• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حضرت عمرفاروقؓ اور بے مثال عہد خلافت

تحریر:- حافظ عبدالاعلی درانی ،بریڈفورڈ
(گذشتہ سے پیوستہ)
اردن، بصرہ اور فلسطین میں بڑے فوجی مراکز کے علاوہ پوری سلطنت میں مراکز قائم کیے گئے۔سرحدی اور ساحلی علاقوں کی فوج کا علیحدہ محکمہ بنایا گیا اور حضرت عبدالله بن قیس ؓکو اسکا سربراہ بنایا گیا۔ تقریباً 10 لاکھ فوج ہر وقت تیار رہتی تھیں ۔[امور حکومت]آپ نے تمام فتح ہونے والے علاقوں کو صوبوں میں تقسیم کیا۔ صوبوں میں ڈویژن بنائے گئے۔ ہر ڈویژن کے عہدیدار مقرر کیے۔ گورنر ( حاکم اعلیٰ)میر منشی ( کاتب) صاحب الخراج ( کلیکٹر) صاحب الحداث ( انسپکٹر جنرل پولیس) صاحب بیت المال ( افسر خزانہ) کاتب دیوان ( ملٹری اکاونٹنٹ) قاضی ( جج) ۔سیدنا فاروق اعظم نے خلیفہ بننے کے بہت سے کارنامے سرانجام دیئے جو آج بھی دنیا کے لیے مشعل راہ ہیں۔ ،بچوں کے وظائف مقرر کیے اور حکم دیا کہ اسلام میں ہر بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی اسکا وظیفہ مقرر کردیا جائے۔ ( البدایہ ۷/۱۳۲ ) - ( ازالتہ ۳/۲۷۴ ) آپ نے بیت المال ( خزانہ) باقاعدہ قائم کیا۔ آپ نے سب سے پہلے امیرالمومنین کا لقب استعمال کیا۔ فوج کے لیے باقاعدہ دفتر قائم کیے اور بہت سی اصلاحات کیں۔ زمین کی پیمائش کا قاعدہ جاری کیا۔ مردم شماری کروائی۔ نئے شہر آباد کروائے ۔جن میں بصرہ، جزیرہ، فسطاط ( قاہرہ) اور کوفہ شامل ہیں۔ مقبوضہ علاقوں کو باقاعدہ صوبوں میں تبدیل کیا۔ نہریں کھدوائیں جن میں نہر ابوموسیٰ، نہر معقل، نہر سعد اور نہر امیرالمومنین فاروق اعظم ،حربی تاجروں کو ملک میں آنے اور تجارت کی اجازت دی ، درہ کا استعمال کیا، جیل خانہ بنوایا۔ پولیس کا محکمہ قائم کیا۔ آپ ( رضی الله عنہ ) راتوں کو خود بھی گشت کرتے اور رعایا کی حالت سے باخبر رہنے کی کوشش کرتے۔ پرچہ نویس مقرر کیے۔ راستے اور مسافروں کے لیے کنویں اور مکانات بنوائے ۔ مفلوک حال غیر مسلم کے روزینے مقرر کیے، نماز تراویح باجماعت پڑھانے کا اہتمام کیا۔ نماز جنازہ میں چار تکبیروں کا اجماع کیا۔ تجارت کے گھوڑوں پر زکوۃ مقرر کی اور گھوڑوں کی نسل میں تمیز قائم کی۔ رسول ﷺ کے حکم کے مطابق جزیرہ عرب سے یہودیوں کو باہر کردیا۔ عمال مقرر کرتے وقت مجلس شوریٰ کا اجلاس ہوتا، بعض اوقات صوبے اور علاقے کے لوگوں سے کہاجاتا کہ قابل ترین شخص کا انتخاب کرکے بھجوائیں۔ [عاملین سے شرائط ]آپ ( رضی الله عنہ) جب کسی کو عامل مقرر کرتے تو کڑی شرائط رکھتے جن میں عمدہ گھوڑے پہ نہ بیٹھنا۔ باریک کپڑا نہ پہننا اور عمدہ کھانا نہ کھانا۔ دروازہ بند نہ رکھنا کہ حاجتمند لوگ آئیں اور دروازہ بند پاکر پریشان ہوں۔ سیکیورٹی گارڈ نہ رکھنا۔ تمام عاملوں اور گورنروں کو حکم تھا کہ ایام حج میں سب آکر شریک ہوں۔ حضرت فاروق اعظمؓ خود بھی ہرسال حج پر جاتے۔ تمام صوبوں کے حکام کو نماز کے متعلق ا حکام بھیجے جاتے ۔ بیماروں کی خود بھی عیادت کرتے اور عاملوں کو بھی تلقین کرتے۔ عامل کے تمام اثاثوں کی فہرست تیار کرکے محفوظ کی جاتی اور اگر عامل کی مالی حالت میں غیر معمولی ترقی ہوتی تو اسکا مواخذہ ہوتا( فتوح البلدان) وزرا و عمال کو بلند وبالا رہائش گاہیں بنانے کی اجازت نہ تھی ( بخاری، الادب المفرد) موذنین مقرر کیے ، تاریخ طے کی اور سن ہجری ( ہجری کلینڈر) کا آغاز کیا۔ درآمدی ڈیوٹی مقرر کی اور دریائی پیداوار پر محصول لگایا اور محصل مقرر کیا۔ شراب کے 80 کوڑے مقرر کیے۔ فرائض میں عول کا مسئلہ ایجاد کیا۔ ایک ساتھ دی جانے والی تین طلاقوں کو طلاق بائن قرار دیا۔ اماموں اور مؤذنوں کی تنخواہیں مقرر کیں۔ وعظ شروع کیا۔ ہجو کہنے پر تعزیر مقرر کی۔ غزلیہ اشعار میں عورتوں کا نام لینے پر پابندی لگائی۔ [اعزازات] حضرت فاروق اعظمؓ ان دس صحابہ کرام میں سے ایک تھے جنہیں بزبان نبوت جنت کی بشارت دی گئی یعنی عشرہ مبشرہ میں آپ کا بھی شمار تھا،نیز آپ اُم المومنین حضرت حفصہ کے والد بھی تھے۔ اسطرح آپ نبی کریم ﷺ کے سسر بھی ہوئے۔ آپ ( رضی الله عنہ) کو بارگاہ رسالت ﷺ سے جنت کی بشارت کے ساتھ ساتھ کئی بار فضیلت سے نوازا گیا۔ نبی کریم ﷺ نے کئی بار آپ کی تعریف کی بلکہ ایسی بے شمار احادیث مبارکہ اور اقوال صحابہ جو آپ کی شان بیان کرتے ہیں۔ حضرت فاروق اعظم کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے چند ارشادات مبارکہ ملاحظہ فرمائیں ۔اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا، تو عمر ہوتا۔۔ ( مستدرک ۹۲ ) بےشک الله نے عمر کی زبان اور دل پر حق کو جاری کردیا۔ ( ترمذی ) اے عمر قسم اس ذات کی، جسکے قبضے میں میری جان ہے، جب تمہیں شیطان کسی رستہ پر دیکھتا ہے تو دوسرا رستہ اختیار کرلیتا ہے۔ ( بخاری ومسلم) گذشتہ امتوں میں محدث ہوتے تھے۔ پس اگر میری امت میں سے کوئی ہو تو وہ عمر بن خطاب ہیں۔ ( مسند امام الطحاوی ۹/۲۲۲ ) بے شک بنی اسرائیل میں ایسے لوگ ہوتے تھے، جنہوں نے الله سے شرف ہم کلامی پایا لیکن وہ نبی نا تھے۔ اگر میری امت میں کوئی ہوتو وہ عمر ہیں۔ ( صحیح بخاری ۱/۵۲۱ ، المصنف لابن ابی شی ۶/۳۵۶ ) میرے بعد حق عمر کے ساتھ ہوگا، وہ جہاں بھی ہو ۔ ( اخرج الحکیم الترمذی دارلصحاب ۱۵۶ ) جب تک تم میں یہ آدمی ( عمر بن خطاب) ہے، وہاں تک تم فتنوں سے بچے رہو گے۔ ( ریاض ۳۰۶ ، الخرج الطبرانی فی الاوسط) ابوبکر وعمر میرے لیے ایسے ہیں، جیسے سر میں آنکھ اور کان۔ ( صواعق محرق ۲۷۸ ، عن ابن عباس وجابر) عمر کے غصے سے بچو، جب وہ ناراض ہو جاتا ہے تو الله بھی ناراض ہو جاتا ہے۔۔۔ (ریاض : ۳۲۰ ) ایسی بے شمار احادیث نبوی ﷺ حضرت عمر کی شان بیان کرتی ہیں۔ میں نے ایسے شخص کو خلیفہ بنایا تھا کہ روئے زمین پر اس سے بہتر کوئی نہ تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ )- وعظ خیر ارشاد ۱۱۵ ) جس بات کو عمر نے رد کردیا میں اسکی تجدید نہیں کرسکتا۔( حضرت ابوبکر صدیق رضی الله - کنزالعمال ۱۲/۵٣٦) حضرت عمر کو کون پہنچ سکتا ہے، حضرت عمر کا مقابلہ کون کرسکتا ہے، عمر جیسا کون بن سکتا ہے۔۔۔ ( حضرت عثمان غنی رضی الله عنہ : تاریخ عمر : ۲۷۲ ) مجھے اس کفن پہنے ہوئے شخص سے زیادہ کوئی عزیز نہیں کہ میں اس جیسا نامہ اعمال لیکر الله تعالٰی کے حضور پیش ہوں۔۔۔ ( حضرت علی رضی الله عنہ- کتاب الاثار : ۲۱۶ ) خدا کی قسم ، حضرت عمر فاروق تیز فہم اور دوربین شخصیت تھے۔۔۔ ( اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنھا- تاریخ : ۱۲۳ ) حضرت عمر کی شہادت سے اسلام پر سخت وقت آپڑا ہے، حضرت عمر کے بعد اب مجھے زندہ رہنے کی کوئی خواہش نہیں۔۔۔ ( حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی الله عنہ – طبقات ابن سعد) حضور ﷺ نے انہیں حلال وحرام اور فقہ کا سب سے بڑا عالم قرار دیا تھا ( حضرت معاذ بن جبل رضی الله - تذکرہ : ۳۰ ) میرا حضرت عمر کی صحبت میں ایک گھڑی بیٹھنا، میری سال بھر کی عبادت سے بہتر ہے۔۔۔ ( حضرت عبدالله بن مسعود رضی الله عنہ- الزال ۱/۲۸۳ ) ایسے بے حد اقوال صحابہ کرام ( رضی الله) شان عمر بیان کرتے ہیں۔ان سب کے علاوہ مستشرقین بھی آپ ( رضی الله ) کے امور حکومت اور زندگی سے بےحد متاثر رہے اور ناصرف آپ ( رضی الله) کو بہترین رہنماوں کی فہرست میں شامل کرتے رہے بلکہ بہت سے قوانین بھی آپ ( رضی الله) سے متاثر ہوکر اپنائے اور یہاں تک کہنے پر مجبور ہوگئے اگر اسلام کو ایک عمر اور مل جاتا تو آج ساری دنیا میں اسلام کی حکومت ہوتی ۔ الله ہم سب کو انکے نقش قدم پر چلنے اور رسول ﷺ اور اصحاب رسول ﷺ کی سچی اور غیر مشروط محبت نصیب کرے اور ایک بار پھر عالم اسلام کو ان جیسا رہنما نصیب کرے۔ ( آمین یا رب العالمین) 
تازہ ترین