جاتی ہے۔ اور یہ تو اب رب ہی بہتر جانتا ہے ناں کہ کس کی آسمان پر درج کروائی گئی ایف آئی آر یا ٹُوٹے، دُکھے دل سے نکلی آہ پر قدرت کو اس قدر جوش آیا، ایسا قہرِ خداوندی ٹوٹا کہ پورا نظامِ زندگی ہی مفلوج کر کے رکھ دیا۔ جب مقدمہ سب سے بڑی عدالت میں چلا جائے یا ’’عدالتِ عظمیٰ‘‘ ازخود نوٹس، سوموٹو لے لے، اور عدالت ِ عظمیٰ بھی ایسی کہ جس کے انصاف پر تو کوئی نگاہ نہیں اُٹھا سکتا، کجا کہ سوال، تو پھر اپیلوں کی بھی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔
اور صرف غیر مسلم اقوام ہی کا کیا رونا، نام نہاد مسلمانوں کی بداعمالیاں، دینی و اخلاقی پس ماندگی ،انحطاط و زوال بھی گویا اپنے عروج پر ہے۔ بھائی، بھائی کا گلا کاٹ رہا ہے، جھوٹ، غیبت، منافقت، ملاوٹ، بے ایمانی، ناخلفی، جعل سازی، دھوکا دہی، وعدہ خلافی، سود، رشوت خوری، لاقانونیت جیسی عمومی برائیاں تو کسی گنتی شمار ہی میں نہیں۔ اب تو ہوس پرستی، جنس ہراسانی، معصوم بچّوں، بچیوں کے ساتھ زیادتی، زناکاری، لوٹ مار اور قتل و غارت گری جیسے واقعات بھی اس قدر عام ہوگئے ہیں کہ شہروں، جنگلوں میں کچھ خاص فرق نہیں رہ گیا۔ خونی رشتوں کا کوئی احساس، پاس ہے، نہ انسانیت ہی کا کوئی تعلق باقی رہ گیا ہے۔ مجموعی طور پر معاشرے اس قدر اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو چکے ہیں کہ لگتا نہیں کہ اس عالم گیر وبا، بھیانک سزا سے بھی کوئی بڑا درس، سبق حاصل کر پائیں گے۔ لگ بھگ پوری دنیا لاک ڈائون ہے۔ موت کا گھیرا دن بدن تنگ ہو رہا ہے۔ نہیں پتا آنے والے کل کا سورج کسے دیکھنا نصیب ہوگا، کسے نہیں۔ آج زندگی ایک گھر سے روٹھی ہے، کل قضا کس گھر پہ دستک دے گی، کچھ خبر نہیں۔ روز اپنی آنکھوں سے ہزاروں کو موت کے منہ میں جاتا دیکھ رہے ہیں۔
دنیا کی ترقّی یافتہ ترین اقوام اپنی بےبسی و بےکسی پہ نوحہ خواں ہیں۔ اسپتال مریضوں، لاشوں سے اَٹ چُکے ہیں۔ فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ کسے بچایا جائے اور کسے مرنے دیا جائے۔ نمرود کی رعونت خاک میں ملانے والا مچھر تو پھر دکھائی دیتا تھا، مگر اس خردبینی 80سے120نینو میٹر قطر کے حامل وائرس نے تو پوری دنیا کو جس طرح منہ کے بَل گرایا ہے۔ انتہائی عبرت ناک ہے اور اگر اُس کے بعد بھی کسی کو ہوش نہیں آتا، اعمال، رویّے نہیں بدلتے، تو پھر اس سے بڑی بدبختی کیا ہوگی۔ اب بھی اگر ذخیرہ اندوز مال چُھپانے، منافع خور مال بنانے ہی میں لگے ہیں۔ ماسک، گلوز، ہینڈ سینیٹائزر منہگے داموں بیچے جا رہے ہیں۔ اشیائے ضروریہ مارکیٹ سے غائب ہو رہی ہیں۔
