• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حقیقی جمہوریت کی طلب کو زندہ رکھنا بھی بہت بڑا کام ہے ورنہ مصلحتوں کی راہ اور اقتدار کی چاہ سچا نعرہ اور پکی سوچ بھی چھین لیتی ہے۔ اقتدار کی کشتی ہچکولے کھانے لگے تو نیم جمہوری فکر کو بھی مکمل جمہوری نظریات کا خیال آنے لگتا ہے، اور مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق کوئی نعرہ لبوں پر سجا کر عوام کو سر بازار لے آتے ہیں جسے اہل نظر سیاسی صورت گری تو گردان لیتے ہیں تاہم جمہوری نقش و نگار نہیں مانتے۔

یہ تاریخ وہ باب تو نہیں بھولی جب عمرانی دھرنے سے جمہوری در و دیوار لرز رہے تھے تو وہ زخمی اور نڈھال لوگ اٹھ کر ان ہاتھوں کو مضبوط کرنے پارلیمنٹ میں بیٹھ گئے جو ہاتھ کاری ضرب دینے میں پیش پیش تھے۔

چوہدری نثار علی خان کو روزانہ کی دلخراش پریس کانفرنسیں، خواجہ آصف کے تابڑ توڑ حملے، خواجہ سعد رفیق کی تیز دھار لفاظی، پرویز رشید کی طنزیہ نشتر زنی اور مشاہد اللہ خان کا شاعرانہ و عارفانہ گولہ و بارود کو پس پشت رکھ کر خورشید شاہ نے کسی اور کے بجائے پھر سے جمہوریت ہی کو پارلیمان میں کھڑے ہو کر چشم ما روشن دل ماشاد کہا تھا۔

خوف کے سائے جونہی فضا میں تحلیل ہوئے تو پھر سے نون لیگ نے کراچی تا کشمیر پیپلزپارٹی قیادت کو تختہ مشق بنانے میں دیر نہ کی۔ پھر جب بڑے میاں نے جی ٹی روڈ کی مسافت اختیار کی تو بھی پیپلزپارٹی جمہوریت کے نعرہ مستانہ کے ساتھ تھی۔ خیر دل مضطرب نے اسے کسی پر احسان نہ سمجھا جنہیں ادراک ہے ان کا یہ کہنا تھا پیپلزپارٹی نے جمہوریت پر اسٹینڈ لیا ہے ورنہ اہل قلم و قرطاس کو تو معلوم ہے کب کس نے کھانے میں شرکت ہی سے انکار کردیا۔

بچوں کو ہوسکتا ہے نہ معلوم ہو تاہم بڑوں کو معلوم ہے کہ پیپلزپارٹی نے تو نیب کے قصے کو تمام کرنے کا ارادہ بنایا تھا مگر کن کے امدادی فقدان کے سبب قانون سازی نہ ہوسکی!

پچھلے دنوں ہمارے بچپن سے شباب کے ہم عصروں تک نے کہا کہ آپ کے صریر خامہ سے بلاول بھٹو کی گونج ہے دیگر اپوزیشن کی کیوں نہیں؟ ہم نے کہا قطعی غافل نہیں : ’’اپوزیشن کی پولی پولی ڈھولکی احسن اقبال بھی بجا رہے ہیں مگر نون لیگ کی توانا اور بےخوف و خطر آواز محض شاہد خاقان عباسی ہی کی بازگشت ہے۔

روز چیلنج دینے والے شاہد خاقان عباسی کا ایک بھی چیلنج حکومت نے تاحال قبول نہیں کیا ، اسے کہتے ہیں اپوزیشن لیڈر‘‘ (14جون 2020) ۔۔۔ رہی بات مریم نواز شریف کی تو جب وہ اور اس کا ٹویٹر خاموش ہوگا ’’حکمت‘‘ کے پیرہن میں ہوگا کہ آنے والے وقتوں میں مخصوص سہاروں کو قابل استعمال بنانے کیلئے خاموشی ہزار نعمت ہے۔بلاول بولے گا تو بلاول کی بات تو ہوگی۔

پیپلزپارٹی کی خوبی ہی اس کا’’المیہ‘‘ ہے کہ قانون سازی میں یہ ماہر ہے، بات 1973کے آئین کی کریں یا 2010 کی 18ویں ترمیم کی، کچھ کیلئے یہ سب ناقابلِ برداشت ہے۔ پیپلزپارٹی جب کبھی 100 سیٹیں جیتنے کی پوزیشن میں ہو تو 50 جیت پاتی ہے کیونکہ مقابل کیلئے جو ہموار ریس ہوتی ہے اس کیلئے وہی رکاوٹوں کی دوڑ ہوا کرتی ہے۔

