آپ آف لائن ہیں
پیر21؍ذیقعد 1441ھ 13؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

طالبان کو روسی انعام کی پیشکش

کراچی (نیوز ڈیسک) وائٹ ہائوس نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بدلے طالبان کو روسی انعام کی پیشکش کی تردید کے بعد اب تصدیق کردی ہے۔

امریکی صدر کے دفتر وائٹ ہائوس کے اعلیٰ حکام نے بتایا ہے کہ انہیں روس کی جانب سے طالبان کو دی گئی پیشکش کے بارے میں علم تھا تاہم اس کی تفصیلات صدر ٹرمپ کو نہیں بتائی گئی تھی ۔

وائٹ ہاؤس نے روس کی ملٹری انٹیلی جنس یونٹ کی جانب سے طالبان کو امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کے بدلے انعام کی پیش کش کی معلومات صدر ٹرمپ تک نہ پہنچانے کے معاملے پر دفاعی پوزیشن اختیار کی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کے لیغ مکینینی نے پیر کو کہا ہے کہ امریکا کے صدر تک کوئی بھی معلومات پہنچانے سے قبل اس کی تصدیق کرنا ضروری ہے اور اس معاملے میں تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔

البتہ امریکی اخبار ʼنیو یارک ٹائمز نے پیر کو دو عہدے داروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یہ معلومات فروری میں صدر ٹرمپ کو روزانہ دی جانے والی بریفنگ میں موجود تھیں۔

ڈیموکریٹس کے ارکان نے اس ضمن میں وائٹ ہائوس کی بریفنگ کو ناکافی قرار دیدیا ہے۔ روس کی جانب سے امریکی فوجیوں کو نقصان پہنچانے کی انٹیلی جنس معلومات کے معاملے پر نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف، قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن اور وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف مارک میڈوس نے ایوانِ نمائندگان کے آٹھ ری پبلکن اراکین کو بریفنگ بھی دی ہے۔بریفنگ کے بعد دو ری پبلکن اراکین نے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

میک تھورن بیری اور لز چینی نے بریفنگ کے بعد اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ روس یا کسی دوسرے ملک کی جانب سے ہماری افواج کو نشانہ بنانے سے متعلق کسی بھی معلومات کا بھرپور طریقے سے تعاقب کیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب جان ریٹکلف اور سی آئی اے کی ڈائریکٹر جینا ہیسپل نے پیر کو بیانات جاری کیے ہیں جس میں انہوں نے اس انٹیلی جنس معلومات کو ہینڈل کرنے کا دفاع کیا اور میڈیا میں اس سے متعلق خبریں لیک کرنے پر تنقید کی ہے۔ریٹکلف نے کہا ہے کہ کسی بھی خفیہ معلومات کو لیک کرنے سے انٹیلی جنس کو جمع کرنے، اس کا اندازہ لگانے اور خطرات سے نمٹنے میں خلل پڑتا ہے اور اس سے ہماری فورسز کے لیے خطرات بھی بڑھتے ہیں۔

یہ بھی ایک جرم ہے۔جان ریٹکلف نے بیان میں کہا کہ ہم ابھی تک اس مبینہ انٹیلی جنس کے بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں جو حالیہ دنوں میں میڈیا میں رپورٹ کی گئی ہیں۔

ہم صدر ٹرمپ اور گانگریس کے ارکان کو صحیح وقت آنے پر بریف کریں گے۔خیال رہے کہ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں ایک خبر شائع ہوئی تھی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے روس کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کو نظر انداز کیا ۔

جس میں روس کی ملٹری انٹیلی جنس کی جانب سے طالبان کو افغانستان میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر انعام کی پیش کش کی گئی تھی۔

دنیا بھر سے سے مزید