غریبوں کے نام پر تقسیم کیا جانے والا راشن پیشہ ور گداگروں کی جیبوں میں جا رہا ہے، عوامی مقامات، بینکوں سے ہینڈ سینیٹائزرز چوری ہو رہے ہیں۔ امیروں کی تجوریاں بَھری ہیں اور سفید پوش اپنا بھرم بھی نہیں رکھ پا رہے تو پھر اس قیامت ِ صغریٰ کے بعد بھی کچھ سُدھرنے والا نہیں۔ اِک حشر بپا ہے، مگر آنکھیں نہیں کُھل رہیں، سوئے ضمیر بیدار نہیں ہو رہے، بگڑے کسی طور سدھر نہیں پارہے۔ وہ جو انور شعور نے کہا کہ ؎ ’’کورونا نے آکر بدل دی ہے دنیا… مگر حیف بدلی نہ حالت ہماری‘‘۔ تو پھر یہ قوم روزِ محشر ہی ’’بندے کی پتر‘‘بنے گی۔
امام ابن قیمؒ نے فرمایا تھا کہ ’’اِس سے بڑا وعظ کیا ہوگا کہ تم اپنے ہم عُمروں کو مرتا اور اپنے ہم نشینوں کو دُنیا چھوڑتا ہوا دیکھ لو۔ اپنے پیاروں کی قبروں سے گزر لو۔ جان جائو کہ کچھ دِنوں بعد تم بھی انہی کی طرح ہونے والے ہو، مگر پھر بھی اُن سے سبق نہ لو، یہاں تک کہ تمہارا دوسروں کے لیے سبق بننے کا وقت آجائے۔‘‘ تو واقعی، ہم اس قدر بےحس، مُردہ ضمیر ہوچُکے ہیں کہ روزانہ اپنے سامنے سیکڑوں کو مرتا دیکھ کر بھی کوئی عبرت حاصل کرنے کو تیار نہیں۔ یہ اٹھارہویں، انیسویں صدی تو ہے نہیں کہ جب لاکھوں لوگ بےخبری، اندھیرے ہی میں مارے گئے، آج تو دنیا ایک ’’عالمی گائوں‘‘ ہے۔ اَن گنت بیماروں، اُن کے لواحقین کی ویڈیوز، آڈیوز مسلسل شیئر ہو رہی ہیں، جن میں انتہائی درد کے ساتھ آگاہ بھی کیا جا رہا ہے کہ ’’کورونا وائرس کوئی مذاق نہیں۔ یہ ایک انتہائی اذیت ناک، مہلک مرض ہے‘‘۔
مگر پھر بھی بحیثیت ِ مجموعی ہمارا رویّہ اب تک بھی کچھ زیادہ سنجیدہ نہیں۔ ایک خطرناک Pandemic، موت کے پروانےکو بھانت بھانت کی میمز کا موضوع بنا رکھا ہے۔ لاک ڈائون کو کھیل تماشا سمجھا ہوا ہے۔ شاید ہم ہنوز اِسی مغالطے میں ہیں کہ ’’جو مر گیا، بس اُسے ہی مرنا تھا‘‘ حالاں کہ سچ تو یہ ہے کہ ہم میں سے کسی کو بھی نہ کل اپنے اگلے پَل کی خبر تھی، نہ آج ہے۔ مگر آج، کل سے کچھ مختلف یوں ہے کہ ہر پَل موت کی چاپ، آہٹ کچھ اور قریب آتی محسوس ہو رہی ہے۔ ایک معتبر عالمِ دین کا بیان سُنا۔ جو پورے یقین و اعتماد سے کہہ رہے تھے کہ اللہ پاک انسان سے اپنی کوئی بھی نعمت صرف اُسی صُورت چھینتا ہے، جب اُس نعمت کی سخت ناقدری کی جائے۔ آج اگر ہم پر کعبۃ اللہ اور مساجد کے دروازے بند ہوئے ہیں، تو اس میں کوئی شک و شبہ ہی نہیں کہ یہ پروردگار کی ہم سے سخت ناراضگی کا اظہار ہے۔ ہمیں مسجدوں میں جانا، جمعے کا نسبتاً طویل خطبہ سُننا بوجھ لگتا تھا، اللہ نے اُس بوجھ سے آزاد کر کے، ہر طرح کی آزادی ہی سلب کر لی ہے۔ آج ہمارے سارے ’’ابوابِ خیر‘‘ بند ہو چُکے ہیں۔ اللہ کے گھر سے لے کر مساجد، مدارس، دینی محافل، اجتماعات تک میں لاک ڈائون ہے۔ اللہ کی ناشُکری، اَن گنت نعمتوں کی ناقدری نے آج ہمیں اس حال تک پہنچایا ہے کہ اِک توبہ کے دروازے کے سوا سب دَر بند ہیں اور اب صرف توبہ، استغفار کی کثرت ہی اس آفت، بلا کو ٹال سکتی ہے۔ قہرِاللہ کو رحمت ِ خداوندی میں بدل سکتی ہے۔