ہمیں جن پر ناز تھا وہ شاہد خاقان عباسی تھے لیکن پرویز رشید کی ووٹنگ کے حوالے جو اقوال عباسی سامنے آئے کہ’’ اُن سے استعفیٰ لے لینا چاہیے‘‘ ۔اس پر ہم اپنا تبصرہ فی الحال ’’محفوظ‘‘ ہی رکھتے ہیں کیونکہ 14 جون والے رشحات قلم کا ذائقہ بےمزہ ہو گا۔ جانے اسے قول و فعل کو تضاد کہیں یا لڑائی کے بعد والا مکا؟ اوپر سے ہمارے شیر ببر نے بھی کلیئر کردیا کہ وہ ’’مخلوق‘‘ والا بیانیہ ہمارا تھا ہی نہیں۔ اجی وہ ووٹ کو عزت دو والا بیانیہ تو آپ ہی کا تھا نا جس پر بلاول نے کھل کر نون لیگ کی حمایت کی۔

بلاول نے تین دن قبل پھر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مریم کا تذکرہ یوں کیا ہے کہ’’ مودی کوئی واجپائی یا من موہن نہیں، یہ بُچر آف گجرات کے بعد بُچر آف کشمیر ہے، پلوامہ واقعے کے بعد بھی وزیراعظم کہتا ہے کہ مودی الیکشن جیتے گا تو مسئلہ کشمیر حل ہوگا، پلوامہ عمل کے بعد کہا کہ مل کر نماز پڑھیں گے جبکہ انہوں نے مریم نواز کو گرفتار کر کے مودی کی نقل کی‘‘۔

بلاول کی اس بات میں دم خم ہے اور پیغام بھی۔ گویا گلوبل اور لوکل چیلنجز تقاضا کررہے ہیں کہ رنجیدگیوں کی ڈگر چھوڑ کر سنجیدگیوں کی شاہراہ پر گامزن ہوا جائے مگر حکومتی اہلکار سنجیدگی کا دامن تھامیں تو ہی یہ سب ممکن ہے۔

دو باتیں رہ رہ کر دماغ ہر دستک دیتی ہیں: (1) ضروری ہے ملک میں نوجوان قیادت ہو مگر تاریخ اور کلچر سے آشنا، خواتین بھی میدان سیاست میں آئیں مگر انہیں اپنے حلقہ و شہر کا جغرافیہ معلوم ہو، یہ نہیں کہ سسٹم پر پیراسائیٹس ہوں۔ (2) جمہوریت ہی ریاست کا حسن ہے مگر ہم اہلِ حکم کو بھی ریاست کا رومانس سمجھتے ہیں۔

ان دونوں اہم باتوں پر غور یہ کہتا ہے نوجوان وہ نہیں جو ایک دن میں تین تین پیپر کا امتحان پاس کرلیں بلکہ وہ جو جوش کے برعکس ہوش اور ڈیجیٹل گلوبل ولج کی نزاکتوں اور تعصب سے پاک تحقیق کے علاوہ شبانہ روز محنت کے عادی ہوں۔ نیوزی لینڈ سے فن لینڈ اور کینیڈا تک کئی ممالک میں نوجوان اور جوان قیادت کا عمل قابل تحسین رہا۔

جمہوریت کو جمہوریت ہی کی کسوٹی پر رکھ کر دیکھیں گے تو انسانی حقوق کی پاسداری نظر آئے گی اگر جمہوریت کو انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کی لیبارٹریوں میں لے جائیں گے تو ممکن ہے اسے مکینیکل تو بنالیں مگر یہ بے رنگ، بے بو، بے ذائقہ اور بد روح ہو جائے گی۔ مایوسی کا یہ عالم ہے کہ ووٹ کو عزت دینے والے بھی تھک گئے اور یہ حکومت بھی وعدوں کے بالکل برعکس نکلی تاہم بلاول نے جس سنجیدگی اور وسیع القلبی سے 2018 سے جو پارلیمانی سفر شروع کیا ہے۔

اگر وہ اپنے رخت سفر میں پارٹی تعلق سے ہٹ کر انسانی حقوق کی پاسداری، تعلیمی انس، امورصحت، آئین فہمی ، اسٹیٹس مین خوبی اور خالص جمہوری فکر کو لازمی حصہ بنائے رکھیں تو ملک و قوم انہیں جی آیاں نوں کہے بغیر نہیں رہ سکے گی!

تازہ ترین