• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معطل سجاد باجوہ کیخلاف تحقیقات اختلاف رکھنے والے افسر کے سپرد

کراچی (اسد ابن حسن) ایف آئی اے افسر ایڈیشنل ڈائریکٹر سجاد مصطفی باجوہ، جن کو چینی انکوائری میں مبینہ جانبداری برتنے پر معطل کیا گیا، ان کے خلاف تحقیقات اُس افسر کو دے دی گئی ہے جس سے گزشتہ چند دنوں میں سخت دفتری اختلافات رہے تھے اور معطل افسر نے ان کے خلاف ڈائریکٹر جنرل کو ایک مراسلہ بھی تحریر کیا تھا۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر سجاد مصطفی باجوہ نے ڈی جی کو خط تحریر کرنے کی تصدیق کی۔ ”جنگ“ کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق معطل افسر، سائبر کرائم سرکل لاہور میں بطورا یڈیشنل ڈائریکٹر تعینات تھے اور ان کو چینی اسکینڈل کمیشن میں مختلف ٹیموں کی تشکیل کے بعد ایک ٹیم کا سربراہ تعینات کردیا گیا۔ اُنہوں نے ایک مراسلہ تحریر کیا کہ ان کو تحقیقات میں معاونت کیلئے تین افسران دیئے جائیں اور اُنہوں نے جن افسران کیلئے درخواست اور سفارش کی ان میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر نعیم اختر جو اس وقت EGOA سرکل میں تعینات تھے، سب انسپکٹر غلام عباس تعیناتی کرتارپور نارووال امیگریشن اور سب انسپکٹر سیما فردوس تعیناتی زونل آفس لاہور شامل تھے۔ اس درخواست پر 10 اپریل کو مذکورہ تینوں افسران کی تعیناتی سجاد مصطفی باجوہ کی ٹیم میں شامل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری ہوگیا۔ مگر حیرت انگیز طور پر ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نارتھ ابوبکر خدا بخش نے ڈائریکٹر ایڈمن اسلام آباد ہیڈکوارٹر کو ایک مراسلہ تحریر کیا جس میں اسٹاف کی کمی کا جواز بناتے ہوئے صرف غلام عباس کو مذکورہ ٹیم کا ممبر بنایا مگر باقی دونوں طلب شدہ افسران AD نعیم اختر اور SI سیما فردوس کی جگہ AD ملک شیراز احمد اور SI شکیل احمد کو ان کی ٹیم میں پوسٹ کردیا۔ اس حوالے سے باجوہ نے ڈی جی کو ایک شکایتی خط بھی تحریر کیا۔ دوسری طرف معطل سجاد مصطفی باجوہ نے اپنی معطلی کے حوالے سے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے واجد ضیاء کو گزشتہ روز مراسلہ تحریر کیا ہے اس میں بہت سے اہم نکات اُٹھائے گئے ہیں۔ اس حوالے سے ”جنگ“ سے بات کرتے ہوئے معطل ایڈیشنل ڈائریکٹر سجاد مصطفیٰ باجوہ نے تصدیق کی کہ اُنہوں نے گزشتہ روز ڈی جی ایف آئی اے کو خط بھجوایا تھا اور اس میں کئی نکات اور اپنی معطلی کے حوالے سے الزامات پر تفصیلی جواب دیا تھا۔ اُنہوں نے مزید اس موضوع پر بات کرنے سے انکار کیا۔ دوسری جانب ملک میں چند ماہ ہونے والی دوسری اہم تحقیقات جو اربوں روپے کی آئی پی پی ایز میں کرپشن سے متعلق تھی اور جس کی 394 صفحات پر مشتمل رپورٹ حکومت نے جاری کی ہے، اس کے ممبران میں بھی حیرت انگیز طور پر ایف آئی اے کے معطل شدہ ایڈیشنل ڈائریکٹر سجاد مصطفی بھی شامل تھے۔ اُنہوں نے ایف آئی اے کی نمائندگی کی تھی۔ مذکورہ کمیشن کے سربراہ چیئرمین محمد علی تھے جبکہ کمیٹی سلمان رحمان، ایس ای سی پی سے محمد نعمان اختر، سی پی پی اے زبیر محمود، ایس پی سی سی سے فائزہ یعقوب، ایف آئی اے سے سجاد باجوہ، آئی ایس آئی سے لیفٹیننٹ کرنل (ر) جاوید جہاں اور سیکرٹری نعمان خان شامل تھے۔

ملک بھر سے سے مزید