ابھی چند روز قبل امامِ کعبہ نے بھی بہت رو رو کے، گڑگڑا گڑگڑا کے پروردگار کے حضور ایک عرضی ڈالی ہے کہ ’’یا ارحم الراحمین! ہمارے ضعف پر خصوصی رحم فرما دے۔ یااللہ! حرمین شریفین پر آئی بلا کو جلد ازجلد دفع کر۔ ہمیں طواف ِ کعبہ اور اپنے پیارے نبی ؐ کے روضے پر درود و سلام سے محروم نہ رکھ۔ نماز ِ جمعہ اور باجماعت نمازوں کی ادائیگی سے محروم نہ فرما۔ ہمیں ہمارے نبی کریم ؐ نے مشکلات میں نمازوں کے ذریعے تیری طرف لپکنے کا حُکم دیا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم پر جب کوئی مصیبت آئی، ہم تیری پناہ میں آتے ہیں، ہمیں اپنے گھر، مسجدوں سے مت نکال۔ ہم بے بس و لاچار تیرے دَر پہ کھڑے ہیں، ہمیں اپنی جناب سے نامُراد نہ لوٹا۔ یااللہ! اس وبا کو گناہ گاروں، عاصیوں کے لیے سبب ِ مغفرت بنا دے اور ظالموں، جابروں کے لیےخوف و پسپائی کا۔ تُو ہم پر ہمیشہ سے مہربان ہے، اپنا مزید رحم عطا فرما دے۔ ہمیں عذاب نہ دے کہ تُو اس پر قادر ہے، تقدیر کے معاملے میں ہم پر شفقت فرما۔‘‘
ہر اہلِ کتاب، خصوصاً ہر مسلمان کا اس بات پر پختہ ایمان ہے کہ دُنیا میں جو بھی دُکھ سکھ، غم خوشی ملتی ہے، وہ مِن جانب اللہ ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’مومن کو کوئی بھی بیماری، تکلیف حتیٰ کہ کانٹا بھی اللہ کی رضا کے بغیر نہیں چُبھتا۔‘‘ تو جو لوگ بڑے وثوق سے یہ دعوے کر رہے ہیں کہ وبائیں عذاب نہیں ہوتیں ،تو وہ جان لیں کہ وبائیں عذاب ہوتی ہیں یاثواب، مگر ٹلتی اللہ ہی کے حُکم، رضا سے ہیں۔ اور اللہ کو راضی کرنے کی ایک ہی صُورت ہے کہ مَن مرضی کے بجائے اُس کی رضا میں راضی رہنے کا وصف اپنایاجائے۔ ہر حال میں صبرو شُکر اور توبہ استغفار کو وردِ جاں، وظیفۂ زباں رکھا جائے۔ جب وجہ ِ تخلیقِ کائنات، محسنِ انسانیت ﷺ دن میں ستّر بار سے زیادہ اللہ سے مغفرت طلب کیا کرتے تھے، تو ہم کیا اور ہماری بساط کیا۔ وہ کسی نے ایک پوسٹ شیئر کی ہے کہ ’’اللہ نے لوگوں کو مسجدوں، خانقاہوں، مندروں، کلیسائوں سے نکال دیا ہے کہ جائو پہلے حقوق العباد ادا کرو، پھر حقوق اللہ کی طرف آنا۔‘‘ مگر تاحال تو حقوق العباد کی ادائیگی کا جو عالم ہے، لگتا نہیں کہ یہ منزل جلد حاصل ہو پائے گی۔
