• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:ناصر اکبر۔۔اوسلو
ناروے میں لاک ڈاؤ ن کی نرمی کے بعد پچاس لوگ سماجی فاصلے کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کر سکتے ہیں لیکن اگرایک مسجد میں 50 لوگوں کے ساتھ تین بار بھی عید کی نماز پڑھائی جائے تب بھی ناروے میں موجودتمام مسلمان نماز عید نہیں پڑھ سکتے۔ لیکن یورپ اور پوری دنیا میں جہاں کورونا وبا کے پیش نظر مکمل لاک ڈاؤن ہے وہاں اس صورتحال کے پیش نظر وہ گھروں میں ہی عید کی نماز پڑھ سکتے ہیں۔آئی سی سی النا مسجد کے امام محمد اسجد ،رضی الاسلام ندوی( سیکرٹری شریعہ کونسل ہند ) نے اس مسئلے میں رہنمائی کی ہےکہ شرعی اور فقہی اعتبار سے عیدالفطرکی نماز اس صورتحال میں کس طرح ادا کریں۔ نماز عید الفطر سنّتِ مؤکدہ (احناف کے نزدیک واجب) ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پابندی سے اسے ادا کیا ہے اورمسلمانوں کو اس کی ادائیگی کی بہت تاکید کی ہے۔ آپ آبادی سے باہر عید گاہ تشریف لے جاتے تھے اور تمام مسلمانوں کو بھی اس کا حکم دیتے تھے۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ عام حالات میں تمام مسلمانوں کو نمازِ عید کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔ لیکن اگر لاک ڈائؤن یا کسی وبا کی وجہ سے عید گاہ ، جامع مسجد یا پنج وقتہ نمازوں کی مسجد میں نمازِ عید نہ پڑھی جاسکے تو کیا گھروں میں پڑھی جا سکتی ہے؟ اگر ہاں تو اس کا طریقہ کیا ہو؟ اس تعلق سے ذیل میں چند باتیں عرض کی جارہی ہیں۔نفل نمازوں میں سے ایک نمازِ چاشت (صلاۃ الضحٰی) ہے،اس کا وقت طلوعِ آفتاب کے کچھ دیر کے بعد سے زوال تک ہے۔احادیث میں اس کی فضیلت بیان کی گئی ہے،بعض احادیث میں 2 رکعت اور بعض میں 4 رکعت کا ذکر ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیںرسولﷺ نے مجھے دو رکعت نماز چاشت پڑھنے کی تاکید کی ہے۔ (مسلم721) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کم از کم 4 رکعت چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے۔ (مسلم719)۔ کتبِ فقہ میں ایک بحث یہ ملتی ہے کہ اگر کسی شخص کی نمازِ عید چھوٹ جائے تو وہ کیا کرے؟ فقہاء نے لکھا ہے کہ اسےنمازِ چاشت ادا کرلینی چاہیے،موجودہ صورت حال کو اس پر قیاس کیا جاسکتا ہے۔ بعض فقہاء (مالکیہ و شوافع) کی رائے ہے کہ گھر پر نماز ادا کرنے والا صرف دو رکعت پڑھے گا ، جیسے عید کی نماز ہوتی ہے اوراس میں وہ نمازِ عید کے مثل زائد تکبیرات کہے گا،اس کی دلیل بعض صحابہ کا عمل ہے۔ایک مرتبہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی نمازِ عید چھوٹ گئی تو انھوں نے اپنے گھر والوں کو جمع کیا اور نمازِ عید کے مثل تکبیرات کے ساتھ 2 رکعت نماز ادا کی(بیہقی ، فتح الباری)۔ جب کہ بعض فقہاء (احناف) کہتے ہیں کہ وہ چار رکعت نماز ادا کرے گا، اس کی دلیل بعض صحابہ کے عمل سے فراہم ہوتی ہے۔حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے،جس شخص کی نماز عید چھوٹ جائے وہ 4 رکعت نماز پڑھے، حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ ایک شخص کو حکم دیا کہ جو بوڑھے لوگ عید گاہ نہ جاسکتے ہوں انہیں مسجد میں جمع کرے اور انہیں 4 رکعت نماز پڑھائے۔اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی وجہ سے نمازِ عید مسجد میں نہ پڑھی جاسکے تو گھر پر 2 رکعت یا 4 رکعت باجماعت پڑھ لینی چاہیے۔ نماز عید الفطر کا ایک حصہ خطبہ ہے،نمازِ جمعہ کے برخلاف عید میں خطبہ نماز کے بعد دیا جاتا ہے، گھروں میں ( نمازِ عید کےبجائے) صلاۃ الضحٰی (نمازِ چاشت) پڑھنے کی صورت میں خطبہ دینے کی ضرورت نہیں۔
تازہ ترین