آپ آف لائن ہیں
ہفتہ24؍ذی الحج 1441ھ15؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

وفاقی وزرا نے ایک بار پھر اپنی اس پیش گوئی کو دہرایا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرے گی۔ اس مرتبہ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی پیش گوئی کر دی ہے کہ وزیراعظم عمران خان بھی اپنی مدت پوری کریں گے۔ یہ پیش گوئیاں شیخ رشید احمد اس وقت کرتے ہیں، جب وفاقی حکومت اور وزیراعظم عمران خان کے مستقبل کے بارے میں بہت سے سوالات کئے جاتے ہیں اور بڑے پیمانے پر قیاس آرائیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وفاقی وزیر ریلوے اس طرح کے بیانات شعوری یا لاشعوری طور پر اس وقت دیتے ہیں، جب لوگوں کو ان کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ صرف شیخ رشید احمد ہی نہیں بلکہ دیگر وفاقی وزرا اور تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ خود وزیراعظم عمران خان بھی وفاقی کابینہ اور پارٹی کے اجلاسوں میں یقین دلا رہے ہوتے ہیں کہ ان کی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔

ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ حکومت اپنی آئینی میعاد مکمل کرے گی یا نہیں اور اس طرح کے بیانات کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے؟ اگر فرض کر لیں کہ حکومت کے ساتھ ساتھ وزیراعظم عمران خان کو بھی پانچ سال تک کوئی ہٹا سکتا تو یہ کوئی بڑا کارنامہ نہیں ہوگا۔ حکومت کی جو کارکردگی اب تک رہی ہے، اگر حکومت اسی طرح کی کارکردگی کے ساتھ پانچ سال تک چلے گی تو اس میں نہ تو تحریک انصاف کی کوئی سیاسی فتح ہے اور نہ ہی ملک اور عوام کو کوئی فائدہ ہے۔ عوام نے پاکستان تحریک انصاف کے جس منشور اور اس کی قیادت کے جن وعدوں پر انہیں مینڈیٹ دیا ہے، اسی منشور پر عملدرآمد اور وعدوں کی تکمیل کے لئے حکومت کو کام کرنا چاہئے۔ اگر وہ ایسا نہیں کر سکی تو پانچ سال خراب کارکردگی کے ساتھ صرف حکومت کو بچانے کی کوششوں میں وقت گزارنا تو کوئی کارنامہ نہیں ہوگا۔ آدھی مدت ختم ہونے کے بعد بھی اگر وزیراعظم کابینہ کے اجلاس میں کابینہ کے ارکان کوچوتھی بار خبردار کر رہے ہوں کہ ’’کارکردگی دکھائیں، ورنہ گھر جائیں‘‘۔ تو یہ صرف حکومت کیلئے نہیں بلکہ سب کے لئے تشویشناک بات ہے۔ اگر اس سیاسی جماعت یعنی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی بہتر نہ ہوئی تو تحریک انصاف سمیت سب سیاسی جماعتیں، سیاست دان اور خود سیاست گالی بن جائیں گے اور یہ پاکستان کے عوام کا اپنی تاریخ میں سب سے بڑا نقصان ہوگا، جو پاکستان میں جمہوری، منصفانہ اور اعلی سیاسی اقدار والا معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔

حکومت اپنے انداز حکمرانی سے نہ صرف لوگوں کو متاثر نہیں کر سکے بلکہ لوگوں کی توقعات اور امیدوں کے برعکس ہونے لگا۔ دو سال میں مہنگائی، بےروزگاری اور غربت میں بےتحاشا اضافے نے لوگوں کی چیخیں نکال دیں۔ معیشت پہلے سے زیادہ تباہ ہوئی۔ قرضوں میں ماضی کے مقابلے میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ کارکردگی بہتر نہ ہونے اور ناکام حکمرانی کا اعتراف نہ صرف تحریک انصاف کے پارٹی اجلاسوں میں ہو رہا ہے بلکہ کابینہ کے اجلاسوں میں بھی خراب کارکردگی کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالی جا رہی ہے۔ اس سے زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ پارٹی اور کابینہ کے اندرونی اختلافات بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ اس سے یہ تاثر بھی پیدا ہوا ہے کہ تحریک انصاف کی اب تک کی کارکردگی تو بہتر نہیں ہے لیکن اسے آئندہ بہتر بنانے کے لئے وہ ٹیم بھی نہیں ہے، جو متحد اور مخلص ہو۔ مجھے یہ بات کہتے ہوئے انتہائی دکھ محسوس ہو رہا ہے کہ موجودہ وفاقی کابینہ کے لوگ سیاسی اور دانشورانہ اپروچ سے قابلِ رحم حد تک محروم ہیں۔ کسی وفاقی وزیر کا بیانیہ سیاسی اور دانشورانہ نہیں ہے۔ وفاقی کابینہ کے کسی بھی رکن نے پارلیمنٹ میں اپنی تقریروں، پریس کانفرنسوں اور سیمینارز یا تقریبات میں اپنے خطابات میں کبھی ایسا تجزیہ پیش نہیں کیا یا کبھی ایسی گہری باتیں نہیں کیں، جن سے ان کے اپنے یا حکومت کے بہتر وژن کا اظہار ہوتا ہو۔ سیاسی، ریاست کاری اور سفارت کاری کے بیانیہ سے وہ ناواقف ہیں۔ اب تک وہ یہ تاثر پیدا کرنے میں ناکام رہے کہ یہ حکومت بردبار، دانش مند اور حالات کا گہرا ادراک رکھنے والوں کی حکومت ہے۔ جو پرانے دانشمند سیاستدان ہیں، وہ حکومت میں ہوتے ہوئے اخلاقی جرات کے ساتھ صرف یہ بات کہہ رہے ہیں کہ تحریک انصاف نے عوام سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کئے اور وہ لوگوں کا سامنا نہیں کر سکتے۔ 18ویں آئینی ترمیم نے بھی جمہوری حکومتوں کو اپنی مدت پوری کرنے کے لئے تحفظ فراہم کیا ہے اور تحریک انصاف کی حکومت کے بارے میں یہ تاثر بھی ہے کہ جو قوتیں جمہوری حکومتوں کو ہٹاتی ہیں، وہ بھی اس کے ساتھ ہیں۔ یہ حکومت پانچ سال پورے کر سکتی ہے لیکن اگر کارکردگی یہی رہی تو پھر شاید اگلی آئینی مدت کے لئے کوئی جمہوری حکومت ہی نہ بن پائے۔ حکومت 18ویں آئینی ترمیم کو رول بیک کرنے کا جو عندیہ دے رہی ہے۔ اگر اس نے ایسا کیا تو سیاست نہ صرف مکمل گالی بن جائے گی بلکہ پاکستان سیاسی عمل کی پٹری سے ایک بار پھر اُتر سکتا ہے اور وفاق کے استحکام کو بھی نقصان ہو سکتا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بنائے اور خراب کارکردگی کو ماضی کی حکومتوں، 18ویں آئینی ترمیم اور موجودہ این ایف سی ایوارڈ کے کھاتے میں نہ ڈالے۔