ابھی تک تو ہم کووڈ19 کے خلاف لڑنے والی اپنی سب سے اہم ،فرنٹ لائن فورس ہی کے بنیادی حقوق ادا نہیں کر پا رہے۔ قوم کے مسیحا، معالجین، پیرا میڈیکس محض حفاظتی کِٹس کی عدم فراہمی کے سبب اپنی جانوں سے تو ہاتھ دھو ہی رہے ہیں، حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر لاٹھیاں بھی کھارہےہیں اور جیل کی ہوا بھی۔ ذرا سوچیے، اگر فوج کو محاذ ِ جنگ پر بغیر ہتھیار، لڑنے بھیج دیا جائے تو اس جنگ کا نتیجہ کیا ہو گا۔ آج ہم عملاً اپنے ڈاکٹرز کے ساتھ یہی کر رہے ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز، پیرامیڈیکس سے لے کر انتہائی تجربے کار معالجین تک ہمارا قیمتی اثاثہ صرف پی پی ای (Personal Protection Equipment)نہ ہونے کے سبب دائو پر لگا ہے اور ہمیں اگلے الیکشن کی تیاری کے لیے ’’ٹائیگر فورس‘‘ کی تشکیل کی پڑی ہے۔
دُنیا رو رہی ہے کہ ؎ بدل کے رکھ دیئے ہیں اس وبا نے … جو معمولات تھے دنیا میں رائج … نہ جانے حضرت ِ انسان کو کیا کیا… بھگتنے ہوں کورونا کے نتائج۔ مگر ہماری نالائقی اور ہٹ دھرمی کے سبب ہمیں آج بھی اپنی ترجیحات کے تعیّن اور درست فیصلوں کی توفیق نہیں ہو پارہی۔ سچ تو یہ ہے کہ دنیا نے اربوں، کھربوں روپیا اگر جنگی تیاریوں اور دفاعی ہتھیاروں کے بجائے عوام النّاس کو تعلیم و صحت جیسی بنیادی ضرورتوں کی فراہمی پر لگایا ہوتا، تو آج دنیا کا نقشہ یقیناً مختلف ہوتا ۔
نوول کورونا وائرس دنیائے طِب ہی کے لیے ایک نیا چیلنج نہیں، اس سے متعلق انسانی مزاج، رویّوں، عمومی نظریات و خیالات میں بھی خاصی تفاوت دیکھنے میں آرہی ہے۔ کوئی اسے حیاتیاتی ہتھیار قرار دے کر دلیل میں متعدد سازشی تھیوریز پیش کر رہا ہے، تو کوئی قرب ِ قیامت کی نشانی کہہ کر ظہور امام ِ مہدیؑ، دجاّل کی آمد کے قصّے کہانیاں سُنا رہا ہے۔ کوئی سخت ترین احتیاطی تدابیر اپنا کر بھی بےحد خوف زدہ ہے، تو کوئی ان باتوں کو سرےسےخاطر ہی میں نہیں لا رہا۔ حالاں کہ حقیقتاً سب سے بہتر راستہ، دینِ اسلام کا طےشدہ ’’اعتدال کا راستہ‘‘ ہے۔ جو اونٹ کی رسّی باندھ کر توکّل کرنے کا حکم دیتا ہے اور اس ضمن میں نبی ﷺ کی بھی واضح تاکید ہے کہ ’’جب تم سُن لو کہ کسی جگہ وبا پھیل رہی ہے، تو وہاں مت جائو، لیکن جب کسی جگہ وبا پھوٹ پڑے اور تم وہیں موجود ہو، تو اس جگہ سے نکلو بھی مت۔‘‘ (صحیح بخاری، حدیث نمبر5728) تو دورِ حاضر کی یہ لاک ڈاؤن، سوشل ڈسٹینسینگ جیسی اصطلاحات اور اقدامات درحقیقت اسی حدیث مبارکہ ؐ کی عملی تفسیر ہیں۔ اور فی الوقت ہماری بھلائی و تحفّظ بھی اِسی کو حرزِ جاں بنانے میں ہے۔بحیثیت مسلمان نااُمیدی ہمارے لیےکفرکے مترادف ہے اور پھر ربّ ِ کریم کا اپنا مہینہ، ماہ ِ صیام چند قدموں کی مسافت پر ہے۔ ہمیں اپنے اعمال کی تمام تر بدصورتیوں کے باوجود یہی گمان رکھنا چاہیےکہ اُس ستّر مائوں سے زیادہ چاہنے والے ربّ کے غصّے، جلال پر جلد اُس کی رحمت و شفقت غالب آجائے گی۔ بس، اِک بار اُس کے سامنے سجدہ ریز ہو کر سچّے دل، پورے خلوص و ایمان داری کے ساتھ کامل توبہ کرنی ہوگی۔
