آپ آف لائن ہیں
ہفتہ6؍ربیع الاوّل 1442ھ 24؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جنگل کے درندے بھی ایسے درندے نہیں

تحریر:واٹسن سلیم گل۔۔۔ایمسٹرڈیم
موٹروے زیادتی کیس کی بازگشت نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں سُنی جارہی ہے۔ اس کیس میں جو کچھ ہوا اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے مگر اس کیس میں پولیس اور ہمارے سیاست دانوں کی غیر سنجیدگی نے اسے زیادہ خوفناک بنادیا، ہر طرف بحث چل نکلی ہے کہ خواتین اگر رات کو گھر سے نکلیں گی تو یہ ہوگا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں صرف وہ خواتین زیادتی کا نشانہ بنتی ہیں جو رات کو گاڑی سے نکلتی ہے یا سفر کرتی ہیں۔ یا وہ خواتین جو تنگ لباس زیب تن کرتی ہیں۔ نہی بھائ یہ جو تین اور چار سال کی بچیاں درندگی کا نشانہ بنتی ہیں اور لڑکوں کی بھی تعداد بہت زیادہ ہے جو ان حالات کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ جنسی حوس کے ذہنی مریض ہیں جو کھلے گھوم رہے ہیں اور بات یہاں ختم نہیں ہوتی پاکستان میں تو قبروں سے نکال کر زیادتی کرنے والے درندے موجود ہیں، درندے کالفظ بھی غلط استمال کر رہا ہوں کیونکہ میں نے نہیں سنایا دیکھا کہ کبھی کسی درندے نے کسی مرے ہوئے جانور کے ساتھ زیادتی کی ہو۔ خواتین کے ساتھ زیادتی اور ظلم دنیا کہ ہر ملک میں ہوتا ہے مگر پاکستان میں اس کے روک تھام کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ خواتین کے ساتھ زیادتی کرنے والے سو لوگوں میں سے صرف چار لوگ پکڑ میں آتے ہیں باقی آزاد گھومتے ہیں، پاکستان میں بچے اور