وہ تو ایسا غفّار و ستّار ہے کہ اپنے بندے کی توبہ کا نہ صرف انتظار کرتا ہے، بلکہ اُس کی ذرا سی شرم ساری، عاجزی و انکساری، تنہائی میں خوف ِ خدا سے بہائے ایک آنسو کی ایسی لاج رکھتا ہے کہ پھر اُس کے پھیلے ہاتھوں کو خالی لوٹاتے اُسےحیا آتی ہے۔ جب کہ دُعا یا توبہ کے بعد صدقہ خیرات وہ بہترین عمل ہے کہ جو مالک کےغیظ و غضب، جاہ و جلال کو باآسانی ٹال سکتا ہے۔ ہادی عالم ؐ کا ارشاد ہے ’’صدقہ دینے میں جلدی کرو کہ مصیبت اُسے پھاند کر نہیں آئے گی۔ یعنی صدقہ انسان اور مصیبت میں آڑ بن جاتا ہے اور بلاشبہ صدقہ اللہ جل شانہ کے غصّے کو بُجھاتا اور بُری موت سے حفاظت فرماتا ہے۔‘‘ تو، توبہ استغفار کےساتھ اگر آفت کی اس گھڑی میں اصل مستحقین مجبوروں، ضرورت مندوں تک رسائی پا کے اپنے صدقات، خیرات و زکوٰۃ سے اُن کی مدد کی بھی سعی کی جائے تو عین ممکن ہے کہ ہماری یہ سزا جلد معاف ہو جائے۔ وہ مختار ِ کُل، منصفِ اعلیٰ ہے۔ ساری مرضیاں، اختیارات اُسی کے ہیں۔ وہ جب چاہے ’’سوموٹو‘‘ لے سکتا ہے، تو جب چاہے کسی کو تختۂ دار سے اُتار کر رہائی کا پروانہ تھما دے۔
اُس کی کائنات، اُس کی مرضی۔ وہ ایک ننّھی مُنی معصوم سی بچّی بڑے بھول پَن سے اپنے دادا سے پوچھ رہی تھی ناں کہ ’’لیکن دادا! اگر اذانیں دینے سے بھی فرق نہ پڑا تو …؟‘‘ تو دادا نے بڑے گلوگیر لہجے میں کہا ’’تو پھر بیٹا! انہیں چاہیے 10 روپے والا ماسک10 روپے میں فروخت کرکے دیکھیں، شاید اللہ کو ان پر رحم آجائے۔‘‘
8؍اکتوبر 2005ء کے ہول ناک زلزلے کے بعد پوری قوم نہ صرف یہ کہ مجتمع، یک دل و یک جاں ہوئی بلکہ رب کی ناراضی دُور کرنے کی ہر حتی الامکان سعی بھی کی گئی۔ اُس وقت ایک دعا ہر اِک لب پر تھی۔ اور آج، ایک بار پھر ہاتھ اٹھائے اُسی دعا کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے دہرانے کی ضرورت ہے۔ تو آئیے، ہمارے ساتھ آپ سب بھی اس دُعا میں شریک ہو جائیے ؎ اے خدا، اے خدا تیرے بندے ہیں ہم… ہم گناہ گار ہیں، ہم سیاہ کار ہیں… اے خوشی کی دھنک، رحمتوں کے فلک… زندگی تُونے دی، آگہی تُونے دی … جب اندھیرے ہوئے، روشنی تُونے دی… تُونے مٹّی کو بھی کردیا محترم… اے خدا، اے خدا، تیرے بندے ہیں ہم… ہم گناہ گار ہیں، ہم سیاہ کار ہیں… خواب بخشے حسیں، نیندیں آنکھوں کو دیں… دل کے اِس ساز میں دھڑکنیں بھی رکھیں… کوئی تجھ سا سخی، اے خدایا نہیں… کیسے کیسے کیے تُو نے ہم پہ کرم… اے خدا، اے خدا تیرے بندے ہیں ہم… ہم گناہ گار بھی، ہم سیاہ کار بھی… دولتیں، کرسیاں بن گئیں سب کی جاں… یہ ہوس کھا گئی پیار کا آسماں… پھول جلنے لگے، کھو گئیں تتلیاں… باغِ دل بن گیا، جیسے دشت ِ الم … اے خدا، اے خدا تیرے بند ے ہیں ہم… ہم گناہ گار بھی، ہم سیاہ کار بھی… اے خدا رحم کر، بھیج رحمتیں اِدھر… پھر بہار آئے گی، ہم کو دے یہ خبر… پیار سے پھر بَھریں گائوں، قصبے، نگر… رنگ و خوشبو لکھے پھر ہمارا قلم… اے خدا، اے خدا تیرے بندے ہیں ہم… ہم گناہ گار ہیں… ہم سیاہ کار ہیں۔
اسکول گونجیں گے بچّوں کی کھکھلاہٹ سے…
کورونا کی وحشت و دہشت نے کس کو متاثر نہیں کیا۔ اہلِ قلم، خصوصاً شعراء تو اپنی طبعِ حسّاس کے سبب کچھ اور بھی متفکّر و پریشاں ہیں، مگر حقائق کے بیان کے ساتھ لوگوں کو خوش اُمیدی کا درس بھی دے رہے ہیں کہ اس وائرس کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار ’’انسانی قوتِ مزاحمت و مدافعت‘‘ ہی ہے، تو مایوسی، نااُمیدی کی بات کہیں اُسے کمزور نہ کردے۔ اس ضمن میں مُلک بھر کےروزناموں میں معروف شعراء کی رباعیاں تو مسلسل شایع ہو ہی رہی ہیں۔ معروف جیّد صحافی، منفرد اُسلوب کے حامل، معتبر کالم نگار اور بےحد حسّاس شاعر، محمود شام نے بھی ’’کچھ دِنوں کے لیے‘‘ کے عنوان سے ایک شان دار نظم کہی ہے ؎ ہے اہلِ ذوق یہ تنہائی کچھ دِنوں کے لیے… رُکی ہے انجمن آرائی کچھ دِنوں کے لیے… مصافحے بھی سرِ عام ہوں گے، جپھی بھی… ہے امتناع شناسائی کچھ دِنوں کےلیے… طواف، سعی، نوافل اُسی طرح ہوں گے… عبادتوں میں ہے پسپائی کچھ دِنوں کے لیے… گلاب چہرے کِھلیں گے روش روش پھر سے… چِھنی ہے شہر سے رعنائی کچھ دِنوں کے لیے… اسکول گونجیں گے بچّوں کی کھکھلاہٹ سے… دَبا ہے شورِ توانائی کچھ دِنوں کے لیے… نہ جانے کتنےسمندر ہوں ایک قطرے میں… ملی ہے فرد کو یک جائی کچھ دِنوں کے لیے… کُھلیں گے سب پہ خود اپنے وجود کے اسرار… زہے نصیب یہ شنوائی کچھ دِنوں کے لیے۔ اسی طرح ڈاکٹر اسد مصطفیٰ کے بھی کچھ اشعار ہیں ؎ شہر مُردہ ہیں، مگر عہدِ بشر زندہ ہے… سجدۂ شُکر ابھی دل کا نگر زندہ ہے… اپنے سائے سے بھی ملتے ہوئے گھبراتا ہوں… مجھ میں پنہاں ہے کوئی خوف کہ ڈر زندہ ہے… تخلیہ آج ضروری ہے تو اُس کی خاطر… اپنی خاطر تو اسدؔ بارِدگر زندہ ہے۔
جب کہ نوجوان نسل کے پسندیدہ شاعر وصی شاہ نے ربّ ِ کریم کی رحمت و شفقت سے کسی حال میں مایوس نہ ہونے، اُس 70 ماؤں سے زیادہ چاہنے والے کی چاہت و الفت، رحمت و مغفرت کچھ اس طور آزمانے کا درس دیا ؎ بے قراری میں صدا دے، مَیں تِری سُن لوں گا…رو کے بس ہاتھ اُٹھا دے، مَیں تِری سُن لوں گا… گر ندامت سے تیری کُھل نہیں پاتی ہے زباں… تو فقط ہونٹ ہلادے، مَیں تری سُن لوں گا… شدّ تِ غم سے نکل نہیں پاتی گر آواز… مجھ کو خاموش صدا دے، مَیں تری سُن لوں گا… اتنا مایوس نہ ہو، اتنا بھی بے بس نہیں تُو… دل میں اِک حشر اُٹھا دے، مَیں تری سُن لوں گا۔