خواتین کے ساتھ زیادتی کے علاوہ ان کو قتل کر کے پھینک دینا اب عام ہوتا جارہا ہے، ہمارے حکام ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ کوئ کیس میڈیا اچھالتا ہے تو یہ حرکت میں آتے ہیں ورنہ یہ کسی کی سنتے نہیں ہیں، خبر گردش کر رہی ہے کہ بہاولپور کے علاقے میں ایک 19 سالہ لڑکی نے خودکشی کر لی، چند دن قبل ایک لڑکے نے زبردستی اس کے ساتھ زیادتی کی تھی، لڑکی اور اس کا خاندان کئی دن سے پولیس اسٹیشن کے چکر لگا رہا تھا مگر رپورٹ درج نہیں ہورہی تھی مگر آج اس لڑکی نے تنگ آکر خود کشی کر لی اور اب جب لڑکی نہیں رہی تو پولیس حرکت میں آگئی ہے، یہ انتہائی شرمناک رویہ ہے، اس کے ساتھ ہی ایک اور خبر سامنے آرہی ہے کہ شیخوپورہ کے علاقے خدا کی بستی میں پانچ شیطانوں نے خاوند کے سامنے اس کی بیوہ کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناڈالا، اس کی رپورٹ تو تھانہ میں درج ہوگئی ہے مگر متاثرین کا کہنا ہے کہ پولیس صلح کے لئے ان کو مجبور کر رہی ہے، ایک نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے اور اس بحث نے پھر قوم کو منتشر کر دیا ہے کہ زیادتی کرنے والے مجرم کے لئے کیا سزا ہونی چاہئے، کوئی کہتا ہے کہ اسے سرعام پھانسی دی جائے تو کوئی کہتا ہے کہ اسے نامرد بنا دیا جائے، ایسے بھی ہیں جو سزائے موت کے خلاف ہیں، نامرد بنائے جانے کے حوالے سے بھی طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا ہے کہ نامرد کیسے بنایا جائے گا اور کیا نامرد ہونے کے بعد یہ شخص کسی کے لئے خطرے کا باعث نہیں ہوگا۔ ڈاکٹرز کے مطابق تین طریقوں سے کسی شخص کو نامرد بنایا جاسکتا ہے پہلا یہ کہ اگر آپ ادویات دے کر کسی کو نامرد بناتے ہیں تو یہ میڈیکل کیسٹریشن کہلاتا ہے، یہ طریقہ بہت مہنگا ہوتا ہے جس میں آپ اس شخص کو ہر تین مہینے دوا دیتے ہیں یہ انجکشن بہت مہنگے ہوتے ہیں اور اس سے آپ کسی بھی شخص کو امپوٹینٹ یانامرد کرسکتے ہیں، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ کسی شخص کا آپریشن کر کے ٹیسٹوٹرون بنانے والے نظام کو ختم کر دیں، اس طریقے کو سرجیکل کیسٹریشن کہا جاتا ہے اور تیسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ اس کا اعضا سرے سے ہی کاٹ دیں، مگر یاد رکھیں کہ انسانی جسم میں جنسی صلاحیت کی ابتدا آپ کے دماغ سے ہوتی ہے، یعنی آپ کی ہوس کا تعلق آپ کی سوچ کے ساتھ جڑا ہوتا ہے آپ کا دماغ اسے کنڑول کرتا ہے، ایک عام شخص اسے کنڑول کرسکتا ہے مگر جو دماغی طور پر کمزور ہوتا ہے وہ اپنی ہوس کو پورا کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے، اس لئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس طرح کا شخص جو جنسی عمل کے قابل نہی رہتا وہ نفسیاتی مریض بن کر زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، اس بحث سے بھی بڑی بحث یہ ہے کہ قوانین بنانے ضروری ہیں یا ان پر عمل درآمد ضروری ہے، قوانین تو موجود ہیں مگر جیسے کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ صرف چار فیصد لوگ پکڑے جاتے ہیں باقی چھوٹ جاتے ہیں، ان کے بچنے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ خواتین اور ان کے گھر والے اپنی عزت بچانے کے واسطے صلح کر لیتے ہیں کچھ ڈرا دھمکا کر کیس سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں، بہت سے ایسے بھی کیس ہیں جو جرگوں اور پنچائتوں کے زریعے کم سن بچیاں دے کر جان چھڑا لیتے ہیں یعنی مرد گناہ کرتے ہیں مگر ان کے گناہ کی قیمت چھوٹی بچیوں کا چکانا پڑتی ہے، ایک حل ہے جو سمجھ میں آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر حکومت پاکستان تمام زیادتی کے کیس میں خود درخواست گزار بن جائے تو میں دیکھتا ہوں کہ کیسے مجرم بچ سکتا ہے کیونکہ ان کیسز میں درخواست گزار ہمیشہ کمزور ہوتے ہیں اور وہ دبائو برداشت نہیں کر پاتے یہ ہی وجہ ہے کہ ان کیسز میں کنویکشن ریٹ صرف چار فیصد ہوتا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ زیادتی کسی امیر اور اثررسوخ والی خاتون کی ہو یا کسی غریب یا اقلیتی خواتین کی سب کو ایک ہی آنکھ سے دیکھنا ہوگا، اب موٹر وے پر ہونے والے شرمناک واقعے پر پورے پنجاب کی حکومت، پولیس اور میڈیا الرٹ ہوگئے مگر اسی دن اور آج بھی جتنے کیسز ہیں ان میں وہ بھاگ دوڑ نظر نہیں آرہی ہے جو کہ غلط ہے، زیادتی کسی کے ساتھ بھی ہو اس کے زمہ داروں کو عبرت ناک سزا ملنی چاہئے۔

یورپ سے سے مزید