اور شاید، یہ ان ہی اُمید افزا، پُراشک و پُرتاثیر افکار و خیالات کا ثمر ہے کہ گھٹاٹوپ اندھیروں سے یکے بعد دیگرے روشنی کی کرنیں پُھوٹنے لگی ہیں۔ 70، 80 برس کےبزرگ زندگی و موت کی جنگ لڑکے شفا یاب ہو رہے ہیں، اُردن میں کو وڈ 19 سے متاثرہ خاتون کے یہاں ایک مکمل طور پر صحت مند بچّی، جُمان(موتی، مروارید)نے جنم لیا ہے اور امید ہے کہ اس موتی کی چمک سے بھی کچھ ضیاء بڑھےگی۔ مرض کے خلاف ویکسین کی تیاری میں خاصی پیش رفت ہوئی ہے۔ کورونا سے صحت یاب ہونےوالےپاکستان کےبہادرنوجوان، یحیٰ جعفری نے امیونائزیشن پیسیو تیکنیک کےلیے اپنا پلازما عطیہ کیا ہےاوریہ عطیہ دیتے ہوئے جو الفاظ کہے، وہ بھی یادگارہیں کہ ’’یہ وائرس کچھ ہی عرصے بعد تاریخ کا حصّہ بن جائے گا، لیکن جو یاد رہے گا، وہ ہے، ہمارا حوصلہ و ہمّت، عزم و ارادہ۔‘‘ وائرس کو جنم دینے والا شہر، ووہان لگ بھگ چار ماہ وینٹی لیٹر پر سانسیں لینے کے بعدایک بار پھر جی اُٹھا ہے۔ اس وائرس نے امیر غریب، گورے، کالے کی تمیز ختم کر دی ہے، گویا ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایّاز۔ دنیا کو آج اُن ریاستوں کا درد کہیں شدّت سےمحسوس ہو رہا ہےکہ جوعرصے سے جبری لاک ڈاؤنز کاعذاب سہہ رہی ہیں۔
پوری دنیا جنگوں، ہتھیاروں کی بات چھوڑ کر ایک دوسرے کی مدد، تعاون، ہم دردی و دل جوئی کی بات کر رہی ہے۔ اِک نا دیدہ جرثومے نے دنیا کو دوبارہ اپنے خالق سے جوڑ دیا ہے، اُس سے رجوع پر مائل کیا ہے۔ انسان کی سوئی بلکہ مُردہ انسانیت ایک بار پھر بیدار ہونے لگی ہے۔ تقریباً پوری دنیا سے عیش و طرب کے مراکز بند ہوگئے ہیں۔ ٹوٹے بکھرے خاندان، پھر سے یک جا ہو رہے ہیں، اکائی بن رہے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ٹیکنالوجی کو خدا ماننے والے آج ربّ ِ حقیقی کے سامنے سر بسجود ہیں۔ رو رو کے توبہ استغفار کر رہے ہیں۔ اپنی بد اعمالیوں، گناہوں کی معافی کے خواستگار ہیں۔
اور… وہ بالآخرمان بھی جائے گا۔ جلد یا بدیر اُسے اپنی کم تر، عاجز مخلوق پر رحم آجائے گا کہ سچ تو یہی ہے کہ ؎ مندی ہاں کہ چنگی ہاں، صاحب تیری بندی ہاں۔ ہم اچھے، بُرے، بد ، نیک، جیسے بھی ہیں، اُسی کی تخلیق ، اُسی کی مخلوق ہیں۔ وہ ہمارا خالق و مالک ہے، تو رازق و پالنہار بھی۔ اس کے عفو و کرم کی کوئی حد نہیں۔ اُس کے ایک بار پھر ’’کُن‘‘ کہنے کی دیر ہے اور کاروبارِ حیات ایسے رواں ہوگا، جیسے کبھی تھما ہی نہ تھا اور تب ؎ اسکول گونجیں گے بچّوں کی کھکھلاہٹ سے۔